ع اور غ : عامر انور

یہ میرے لیے بہت حیرانگی کی بات تھی۔ میں نے قاعدے میں دیکھا تو انگور کی تصویر نظر آ رہی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ لکھا گیا حرف ” ا ” جس سے وہ لفظ شروع ہوتا ہے مجھے اس کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
میں پرائمری اسکول کا استاد تھا۔ پریشانی قدرتی تھی کہ میں لفظوں کی شناخت اچانک بھول چکا تھا ۔ تمام حروف آپس میں گڈ مڈ ہوچکے تھے۔ میں شکر ادا کررہا تھا کہ اگر یہ تصویریں نہ ہوتی تو میں ان حروف سے شروع ہونے والی چیزوں کے نام بھی کیسے بتا سکتا۔
جب پہلی کلاس کے بچے نے مجھے سے پوچھا کہ یہ کیا ہے استاد جی۔ تو میں خاموش ہوگیا کیونکہ مجھے حقے کی تصویر تو نظر نہیں آرہی تھی لیکن میں باوجود” حقہ ” کا لفظ ادا کرنے کے ” ح ” کی شناخت نہیں کر پارہا تھا۔
میں نے پورا دن بہت مشکل سے گزارا۔ کتنا عجیب لگ رہا ہے یہ بتاتے ہوئے کہ مجھے اپنے شاگردوں سے خوف آرہا تھا۔
اگلے دن میں نے بچوں کو کہا کہ مکمل قاعدے کی دہرائی کی جائے گی۔ ہر بچہ بلیک بورڈ پر کھڑا ہو کر ایک لفظ لکھے گا اور اسے سے شروع ہونے والی چیز کا نام لکھے گا۔۔۔۔
ہر بچہ آتا اور ایک حرف لکھتا اور زور سے اس کی گردان کرتا۔۔۔۔
ا سے انار۔۔۔۔۔ ب سے بکری ۔۔۔۔۔۔ پ سے پنکھا۔۔۔۔ ت سے تتلی
لیکن مجھے حیرت ہورہی تھی کہ یہ لفظ میرے لیے غیر مانوس کیوں ہوگئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میری کلاس کے بچے میرے استاد بن گئے۔۔۔۔
میں بلوچستان کے شہر ہرنائی کا رہنے والا ہوں۔ میں یہاں کے پرائمری اسکول میں بچوں کو اردو پڑھاتا تھا۔ یہاں کی زیادہ تر آبادی پشتونوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے۔ یہاں بچوں میں پڑھائی کا رجحان بہت کم ہے. زیادہ تر لوگ ناخواندہ یا معمولی پڑھے لکھے ہیں۔
میں ایک سیدھا سادہ سا نوجوان تھا جس کے خواب بھی بہت معمولی ہوتے ۔ زندگی ایک لگی بندھی ترتیب سے گزر رہی تھی ۔
میں نے استاد کا پیشہ ایک مقدس امانت سمجھ کر اپنایا۔ میں درس و تدریس کی ذمہ داریاں نہایت احسن انداز سے نبھا رہا تھا۔ ہمارے علاقوں میں بچے پہلی کلاس سے ہی اسکول میں داخلہ لیتے۔
میری ذمہ داری میں ان بچوں کو مکمل حروف تہجی یاد کروانا، ان کی پہچان اور شناخت ذہنوں میں بٹھانا اور ان سے شروع ہونے والے لفظوں کی تکرار اور گردان کروانا شامل تھا۔
تو میں بتا رہا تھا کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے سیدھے سادے خواب دیکھنے کے بجائے سہانے سپنے دیکھنا شروع کردیے۔۔۔۔
