نفسیاتی الجھنیں: نعمان ذوالفقار

رانی شیشے کے آگے بیٹھی اپنے چھوٹے بھائی کی دوسری شادی کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ اُس نے بارات والے دن پہننے کے لیے وہ لال رنگ کا سوٹ چُنا تھا جو پچھلے ہی ہفتے رانی کی دوست نے رانی کی 27ویں سالگرہ پر اُسے تحفے میں دیا تھا۔ اس رنگ کے ساتھ اُس کو ویسے ہی عجیب سا لگاؤ تھا مگر کیوں ؟ یہ شاید وہ بھی نہیں جانتی تھی۔ چھوٹے بھائی کی پہلی شادی 20 سال کی عمر میں ہی ہو گئی تھی لیکن وہ فقط 3 سال چل سکی پھر علیحدگی ہو گئی اور ایک سال بعد ہی اُس کی دوسری شادی طے کر دی گئی تھی۔

دِن گزر گیا تمام معاملات خیریت سے طے پا گئے، رات دیر تک رانی کسی ادھیڑ بُن میں کروٹیں لیتی رہی اور کافی لیٹ اُس کو نیند آ گئی۔ اگلی صبح اٹھتے ہی وہ نئی نویلی دلہن کے کمرے میں چلی گئی وہاں مُحلّے اور خاندان کی اور بھی عورتیں موجود تھیں۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہاں موجود ایک عورت نے دلہن سے پوچھ لیا “سنا سہیلیے کِداں ریا” (سُناؤ سہیلی کیسا رہا) دلہن تھوڑا شرما گئی اور رانی اُن کے پاس بیٹھی اُن سے بہت دور پہنچ گئی۔ وہ پچھلے کچھ سالوں سے ایسی ہی تھی بیٹھی کہیں ہوتی پہنچ کہیں جاتی۔

شادی سے تیسرے دن واپس جاتی ایک مہمان خاتون نے رانی کی ماں سے کہہ دیا کہ اب رانی کا بھی کہیں دیکھ کر کر دو دیر نہ کرو تو ماں نے جواب دیا کہ میں نے اِس کے باپ کو کہا ہے وہ کہتے ہیں کہ جلد ہی یہ ذمہ داری بھی پوری کر دینی ہے (ماں نے پچھلے 4 سال سے رٹا جملہ دہرایا اور فرض سے سبکدوش ہو گئی) ایک رات رانی کو کچھ عجیب سا محسوس ہُوا وہ بہت ڈر گئی اُس نے اپنی ماں کو اور ماں نے باقی گھر والوں کو جگایا۔ اگلے دِن مُحلّے کی عورتیں ایک دوسرے کو کہہ رہی تھیں ” تینوں پتا رانی نو سایہ ہو گیا اے” (تمھیں پتا ہے رانی پر جادو ہو گیا ہے)

Leave a Reply