جو لوگ اپنی روایت سے ٹوٹ جاتے ہیں : انعام کبیر

بذریعہ Hum Dost
464 مناظر

تحصیل ڈسکہ میں واقع ٹھکرکے سمادھی کے صدر دروازے سے ملحقہ دیواریں جو کبھی یہاں سے گزرنے والوں کو دعوتِ نظارہ دیتی تھیں وہاں اب اپلے چسپاں ہیں۔

اس کے چھوٹے چھوٹے کمرے جو اب گوبر سے بھرے ہیں کبھی مراقبہ گاہیں تھیں۔ اس کی دیواروں پر بنے بیشتر نقش و نگار محو ہو چکے ہیں اور رہے سہے اجزائے آفرینش زوال آمادہ ہیں۔

یہ عبادت گاہ کسی زمانے میں وسیع و عریض تھی اور اس کے چہار سمت پھیلے کھیت کبھی اس کا آنگن تھے۔ مگر اب اس کا رقبہ سکڑ کر ان مراقبہ گاہوں تک محدود ہو گیا ہے۔ چاردیواری ڈھے چکی ہے اور تمام عمارت خستہ حالت میں ہے۔ اس عمارت پر مقامی لوگوں کے قبضے اور اس کی حالت سے پتہ چلتا ہے کہ محکمۂ اوقاف کی اس پر چنداں نظر نہیں گئی اور نہ کسی نے اسے محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔

کافی جستجو کے باوجود مجھے اس کی تاریخ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ مگر سمادھی کے در و دیوار اور محرابیں مغلیہ طرزِ تعمیر کی چغلی کھاتی ہیں۔

اس کھنڈر کی حالتِ زار نے طبیعت کو اداس تو کیا ہی تھا مگر جب میں اس کی مرکزی محراب میں داخل ہوا تو اداسی کے ساتھ حیرت کے جذبات بھی نمودار ہوئے۔ سمادھی میں قبر بنی تھی۔قبر پر ایک پھٹی ہوئی سرخ و سبز چادر تھی۔ سرہانے تیل کی بوتل اور دو تین بجھے چراغ پڑے تھے۔ ایک دیوار پر سیلن زدہ کاغذ تھا جس پر درود کی عبارت لکھی ہوئی تھی۔ یہ سب دیکھ کر ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوئے۔ دماغ نے کہا کہ ہندوؤں کی اس سمادھی میں مسلمان کی قبر کہاں سے آئی؟

ابھی اسی حیرت میں مبتلا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کسی مقامی سے کچھ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کوئی افواہ ہی سہی، کچھ تو پتہ چلے گا۔ مگر اتنے میں میرے ایک سیاح دوست عمران احسان کی کال آ گئی جو پہلے اس جگہ کو دیکھ چکے تھے اور مقامیوں سے اس کے بارے میں بات کر چکے تھے۔

ان کی مدد سے پتہ چلا کہ مقامی لوگوں میں مشہور ہے کہ یہاں کوئی امیر کبیر ہندو خاندان آباد تھا۔ جس کے بزرگوں نے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے اسے تعمیر کروایا تھا۔ برِ عظیم کی تقسیم کے بعد وہ خاندان ہجرت کر کے بھارت چلا گیا۔

تقسیم کے بعد اس عمارت کو تدریسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے بعد کسی مسلمان بزرگ نے اسے مستقل قیام گاہ بنا لیا اور اپنا وقت یہیں گزارنے لگا۔ چناں چہ اس کی وفات کے بعد اسے یہیں دفنا دیا گیا۔ بعض لوگوں نے اسے مزار بنانے کی بھی کوشش کی مگر ناکام رہے۔

یہ تہذیبی ورثہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جو تھوڑے بہت آثار باقی ہیں اگر ان کی حفاظت نہ کی گئی تو یہ جلد معدوم ہو جائیں گے۔

زمانہ ان کو بہت جلد مار دیتا ہے
جو لوگ اپنی روایت سے ٹوٹ جاتے ہیں

Related Articles

Leave a Reply