عورت مارچ؛ تاریک رات میں روشنی کی کرن :میجر محمد عارف

دنیا بدلی مگر پاکستان کسی بھی قیمت پر بدلنے کو تیار نہیں ھے اور اپنی دقیانوسیت کو قائم رکھنے میں پرعزم ھے۔ یہاں جہالت، غربت اور استحصال کے اژدھے مسلسل انسانیت اور انسانوں کو نگلتے ہیں۔ ریاستی طاقت کے زور پر “عقیدے” سے عقل کو کچلا جاتا ھے۔ اگر یہ روش نہ بدلی تو ہر نیا پاکستان ہر پرانے پاکستان سے بھیانک تر ہوتا جائے گا۔ جیسا کہ 73 برسوں سے ہوتا آرہا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کی ایک بڑی وجہ قحط الرجال ھے۔ عسکری اسٹیبلشمنٹ کی فیکٹری نے تازہ افکار و نظریات کو بے رحمی سے جلا کر خاکستر کر دیا۔ سول نظام کی کونپل کو پھوٹنے سے پہلے مسل دیا۔

چند روز پہلے ہونے والے عورت مارچ کو میں اس لئے گراںقدر سمجھتا ہوں کہ مذہبی اور ریاستی status quo کے خلاف کچھ آوازیں ابھریں۔ ہمیں ان آوازوں میں آواز ملا کر انہیں مضبوط بنانا ہو گا۔ ایک اینکر نے تو براہ راست مذہبی روایت اور شرکا کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا جو اس سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ اینکر نے پوچھا خواہ عذاب آجائے؟ نوجوانوں نے اعتماد اور جرات سے جواب دیا چاہے آجائے۔ میں اس تازہ آواز کو سن کر خوش ہوا۔ ویسے بھی کونسا ایسا عذاب ھے جو پاکستان میں مذہب کے سرکاری و غیر سرکاری طور پر موجود رہنے کے باوجود نہیں آیا۔ پاکستان میں آواز کو جبر سے کچلنے کے اس بدترین دور میں ریاست شرکا کے خلاف مقدمے بنانے کی تیاری میں ھے۔ اسی لئے مذہبی قوانین ہیں جن کا مقصد لوگوں کو کچلنا ھے۔ آجکل عذاب کی عذاب الہی والی مذہبی شکل لاگو نہیں ہیں۔ آجکل عذاب غربت، محکومی اور سماجی عدم انصاف کی صورت میں مسلط ہوتا ھے۔

امارات کی مثال سامنے ھے۔ وہ بھی مسلمان ہیں مگر انہوں نے اسلام کو اپنے لئے اور غیر ملکیوں کےلئے موت کا پھندہ نہیں بنایا ہوا ھے۔ وہاں مذھب بھی ہے اور لوگوں کی اپنی زندگی بھی ھے ۔ سعودی عرب بھی عورتوں کو آزادی دے رہا ھے۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ مزہب سے لوگوں کا مزید دم نہ گھٹنے دے اور ملا مولویوں سے بھی ان کو نجات دلوائے۔ ان کے ضعیف قصے کہانیوں کا گھر عجائب گھر میں بنا دے۔ اگر نہیں تو ان سے تھوڑا فاصلہ ہی اختیار کر لے۔ میرا خیال ھے بانی ء پاکستان کا بھی یہ ہی منشا تھا۔ اس کی روح کی راتوں کی اڑی ہوئی نیند لوٹا دے۔
بہادر عورتوں کو سلام اور پیغام کہ دنیا میں عورتوں نے حقوق کےلئے emancipation wars یعنی طویل جنگیں لڑی ہیں۔ یہ ملک سب سے زیادہ ظالم ھے لیکن عزم اور روشن خیالی آپکی زاد راہ ہیں، خوبصورت سورج ضرور طلوع ہوگا۔
پہلی دفعہ اس ملک کی لاش کی پتلیوں میں خفیف سی جنبش محسوس ہوئی ھے۔

Leave a Reply