میری ڈائری کا ورق :عافیہ رائے

پاکستان میں مسائل کا سونامی آگے بڑھتے ھوئے ھر کسی کو اپنی لپیٹ میں لے رھا ھے۔
اداروں کی ناروائی کی شکایت لیکر پہنچو تو پتہ چلتا ھے کے ان کے اپنے ملازمین ہی ان سے ھزارو ں گلے شکوے لئے بیٹھے ھیں۔
واپڈا سے نالاں ھم ،تم ہی نہیں وہ نچلے درجے کے ملازمین بھی ھیں جو اپنی جانوں کی بازی لگا کے اس ادارے کی خدمت کر رہے ھیں ۔
جب ایک لائن میں بجلی کے پول پر چڑھ کر تاروں سے الجھتا ھے تو اسکی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ھوتی ، اور اسکا سبب ان کے پاس سہولتوں کی کمیابی ھے۔
کوئی دستانے نہ ملنے کی شکایت کا شکار ھے ، تو کسی کے پاس ربڑ کے مخصوص جوتے اور موزے نہیں اور واپڈا حکام یوں انکے حقوق پر کنڈلی بنائے بیٹھے ھیں جیسے یہ انکی ذاتی ملکیت ھے۔
اور پتہ نہیں ان لوازمات کی ادائیگی وہ خود کرتے ھیں جسکی وجہ سے نچلے ملازمین کو انکے سامنے فریاد کرنی پڑتی ھے اور بدلے میں انکو کفن اور قبر حصے آتا ھے۔
سپن پول یعنی گول پول لائن موت کا سامان ھے۔
سونے پے سہاگہ یونین والے بھی اعلی افسران کی پذیرائی حاصل کرنے میں ان چھوٹے ملازمین کو نظر انداز کر دیتے ھیں اور سب سے بڑی حق تلفی ان کی کوٹہ کی بنیاد پر ھونے والی نوکریوں پر بھی شب خون مارا جاتا ھے۔ انکی شنوائی نا ادارے میں، نا حکومتی سطح پر اور نا ھی پرنٹ یا ڈیجیٹل میڈیا پر ان کے حق میں آواز اٹھاتا ہے۔
روز نجانے کتنے اپنی جان سے ھاتھ دھو بیٹھتے ہیں لیکن کسی اخبار یا میڈیا لیول پر ان کی موت کی خبر جگہ نہیں پاتی۔

کس کس چیز کا ماتم کیا جائے !

Leave a Reply