عورت مارچ کی حقیقت : فرزانہ کوثر

اکبر الہ آ بادی نے کہا تھا

بے پردہ کل جو نظر آ ئیں چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے تمہارا پردہ کہاں گیا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

عورتوں کے حقوق کا عالمی دن جو کہ 8مارچ کو منایا جا تا ہے اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ عالمی دن عورتوں پر ہونے والے تشدد،جبر،ظلم وزیادتی اور ان کے حقوق کے لیے شروع کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد دنیائے عالمگیر میں عورت کی اہمیت اور اور اس کے حقوق کو اجاگر کرنا تھا. اسلام سے پہلے عورت کو کوئی حقوق حاصل نہ تھے اور لوگ بیٹی کے پیدا ہوتےہی زندہ دفن کر دیا کرتے تھے. عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہ تھا،عورت کو جو مقام اسلام نے بخشا اسکی نظیر دنیا کے کسی بھی مذہب میں نہیں ملتی،پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور مسلم عورتوں کے لئے اس سے بڑے فخر کی کوئی بات نہیں کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں نے مسلم عورتوں کے پیٹ سے جنم لیا اور سب سے بڑی خوش نصیبی کہ حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللّٰہ عنہ جو کہ زوجہ کربلا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خاندان کی سربراہ اور عورتوں کی جنت کی سردار ہیں، عورت وہ ہے جس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دے دی گئی ہے .عورتوں کے ہر روپ میں خدا ہے.

ایک یہودی نے کسی صحابی سے سوال کیا کہ دس جگہوں پر اگر بچوں کو خطرہ ہو تو تمہارا خدا کسی ایک کو ہی بچا سکتا ہے صحابی رسول نے جواب دیا کہ جہاں آ پکی سوچ ختم ہو تی ہے وہاں سے اسکی تدبیری شروع ہو تی ہیں خدا کا دوسرا نام ماں ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاں میں نہیں ہو تا وہاں ماں ہوتی ہے .
عورت کی تقدیس کی کہانی بہت لمبی ہے جہاں تک بات عورتوں کے حقوق کی ہے تو الحمد للّٰہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں. زندگی کے ہر میدان میں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں. اور ان کو ان کے کسی بھی حق سے محروم نہیں رکھا گیااسلامی معاشرے میں جتنی عزت عورت کو مرد دیتا ہے اس کا تصور بھی کسی دوسرے مذہب میں ممکن نہیں ہے . اسلام اخلاقیات کا درس دیتا ہے اور کچھ حدود عورتوں اور مردوں دونوں پر فرض کر دی گئی ہیں،مسلم عورت کو گھر کی ملکہ کا رتبہ حاصل ہے جبکہ مغربی ممالک میں عورت کا جو مقام ہے اور اسکو کیسے ٹشوز پیپرز کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور اس کو معاشی طور پر جتنا ذلیل ہونا پڑتا ہے یہ پوری دنیا جانتی ہے عقل کی اندھی کچھ عورتیں جو چند پیسوں کی خاطر آ ج سڑکوں پر نکل کر اپنی اور اپنے خاندان کی عزتوں کے جنازے نکال رہی ہیں، انکو تو عورت کے مطلب کا بھی نہیں پتہ کہ عورت کا تو دوسرا نام ہی پردہ ہے.

آزاد ی مارچ کے نعرے لگانے والی یہ عورتیں کہلوانے کے بھی لائق نہیں ہیں میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگانے والیوں کی اوقات ہی بس وہی ہے جو وہ کر رہی ہیں اور جو وہ چاہتیں ہیں. آ زادی مارچ میں شامل کوئی بھی عورت مسلم نہیں ہے کیونکہ کلمہ حق پڑھنے والی مسلمان عورت چاہے جیسی بھی ہو اس کا ضمیر کبھی ایسے الفاظ بولنا تو دور کی بات ہے سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہےاس غلیظ آ زادی مارچ کے پیچھے جو ایجنڈے کام کر رہے ہیں وہ اسلام اور پاکستان کے حریف کی بہت بڑی سازش ہے کچھ انسانی حقوق کی آ ڑ میں این جی اوز ہیں جو کہ فنڈ نگ کے زریعے ایسے گھٹیا مارچ کروا کر اسلام کومنفی طرز پر دنیا کے سامنے پیش کر نا چاہتی ہیں کون مائی کا لال کہتا ہے کہ مسلم عورتوں کو ان کے حقوق نہیں ملتے،سیاست میں وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ،پاکستان کے قائم کردہ قیادت میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا کردار، آرمی آ فیسرز ،پی آ ئی ا ےکی پائلٹ،کیپٹن،کالج و یو نیورسٹی کی لیکچرارز،بینکوں میں کام کرنے والی ایریا مینجرز،اسلام کو پریزنٹ کرنے والی سکالرز،غرضیکہ زندگی کا کونسا ایسا شعبہ ہے جس میں مسلم عورت مرد کے برابر نہیں کھڑی،مارچ کرنے والی گندی عورتوں سے مسلم عورتوں کاکوئی تعلق نہیں ہے. یہ سب غیر مسلم حریف کی سازش ہے،اگر ہم مسلم عورتیں تم جیسی دو ٹکے کی عورتوں کے سامنے کھڑی ہو گئی تو تمہارے پیچھے تمہارا حال پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہو گا اور پھر ہماری آ واز کوئی بھی برداشت نہیں کر سکے گا،اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت اور برداشت ہے کہ وہ ہماری آ واز کو پوری دنیا میں پہنچا سکے۔
موئرخہ08-03_2021کو نزد ڈی چوک اسلام آ باد مارچ میں شریک کچھ بازاری عورتوں نے اپنی شلواریں اجتماع گاہ میں لٹکا دیں۔lesbian, transgender,and bisexual کا جھنڈا تک لہرایا گیا،اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تشخص کو پامال کیا گیا،غرض ہر قسم کی گستاخی ،بد اخلاقی ،اور بیہودگی کا تماشہ سرِ عام کیا گیا۔مذکورہ جرائم میں شرکاء اجتماع کے علاؤہ ماروی سرمد،فنڈنگ کرنے والی این جی اوز۔راولپنڈی و اسلام آباد کی سکونتی قادیانی لابی،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد،چیف کمشنر اسلام آباد،سیکرٹری داخلہ اسلام آباد نے بھی مزکورہ اجتماع منعقد کروا کر بلواسطہ اعانت جرم کا ارتکاب کیا ہے اس عمل سے عالم اسلام اور بالخصوص کروڑوں پاکستانی مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اسلام اور مذہب کی شدید ترین گستاخی کر کے فحاشی و عریانیت کو فروغ دینا ناقابل معافی جرم ہے جس پر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انصاف کی بالادستی ہو.

نوٹ : ”ہم دوست” کا اس تحریر اور خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Leave a Reply