عورت مارچ تھا یا خواجہ سرا کنونشن؟ : وقاص عزیز

دوستو! یہ دستور_زمانہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں، آگے بڑھتی ہیں؛ جن کے پاس کم از کم آئندہ سو سال کا ورکنگ پلان ہوتا ہے وہ اپنے حال کی حالت سے بھرپور انداز میں انصاف کرتی ہیں.
ماضی قریب میں اس کی سب سے بہترین مثال جمہوریہ چین کی ہے
8 مارچ 2021 کو دنیا بھر میں یوم_ النسا منایا جاتا ہے جس میں محنت کش,مظلوم ،اصل حقوق کی جنگ لڑنے والی خواتین شرکت کرتی ہیں مگر پاکستان میں آوے کا آوے بگڑا ہونے کا عملی ثبوت ہمیں عورت مارچ میں بھی مل جاتا ہے

روشن خیال یا لبرل ازم کی تعریف انسانیت سے جڑا ہونا ہے اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنا ہے اور پاکستان میں اس کی تعریف ہم جنس پرستی کا فروغ دکھائی دیتا ہے

میں عورت مارچ میں یہ سوچ کر شریک ہوا تھا کہ شاید جینوین عورتوں کے حقوق پر بات ہو گی مگر مجھے یہ دیکھ حصہ بقدر_جثہ والی حیرت ہوئی کہ نعرے لگانے والے بھی مرد نما زنخے تھے،ڈانس کرنے والے بھی زنخے ،میڈیا سے بدتمیزی کرنے والے بھی زنخے،کیمرے اور عوام کی توجہ لینے والے بھی زنخے،کھسریانہ حقوق کے بینر اٹھا کر عورت کی حمایت کرنے والے بھی زنخے ،یعنی اسے زنخا مارچ کہا جائے تو موزوں ہو گا

مجھے زنخوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ،جنس،جنسی مسائل اور جنس کا بدلاو ہر ایک کا ذاتی مسئلہ ہے مگر میرا بنیادی مدعا یہ ہے کہ عورت مارچ کی آڑ میں “زنخا مارچ” کیوں کیا جا رہا ہے؟
پاکستان میں “زنخا مارچ” پر پابندی ہے اس لیے عورت مارچ کی آڑ میں فرانس،امریکہ،سویڈن اور ناروے کی این جی اوز سے فنڈ لے کر اگر امرد پرستی کو پاکستانی معاشرے میں فروغ دینا ہے تو حکومت_پاکستان کو اس مارچ پر پابندی لگانی چاہیے
عورت کا اصل استحصال مجھے اس مارچ میں نظر آیا ہے ،معذرت کے ساتھ میرے لبرل ،ترقی پسند دانشور یقینا مجھ سے ناراض ہوں گے مگر یہ میری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ میں وہ بات کروں جو انصاف پر مبنی ہو
خواجہ سراوں کو اپنے حقوق کے لئیے عورت مارچ کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے ان کے لیے الگ فورمز موجود ہیں اگر وہ وہاں سے اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے تو وہ زیادہ اچھا ہو گا نا کہ عورتوں کا بھیس بدل کر ان کے حقوق پر بھی ڈاکہ ڈالیں
جاتے جاتے میں پورے یقین سے کہنا چاہوں گا کہ 70٪ پاکستانی خواتین کو علم ہی نہیں ہے کہ عورت مارچ یا عورت کے حقوق کیا ہوتے ہیں بالکل اسی طرح عورت مارچ کا بنیادی مقصد بھی گمراہی کی طرف لے جایا جا رہا ہے

Leave a Reply