سیاسی بساط پر زرداری کی چال، کیا ہونے جارہا ہے؟ : جہانگیر اشرف

زرداری کی سیاسی چال حکمت ہے یا پھر اسٹبلیشمنٹ سے مفاہمت ، اس کی مجھے خبر نہیں۔ زرداری کے استعفےٰ دینے سے انکار نے پی ڈی ایم کے بیانیہ کو مٹی میں ملا دیا ہے اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ مجھے اس بات میں ذرا شک نہیں کہ ہمارے ملک کے سیاسی ورکر اپنی اپنی پارٹیوں کے ذہنی غلام ہیں۔ ان کا ویژن صرف اپنے لیڈر کی ہر صحیح یا غلط بات کو ہر صورت میں جسٹیفائی کرنا ہوتا ہے۔ اس ذہنی غلامی کے ہوتے ہوئے پاکستان میں آئین کی حکمرانی، جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری ممکن نہیں ہے۔ ہماری قوم اپنے سیاسی، ذاتی، گروہی اور فقہی مفادات سے آگے دیکھنے سے معذور نظر آتی ہے۔

اس ساری صورتحال میں زرداری صاحب کے استعفےٰ دینے سے انکار نے ایک بات کو واضح کر دیا ہے کہ موجودہ بدحالی کا بوجھ عمران اور باجوہ کو ہی اٹھانا پڑے گا اور اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے اپوزیشن کے کندھے اسٹبلیشمنٹ کو دستیاب نہیں ہیں۔ جوں جوں یہ بوجھ بڑے گا اسٹبلیشمنٹ اور خان دباؤ میں آکر مزید حماقتیں کریں گے جو کہ انکے زوال کی اصل وجہ بنے گی۔ اگر اس طرح ہوا تو اسٹبلیشمنٹ اپنی آئینی حدود میں آ سکتی ہے بصورت دیگر اپوزیشن کے کندھے فراہم کرنے سے ساری بدحالی کا الزام اپوزیشن پر لگے گا . باقی زرداری صاحب کی سیاست اپنی پارٹی کے مفادات کے زیر اثر ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام اور ن لیگ کی سیاست انکے سیاسی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی تابع ہے۔ زرداری صاحب ن لیگ کو سپیس پیدا کر کے نہیں دیں گے. ن لیگ اور جمعیت کو اپنے بل بوتے پر اپنے لیے سپیس پیدا کرنے ہو گی۔ آنے والا وقت ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ کس کی حکمت عملی درست سمت میں تھی۔

Leave a Reply