میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

بذریعہ Hasnain
200 مناظر

تھیٹر کا عروج و زوال ، ذمہ دار کون : تھیٹر کا عروج تھا وہ زمانہ جب پاکستان نیشنل آرٹس کونسل اور اکیڈمی آف لیٹرز جیسے ادبی اور ثقافتی ادارے قائم کئے گئے، الحمراء آرٹس کونسل کو نئی عمارت دی گئی، تھیٹر میں غیر ملکی ادب کو ڈراموں کی صورت پیش کیا گیا، سٹوڈنٹس تھیٹر کا صحتمندانہ قیام وجود میں آیا، اسی زمانے میں سرمد صہبائی اور نجم حسین سید نے ہم عصر
تھیٹر کی بنیاد رکھی اور یہی وہ دور تھا جب پاکستان میں حقیقت پسند حالات سے مطابقت رکھنے والے کھیل پیش کیے جاتے تھے ، کمال احمد رضوی بھی اسی دور کے تھیٹر کے عروج کے ضمن میں ایک باکمال نام گنا جاتا ہے.

الحمرا آرٹ کونسل کی عمارت

پھر مارشل لاء کے تاریک دور کا سامنا ہوا تھیٹر کو جب ہر قسم کی ثقافتی سرگرمیوں کو قفل لگا دیا گیا حتی کہ سٹوڈنٹ تھیٹر بھی بند ہوا اور سیاسی کارکنان کی طرح ادیب ، شاعر بھی پابندی ء سلاسل کے خوف سے روپوش ہونے لگے. علماء، فضلاء، شعراء اور ادیب کی دستار کو ان کی گردنوں میں ڈال کر انھیں گھسیٹا گیا، بھٹو صاحب کی ایک یاد کو برقرار رکھتے ہوئے نیشنل آرٹس کونسل میں کمرشل مقاصد کے تحت ڈراموں کا سلسلہ رواں دواں رہا اور یہ کسی برجستہ جملے پر مبنی اور بغیر ریہرسل کے ڈرامے ہوتے تھے جنھیں سنجیدہ تھیٹر کی جانب سے حقارت کی نظر سے دیکھا گیا البتہ عوامی طبقہ جس میں تاجر طبقہ کی پسندیدگی حاصل رہی.

کمال احمد رضوی اور فیض احمد فیص: ایک ڈرامے کے سیٹ پر

یہی سے آغاز ہوا کامیڈی تھیٹر کا جس کے روح رواں میں امان اللہ ، سہیل احمد اور عمرشریف جیسے قابل قدر فنکار تھے جن کے برجستہ مگر اخلاقیات کی قدروں میں پابند فقرے اور جگت عوام کی داد سمیٹتی تھی، جگت قدیم روایت تھی کتھارسس کی جو اس خطے میں استعمال ہوتی آرہی تھی مگر آنے والے دور میں یہ جگت ٹھٹھے اور ذو معنی جملوں کی شکل اختیار کرنے والی تھی جیسے کہ جمالیاتی سینما میں گنڈاسہ اور بڑھک جیسے گھس بیٹھئے شامل ہو گئے تھے، یوں تھیٹر زوال کی راہ پر آن کھڑا ہوا اب ادب سے لگاؤ رکھنے والوں کی جگہ تماش بینوں نے لے لی اور بیہودہ جملے بازی اور لچر پن نے ادب کو گھسیٹ کر تھیٹر سے باہر نکال پھینکا اور مہذب اور شائستگی پسند مزاح نگار اور فنکار اس تھیٹر سے راہ و رسم ختم کرتے کرتے بالکل کنارہ کش ہوگئے، اور اسی سے راہیں کھلیں فحاشی اور لچر پسند تھیٹر کی جب محض خوبصورت چہرے اور ننگے پن کو ذوق بنا لیا گیا، اب تھیٹر کا ادب سے دور دور کا کوئی واسطہ نہ رہا تھا. اب تھیٹر ڈرامہ محض مجرا بن کہ رہ گیا جہاں انتہائی بیہودہ ڈانس اور فحش کلامی کا طوطی بول رہا ہے.

شاہد ندیم کے پیش کردہ ڈرامہ، دارا کا ایک منظر

اب وہ تھیٹر قصہ پارینہ ہوگیا جب اجو کا تھیٹر جیسے چلانے والے مدیحہ گوہر اور انکے شوہر شاہد ندیم جیسے شستہ فنکار تھیٹر کرتے اور شرفا اپنی فیملیز کے ساتھ ڈرامے دیکھنے آتے تھے،اب کے تھیٹر کا معیار تو شاید کسی نائکہ کے کوٹھے سے بھی ابتر ہوچکا ہے وہاں بھی شاید کوئی حد مقرر ہوگی مگر اب تھیٹر پر تو شاید اگلے کچھ وقت میں لباس کی زحمت بھی نہ کی جائے۔

Related Articles

Leave a Reply