ایک شفیق استاد رخصت ہوا: حاشر ابن ارشاد

گورنمنٹ کالج میں ابتدائی کچھ مہینے جعفر بلوچ صاحب ہمارے اردو کے پروفیسر رہے۔ جعفر صاحب نعتیہ شاعری کا بہت بڑا نام تھے اور انتہائی نفیس شخصیت کے حامل تھے۔ کچھ ماہ بعد کوئی داخلی ادلا بدلی ہوئی تو ان کی جگہ جناب اجمل نیازی نے سنبھال لی۔ دونوں صاحبان میرے والد اور والدہ سے عمر میں کچھ چھوٹے تھے پر ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے۔ ابو جب بھی گورنمنٹ کالج آتے تو اجمل نیازی صاحب کے ساتھ گھومتے پھرتے نظر آتے۔

اردو سے میرا محبت کا رشتہ تھا جسے مہمیز کرنے میں اجمل نیازی صاحب کا اپنا ایک کردار رہا۔ میں کم کم کالج جاتا لیکن ان کے شاید سب سے زیادہ لیکچرز میں پایا جاتا ۔ اولڈ بلڈنگ کے اونچی چھت والے نیم اندھیرے کمرے میں گونجنے والی ایک مخصوص بھرائی ہوئی سی آواز اور ایک مختلف لہجہ آج بھی سماعت میں ویسے ہی زندہ ہے۔

داخلی امتحاںات ہوئے تو ہر ایک میں اجمل صاحب نے کلاس میں سب سے زیادہ نمبر مجھے دیے۔ یہ نمبر اردو کے عام طور پر اوسط نمبروں سے اتنے فرق پر تھے کہ دوسرے نمبر پر آنے والے طالب علم موازنے میں بہت پیچھے رہ جاتے۔ افواہ یہ پھیل گئی کہ یہ مہربانی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ ہمارے خاندانی احباب میں شامل ہیں۔ اڑتے اڑتے یہ افواہ اجمل صاحب کے کانوں تک بھی پہنچی پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے علاوہ انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

بورڈ کے امتحان میں تماشہ یہ ہوا کہ میرے نمبر لاہور بورڈ میں ہی نہیں بلکہ تاریخ میں (کم ازکم اس وقت تک کی، اب تو حالات اور ہیں) سب سے زیادہ تھے۔ اجمل نیازی صاحب کی قدم بوسی کے لیے گیا تو ہنس کر بولے “ہن ہوئی اے تسلی متراں دی”

ایک عہد تمام ہوا۔ ایک شفیق استاد رخصت ہوا۔ ان کے خیالات سے اتفاق یا عدم اتفاق میرے لیے لایعنی رہا کہ زندگی بھر استاد کے قدموں میں ہی رہے۔ سر اٹھا کر جب دیکھا تو الفت اور عنایت کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ محبت سے کیا کوئی اختلاف کرے۔

Leave a Reply