ان سہانے خوابوں کے دیکھتے دیکھتے اچانک مجھ سے حروف روٹھ گئے اور میرے لیے اجنبی ہوگئے۔ میں بڑی کشمکش میں تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ جب میں کاغذ ، قلم لے کر بیٹھتا تو مکمل حروف تہجی درست ترتیب سے لکھ لیتا۔ لیکن میں ان کے نام دہرانا چاہتا تو مجھے بالکل یاد نہ آتے۔۔۔۔
میں پھر ذہن پر بہت زور دیتا تو ایسا ہوتا کہ” س ” مجھے
” ن ” محسوس ہوتا اور ” ل ” مجھے ” و ” محسوس ہوتا ۔ لیکن جب میں قاعدہ کھولتا تو نظر آنے والی تصویر مجھے سمجھ آنے والے حرف سے کوئی تال میل کھاتی نظر نہ آتی۔۔۔
میرے لیے اسکول کا ہر دن مشکل ہوتا جارہا تھا۔ اس کا فوری حل میں نے یہ ڈھونڈا کہ دو چار اچھے بچوں میں سے روزانہ ایک بچے کو کھڑا کرکے جتنا کام ہوچکا ہوتا اس کی دہرائی کرواتا۔۔۔۔
جب ان میں سے کوئی بچہ کسی حرف پر اٹک جاتا اور وہ مجھ سے پوچھتا کہ استاد جی یہ کیا لفظ ہے تو مجھے سکتہ طاری ہوجاتا۔ میری یہ مشکل پھر کلاس کا ہی کوئی بچہ دور کرتا۔ اور وہ اس حرف کی شناخت کرکے اس کا نام پکارتا اور پوری کلاس اس کی ہمنوا ہوکر یہی لفظ پکارتی اور اس سے شروع ہونے والے الفاظ کو سب مل کر زور زور سے بولتے۔۔۔۔
لیکن یہ معاملہ آخر کب تک یوں چلتا۔ مجھے احساس ہورہا تھا کہ اگر میں نے اس مسئلے سے جلد نہ نمٹا تو میری سرکاری نوکری بھی جاتی رہے گی اور میں ناکارہ وجود بن جاؤں گا۔
میں نے ارادہ کیا کہ میں کیوں نہ اس اسکول کے کسی استاد سے یہ مسئلہ بیان کروں۔ شاید وہ میری مدد کرسکے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ کہیں یہ بات ہیڈ ماسٹر صاحب تک پہنچ گئی تو وہ فوراً میری چھٹی ہی نہ کروادیں۔۔۔۔ یہ سوچ کر میں نے اپنا یہ ارادہ ترک کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔
اب میری نظر میں معتبر ترین آدمی جو محسوس ہوا وہ ہماری محلے کی مسجد کا پیش امام تھا۔ میں نے عصر کی نماز کے بعد سب نمازیوں کے رخصت ہونے کے بعد امام مسجد سے تنہائی میں اپنا مسئلہ بیان کیا۔
انہوں نے نہایت توجہ سے میری بات سنی۔۔۔ اور پھر کہنے لگے کہ یہ تو بہت تشویش کی بات ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے مجھے تسلی دی کہ میں پریشان نہ ہوں۔
وہ بھی بچوں کو نورانی قاعدہ پڑھاتے ہیں ۔ تو صبح فجر کی نماز کے بعد میں ان کے حجرے میں ان سے سبق لے لیا کروں۔ حجرے میں پڑھنے سے صبح کے وقت مسجد میں پڑھنے والے بچوں سے میرا پردہ رکھنا مقصود تھا۔
میں نے نہایت سپاس گزاری سے ان کے ہاتھ کو چوما اور اگلے دن سے صبح فجر کے بعد میں نے ان کے حجرے میں پڑھنا شروع کردیا۔۔۔۔
