کینیڈا رو رہا ہے! : ثمینہ تبسم

30 مئی سے کینیڈا کا پرچم سرنگوں ہے!

جب بھی کینیڈین جھنڈے پہ نظر پڑتی ہے تو ایک ماں ہونے کے ناطے دل ڈوب سا جاتا ہے !

آج سے کوئی دو سو سال پہلے شروع کیتھولک چرچ نے ” ریزیڈنشل سکول سسٹم ” شروع کیا جس کا آخری سکول 1960 تک موجود تھا۔ اس سسٹم کے تحت تعلیم کے نام پہ ، نارتھ امریکہ کے اصلی باشندوں سے ان کے بچے چھین کر، ان کے گھروں سے سینکڑوں میل دور نام نہاد ہوسٹلوں میں بند کر کے ان پہ جو ظلم ڈھایا اس کے سیاہ داغ دھو ڈالنا کسی کے بس میں نہیں!

ذہنی، جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہو کر مر جانے والے ان بچوں کی اجتماعی قبریں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تو ہمارے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے دکھ اور شرمندگی سے کینیڈا کے جھنڈے کو اس وقت تک سرنگوں کرنے کا حکم دیا جب تک کہ ان بچوں کے خاندانوں سے کوئی معاہدہ طے کر کے ان سے معافی ملنے کا اعلان نہیں کر دیا جاتا۔ متاثرہ خاندانوں سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے !

ان بچوں اور ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت و ہمدردی کرنے کے لئے کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوہ میں پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے علامتی سوگ کے لئے مرنے والے بچوں کی عمروں کے بچوں کے سینکڑوں جوتوں کے جوڑے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاؤہ دور دراز سے آنے والے لوگوں نے پھولوں اور کھلونوں کے ڈھیر لگا دیئے ہیں۔ ہر روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ وہاں جمع ہوکر اس ظلم پہ اظہارِ ندامت کرتے ہیں!

ایک ماں اور ایک ایک ٹیچر ہونے کے ناطے اس ویک اینڈ پہ میں خاص طور پر اوٹاوہ گئی۔ وہاں ان بچوں کی بے آرام روحوں کے سکون کے لئے دعا کی اور کچھ وقت وہاں خاموشی سے گزارہ!
موت برحق سہی، مگر کسی اپنے کے سسک سسک کر مرنے کا سوچ کر کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے!

بچوں کی ایسی موت پہ بھلا کسی کو صبر کیسے آ سکتا ہے؟

Leave a Reply