آڑی ترچھی لکیریں: عامر انور

بذریعہ Hasnain
114 مناظر

وہ بہت پرجوش نظر آرہے تھے۔ میری تخلیقی صلاحیتوں کو وہ نہ صرف سراہتے بلکہ مسلسل حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ وہ ممکنہ حد تک رہنمائی بھی کرتے۔ وہ ایک بہت ہی شاندار مصور ہیں۔ رنگ گویا ان کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ خدا نے اپنی صفت المصور سے ان کو بہت وافر حصہ عطا کیا ۔ ان کا برش جب کینوس پر رنگ بکھیرتا تو زندگی سمٹ کر ایک خوبصورت تصویر کی شکل اختیار کرلیتی۔

مجھے ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ اپنی تیس پینتیس سال کی ریاضت محض للہ اس شعبے کے طالبعلموں میں تقسیم کررہے ہیں. اور نہ صرف ان کو سکھا رہے ہیں بلکہ ان میں مسابقت پیدا کرکے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخش رہے ہیں ۔ اور ان میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والوں کو اپنی جیب سے انعام بھی دیتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد یہی تھا کہ ان نو آموز مصوروں کو محسوس ہوکہ ان کے فن کی قدر کے ساتھ ساتھ ان کو یہ امید پیدا ہو کہ ان کا آرٹ ان کی آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مجھ پر بھی خدا کی مہربانی کہ صورت گری ہو کہ منظر کشی۔ تجرید ہو یا قوس قزح کے رنگ سے کچھ کشید کرنا ہو۔ سب ایسا پینٹ ہوجاتا کہ دیکھنے والی آنکھ کچھ دیر کو ٹھہر جاتی۔

اپنے نام پّری شان کی طرح ان کا کام بھی ایک الگ پریوں جیسی شان رکھتا۔ سکھا کر ان کے چہرے پر جو طمانیت ہوتی وہ ان کے اخلاص پر گواہ ہوتی۔ بعض تکنیکی نوعیت کی غلطیاں پّری شان صاحب نے میری اس طور درست کی کہ ان غلطیوں کے نتائج تو مجھے نظر آتے لیکن ان کو دور کرنے کی تدبیر سمجھ نہ آتی۔ ان کا معترف میں تو کیا اک زمانہ تھا لیکن ان کی اس باریک بین نظر اور کام کی سمجھ دانی نے مجھے ان کا پرستار بنادیا ۔

اب یہ عالم تھا کہ اگر کسی دن ان سے بات نہ ہو تو دن مکمل نہیں ہوتا تھا۔ میں پّری شان صاحب کے قریبی رفقاء میں شامل ہوگیا۔ ان کے رویے میں بھی میرے لیے محبت چھلکنے لگی تھی۔ میرے کام کو وہ بہت گہرائی اور ناقدانہ نظر سے دیکھتے ۔ ان کو مجھ میں امید کے چراغ جلتے نظر آرہے تھے۔

انہوں نے مجھے اپنی آرٹ گیلری کے منتظمین میں شامل کرلیا تھا۔ ان کے اس عمل سے کچھ لوگوں کی آنکھوں میں میرے لیے ستائش نظر آئی تو کچھ آنکھیں حسد کی آگ میں جلتی محسوس ہوئی۔ میری عقیدت پّری شان صاحب سے ان کے فن اور سیکھنے سکھانے کو لے کر ہر روز عروج کی نئی بلندیوں کو چھورہی تھی۔ اور پھر یوں ہوا کہ بعض حاسدین نے کینوس پر آڑی ترچھی لکیریں لگانا شروع کردیں ۔ یہ لکیریں آہستہ آہستہ موضوعات کا روپ دھارنے لگی۔ ابتدا میں محض ایک آڑی نظر آنے والی باریک لکیر وقت کے ساتھ اس قدر نمایاں نظر آنے لگی کے اس کے ارد گرد مخالف نظر آنے والے زندگی کے خوشنما رنگ پھیکے لگنے لگے۔

