میری ڈائری کا ورق : عافیہ رائے

ٹک ٹاک پر پابندی کا معاملہ..
بہت جلد خیال آگیا آپکو۔۔۔
اور اب پابندی کی ضرورت کیوں محسوس ھوئی ، جب آپ اس زھر قاتل کو اپنے اندر اتار چکے!!
پہلے تو آپ بھاگ کر ھر نئی دوکان پر پہنچ جاتے ہیں اور یہ بھی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ کوئی جانچ پڑتال ھی کر لیں۔۔۔
کسی معیار ھی پر پرکھ لیا جائے ۔۔۔
آخر آپکی نسلوں کا مستقبل ھر نئی ایجاد سے ھے۔
پہلے تو موھنی صورتیں دیکھ کر اور اداوں کے اسیر ھو کے دھڑا دھڑ لائک کے بٹن دبائے جاتے ھیں، اندھا دھند تقلید کی جاتی ھے پھر جب ھوش ٹھکانے لگتے ھیں تو
“اب پچھتائے کیا ھوت” والا معاملہ ھو چکا ھوتا ھے۔
اور گزارش ھے کہ جب فن و مزاح کا کوئی نیا پلیٹ فارم متعارف کرایا جاتا ھے تو میڈیا کی وزارت اور زمیندار ادارے کیوں ھاتھ پہ ھاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں!!
کیا ان کے فرائض میں کسی بھی طرح کا کوئی چیک اینڈ بیلنس اور قیود طے کرنا شامل نہیں؟
آپ اپنی ثقافت کے مطابق حد بندی کی شرائط قائم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ،آپ کی نسلوں پر کیا کیا وار کیے جا سکتے ھیں اور آپ چین کی بانسری بجا رہے ھوتے ھیں۔
ذمہ دار وزارت، ادارے اور والدین سب غفلت کا شکار ھیں اور معاشرے کو بگاڑنے والے عناصر کی تباہ کاریاں اور اپنی اولادوں کو اخلاقی پستیوں جاتا دیکھ رہے ھیں مگر نجانے کس گمان میں!!
اور نئی نسل ھر زھر اپنے اندر ایسے انڈیل رھی ھے جیسے امرت رس ھو ،
کل کون کس کا گریبان پکڑے گا؟
باغ کا مالک مالی کا۔۔۔۔
یا مالی پنیری فروخت کرنے والے کا۔!

Leave a Reply