کوئی ہفتہ دس دن میں مجھے اس مشق سے اتنا فائدہ ہوا کہ مجھے حروف تہجی کے چند مخصوص حروف یاد ہوگئے۔۔۔۔ لیکن ان چند مخصوص حروف سے ہٹ کر باقی لفظ میرے لیے اجنبی ہی رہے۔ میں نے پیش امام صاحب سے دریافت کیا کہ یہ جو چند حروف مجھے یاد ہوگئے ہیں ان سے شروع ہونے والے لفظوں کی گردان آپ نے مجھ سے نہیں کروائی۔ اس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ چند مخصوص حروف جو تمھیں میری وجہ سے یاد ہوگئے ان کو تم ہر لفظ میں استعمال کرسکتے ہو۔
میں نے حیرانگی سے پوچھا یہ کیسے ممکن ہے تو وہ کہنے لگے کہ یہ اب تمھارا کمال ہے کہ تم ان کو ہر جگہ کیسے فٹ کرتے ہو۔۔۔۔۔ مجھے وہاں سے یاد ہونے والے حروف میں ” ف “، ” ک ” ، ” ج ” ، ” چ ” اور ” ح ” تھے۔
میں نے ان سے الفاظ بنانا شروع کیے تو ترتیب کچھ یوں بنی ف سے فتویٰ ، ک سے کفر، ج سے جنت اور جہنم ، چ سے چندہ اور ح سے حلوہ۔۔۔
میں نے ان چند حروف کو جب ہر جگہ پُر کرنے کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ عجیب سے آنا شروع ہوگیا۔ بعض نگاہوں میں حیرت ہوتی تو بعض غصہ سے دیکھتے ۔۔۔ تو کچھ ایسے بھی تھے جو میری ہر بات پر سر جھکا دیتے۔ میں نے سر جھکانے والوں کو چن لیا۔
لیکن مجھے جلد احساس ہوا کہ یہ معاملہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ میں نے اب اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک طبیب کا انتخاب کیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ ایک بیماری ہے اور ممکنہ طور پر طبیب کے پاس اس کا شافی علاج ہو۔
طبیب نے علامات بڑے غور سے سنی اور پھر چند معروف کمپنیوں کی دوائیاں میرے لیے تجویز کردی۔ ان دوائیوں کے اثر سے مجھے جزوی فائدہ ہوا۔ مجھے چند مزید حروف ان دوائیوں کے استعمال سے یاد ہوگئے۔ مجھے امید پیدا ہوئی کہ طبیب صاحب اگر مزید کچھ ادویات تجویز کردیں تو میرا یہ مسئلہ مکمل حل ہوجائے گا۔
لیکن افسوس کہ میری اس خوش فہمی کا جنازہ اس وقت نکل گیا جب طبیب صاحب نے ان مخصوص ادویات کے علاوہ مزید دوائیاں تجویز کرنے سے انکار کردیا۔
اب طبیب صاحب کی دی ہوئی ادویات کی بدولت میں جن لفظوں سے روشناس ہوا وہ یہ تھے۔۔۔
” ر ” ، ” ک ” ، ” ا ” اور ” د ”
میں نے ان سے جو لفظ بنائے وہ یہ تھے۔
ر سے روپیہ ، ک سے کمیشن ، ا سے ادویات اور اینٹی بائیوٹک اور د سے دورہ جات۔۔۔۔ جو ادویات والی کمپنیاں ان طبیب صاحبان کو اپنی مخصوص دوائیاں تجویز کرنے پر کرواتی ہیں۔۔۔
انہوں نے مجھے سمجھایا تھا کہ سب کچھ ان چار حروف کے ارد گرد گھوم رہا ہے۔ سو اس تھوڑے کو بہت سا جانو۔۔۔۔ زندگی گزر جائے گی.