کچھ نظروں نے ان کو جلد بھانپ لیا لیکن بعض نے مصلحتاً خاموشی اختیار کرلی تو بعض نے خوشامدانہ رویے کو اصلاح پر ترجیح دی۔ معاملہ چلتا رہا اور پھر یہ آڑھی ترچھی لکیریں لگانے والے حاسدین میرے چاروں طرف بیٹھ گئے۔ میں ان کے درمیاں ہر طرف سے گِھر چکا تھا۔
میں نے اس ساری صورتحال میں مدد بھری نظروں سے پّری شان صاحب کی جانب دیکھنا شروع کردیا۔ لیکن مجھے قدرے تاخیر سے لیکن احساس ہوگیا کہ یہ آڑھی ترچھی لکیریں جو موضوعات بن چکی تھی انہوں نے پّری شان صاحب کے سر کے اوپری حصے کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ یہ لکیریں جب عنوان بن گئی تو اس نے بہت موٹی موٹی زنجیروں کا روپ دھار لیا تھا. یہ اس قدر مضبوط نظر آرہی تھی کہ مشکل نظر آرہا تھا کہ پری شان صاحب ان زنجیروں کو توڑ کر اپنے سر کے اوپری حصے کو ان سے آزاد کرواسکیں۔

مصلحت اور خوشامدی ٹولے کو یہ باریک آڑھی ترچھی لکیریں تو نظر آرہی تھی لیکن حیرانگی یہ تھی کہ پّری شان صاحب کے سر پر حصار قائم کرتی موٹی لوہے کی زنجیریں اس ٹولے کو نظر نہیں آتی۔ اب یہ طے تھا کہ یہ زنجیریں صرف میں دیکھ رہا تھا یا حاسدین ۔ لیکن میرا حوصلہ اس وقت ٹوٹ گیا جب پَری شان صاحب کو میں نے بارہا توجہ دلائی لیکن وہ ان زنجیروں کو دیکھنا تو دور ہاتھ اٹھا کر محسوس بھی نہیں کرنا چاہ رہے تھے۔

جب حاسدین کو یقین ہوچلا کہ یہ زنجیریں باقیوں کی نظروں سے اوجھل ہیں تو انہوں نے اپنا گھیرا مجھ پر مزید تنگ کرنا شروع کردیا۔ اُدھر جب پَری شان صاحب نے ان زنجیروں میں قید سر سے بولنا شروع کیا تو آگ لگ گئی۔ اس آگ میں صرف میں جل رہا تھا۔ کیونکہ جو باقی موجود تھے ان میں سے بعض خوشامد کی آگ میں جل رہے تھے تو کوئی مصلحت کی۔ جو بچے وہ تو حسد کی آگ میں جل کر پہلے ہی راکھ ہوچکے تھے۔ اب صرف میں بچا تھا سو میں بھی جل گیا۔

اب آرٹ گیلری میں لوگ آتے تو ہیں اور وہ کینوس پر جس کلر سے بھی اسٹروک لگائیں وہ کالا رنگ اختیار کرلیتا ہے۔ یہاں تک کہ سب نے زندگی کے سارے حسین رنگ اس کینوس پر انڈیل دیے لیکن آخر میں ایک ہی رنگ باقی رہ جاتا ہے۔ اور وہ تھا کالا!

اور اس سیاہ کالے رنگ نے اب ہر روشنی کو نگل لیا ہے۔ اب وہاں روشنی کے لیے صرف آگ جلائی جاتی ہے کیونکہ آگ وہاں وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ کیونکہ حاسدین ، مصلحت پسند اور خوشامدی پسندوں کے ٹولے کا وہاں راج ہے جو موقع کی مناسبت سے اپنی اپنی آگ جلاتے رہتے ہیں۔
اور ہاں پَری شان صاحب کو اب اپنے سر کے اوپری حصے کے ارد گرد موٹی زنجیریں نظر آتی ہیں۔ لیکن وہ اس قدر لاغر ہوچکے کہ ان زنجیروں کو محسوس کرنے کے لیے ہاتھ اٹھانے کی بھی ان میں سکت نہیں.

Related Articles

Leave a Reply