کیا جرائم کی ذمہ دار ریاست ہے؟ : جہانگیر اشرف

اس موضوع پر بردار عمران بھنڈر کی ایک تحریر سے اقتباس حاضر ہے : ”ریاست جرم کی ذمہ داری نہیں لیتی، بس ہاتھ کاٹ کر فرض پورا کرنے کا یقین دلاتی ہے۔ ریاست اپنے جرائم افراد میں منتقل کرتی ہے اور پھر ان جرائم کو افراد کے جرائم گردانتی ہے، لوگوں کو یہی یقین دلاتی ہے کہ جرائم کے فروغ میں اس کا کوئی کردار نہیں، اور پھر افراد کو سزا کی اذیت دے کر خود مبرا ہو جاتی ہے اور اپنے وجود کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سسٹم کو بحال رکھنے والی ریاست کے ہاتھ ہی نہیں، سر بھی کاٹ دیا جائے، کیونکہ ہر برائی، ہر شر، ہر گناہ، ہر بدکاری، ہر زناکاری، ہر حیوانیت، ہر بربریت، ہر وحشت کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ آگے بڑھیں اور اس جبر و دہشت کے آلے کو پاش پاش کریں”.

ریاست جب مہنگائی اور ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن کرتی ہے تو اس سے مڈل کلاس لوئر مڈل کلاس اور غربت کے لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے ۔ عام آدمی کو جب محنت و مشقت اور ساری دوڈ دھوپ کے بعد بھی دو وقت کی روٹی میسر نہیں آتی تو وہ چوری ڈکیتی ملاوٹ اور رشوت جیسے جرائم کی طرف مائل ہوتا ہے۔ ہر شخص چوری ڈکیتی ملاوٹ اور رشوت کو برا سمجھتا ہے مگر حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ ان جرائم کا مرتکب ہوتا ہے۔ ان تمام جرائم کی جڑیں ریاست کی بنائی ہوئی استحصالی پالیسیوں کے اندر سے نکلتی ہیں۔ دوسری طرف امیر طبقہ جاگیردار تاجر صعنتکار حکومتی اہلکار سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی کرپشن اور ٹیکس چوری عام آدمی کو بھی ان جرائم کی طرف مائل کرتی ہے اور عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ان جرائم کے کرنے سے ہی ترقی ممکن ہے اسلیے وہ ان جرائم کا مرتکب ہوتا ہے۔

قتل، زمینوں پر ناجائز قبضہ، لوگوں کے ساتھ فراڈ، زناکاری تب ممکن ہوتی ہے جب ریاست کی اہم ادارے پولیس، انوسٹیگیشن ایجنسیاں آزادی اور ایمانداری کے بجائے طاقتور افراد اور اداروں کی منشاء اور مفادات کے لیے کام کرتے ہوں۔ اس کے علاوہ ریاست کا اہم ستون عدلیہ انصاف اور آئین کی پاسداری کرنے سے قاصر ہو یا اس کو فیصلہ میں ضرورت سے زیادہ تاخیر بھی جرائم کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جب تک ریاستی ادارے خود کو آئین کا پابند اور حکومتی پالیساں عوام الناس کے مفادات کو سامنے رکھ کر تشکیل نہیں دیں گے اس وقت تک ان جرائم کو ختم کرنا تو درکنار کم کرنا بھی ممکن نہیں کیونکہ ان تمام جرائم کی جڑیں ریاستی پالیسیاں اور طاقتور طبقوں کے استحصالی کردار کے اندر پنہاں ہیں۔

Leave a Reply