میں نے جب ان لفظوں کا استعمال کرنا شروع کیا تو حیرت زدہ آنکھیں مزید حیرت میں مبتلا ہوگئی۔ جب کہ جن آنکھوں میں غصہ تھا وہ اور لال ہوگئی۔ لیکن سر جھکانے والا گروہ مجھے اپنا مزید مطیع ہوتا نظر آیا۔۔۔۔
لیکن کچھ وقت اور گزرا تو میرا احساس جاگا کہ کب تک ان ادھورے شبدوں سے میں گزارا کروں گا۔ اب میں نے مزید سوچا کہ کس کے پاس جاؤں تو خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے حجام سے اس بارے میں بات کروں ۔ یہ کام کے ساتھ باتوں کے بھی بڑے کاریگر ہوتے ہیں۔ شاید یہ میری کچھ مدد کرسکے۔
سو میں نے اس سے اپنا مسئلہ بیان کیا۔ اس نے بال تراشتے ہوئے تین لفظوں سے مجھے اچھی طرح واقف کروادیا ۔ اور وہ لفظ تھے ” م ” ، ” ق ” اور “ح ” ۔۔۔۔
میں نے ان سے جو لفظ بنائے وہ بڑے سادہ لیکن کارآمد تھے۔
م سے مالش، ق سے قینچی اور ح سے حجامت۔۔۔۔
میں نے مزید کچھ اور حروف جاننے کی خواہش ظاہر کی تو وہ کھسیانہ سا ہوگیا کہ مائی باپ کنگھے ، قینچے والے کی اس سے بڑھ کر اوقات نہیں۔۔۔۔
لیکن ان تین لفظوں سے میں نے اگلے چند دنوں میں بہت فائدہ اٹھایا۔ سر جھکانے والے تو اس کے بعد سے گرویدہ ہوگئے البتہ لال غصہ کرتی آنکھوں میں ” ح ” کے استعمال سے لالی کچھ کم ہوئی اور حیران ہوتی آنکھوں کو حرف ” م ” سے بےحد رام کیا۔۔۔۔ جب ان میں ایکا ہوتا تو ” ق ” کے استعمال سے ان کو الگ الگ کرنا آسان ہوتا۔۔۔۔۔۔
زندگی قدرے بہتر رنگ ڈھنگ میں گزرنے لگی۔ لیکن اب میری مزید سیکھنے کی جستجو مجھے اندر ہی اندر مضطرب کررہی تھی. میں نے اس مرتبہ انتخاب اپنی بیوی کا کیا کہ اس بابت بیگم سے دریافت کرنا چاہیے ہے۔ جب میں نے اسے اپنا مسئلہ بتایا تو وہ حیران سی رہ گئی ۔ کہنے لگی کہ استاد جی اب آپ کو بھی سبق سیکھنے ہوں گے۔
بہرحال چند دنوں میں اس نیم خواندہ عورت نے بھی مجھے نئے حروف سے واقفیت کروائی۔۔۔۔ اس کے سکھائے اور پڑھائے گئے حروف میں ” ت ” ، ” ع ” اور ” ر ” شامل تھے۔ ان حروف سے مجھے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ جب میں نے ان کا استعمال کیا تو سر جھکائے ہوئے بھی سر اٹھانے لگے۔
ان حروف سے جو الفاظ میں نے بنے وہ کچھ اس طرح تھے۔۔۔۔۔
ت سے تعلقات ، ع سے عورت کی عزت اور ر سے رزق حلال۔۔۔۔۔
ابھی میری حروف تہجی مکمل تو نہیں ہوئی تاہم اس دوران میرا ایک دوست جو ضلعی سطح پر سیاست کرتا تھا اور علاقے کا کونسلر منتخب ہوا تھا اس سے جب میں نے درخواست کی کہ وہ حروف سمجھنے میں میری مدد کرے تو اس نے مجھے دو اہم ترین حروف اچھی طرح یاد کروائے ۔ اور ساتھ ہی اس نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ تم چاہے سب حروف بھول جانا لیکن ان دو حروف کو یاد رکھ کر تم اپنی پوری زندگی عمدگی سے بتا سکتے ہو۔۔۔۔۔۔ وہ دو حروف ” ع ” اور ” غ ” تھے۔
آج میں ریٹائر ہوچکا ہوں. زندگی نے بہت کچھ سکھایا بھی اور بھلایا بھی ۔ لیکن یہ دو حروف مجھے ہمیشہ یاد رہے۔ کیونکہ ان کے استعمال سے حیران ہوتی نظروں ، لال انگارہ آنکھوں اور جھکی ہوئی نگاہوں ، سب کا تریاق ان میں موجود تھا۔ اب بھی مجھ سے لوگ ہوچھتے ہیں کہ زندگی کا خلاصہ کیا ہے تو میں کہتا ہوں کے حروف تہجی کے دو حرف۔۔۔۔
“ع ” سے عرض اور ” غ ” سے غرض۔۔

Leave a Reply