“قرآن کا سب سے بڑا معجزہ” : محمد ابراہیم

کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ رکھنے کے باوجود اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مطیع وکاربند نظر نہیں دکھائی دیتی ؟
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا اور عظیم معجزہ قرآن ہے،اور ہمارے پاس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت،نبوت اور تمام تر دیگر پہلوؤں کو سمجھنے کا بنیادی اور مستند ترین ماخذ بھی قرآن ہے۔لہٰذا ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو قرآن شناسی کی طرف مائل ہونا ہے۔پہچان رسول،محبت رسول اور اطاعت رسول کے لیے ہمیں قرآن خود پڑھنا اور سمجھنا ہے۔ویسے کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ ہم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے بڑے اور غیر معمولی “معجزے” قرآن سے ناآشنا رہیں اور پھر طرح طرح کے جواز تلاش کرتے پھریں۔کسی حد تک یہ جواز ان لوگوں کے فراہم کردہ ہیں جو قرآن کو محظ اپنی دنیا بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو کہتے قرآن ڈائریکٹ نا پڑھنا گمراہ ہو جاؤ گے(نعوذباللہ)۔اس لیے اس پسماندگی سے نکلیں۔ قرآن خود پڑھیے اور بغور پڑھیے۔

یہ بھی پڑھیں : سوشل میڈیا صارفین کی ذمہ داری: محمد ابراہیم

جب آپ علم قرآن کے سمندر میں غوطہ زن ہونگے تو پھر آپ پر سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام پہلو عیاں ہونگے جن کو بدقسمتی سے ہم نے ایک مہینے کے لیے مختص کر دیا ہے،بالخصوص اخلاقی پہلوؤں کو جو ہر طرح سے اُسوہ رسول کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ اللّہ تعالیٰ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو اعلیٰ درجے پر فائز کیا ہے۔یہ اعلیٰ اخلاق ہی تھے کہ جن کی بدولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ظلم اور ہر طرح کی تکالیف برداشت کیں۔حتیٰ کہ “ایک صحابی کہتے ہیں کہ نوجوانی کی عمر میں میں اپنے باپ کے ساتھ منیٰ میں تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک جگہ لوگوں کی بھیڑ جمع ہے۔میں نے اپنے باپ سے کہا یہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک صابی (بددین) ہے جس کے گرد لوگ اکٹھے ہیں.وہ کہتے ہیں کہ میں نے جھانک کر دیکھا تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔آپ لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دے رہے تھے اور لوگ آپ کا مذاق اڑا رہے تھے”۔یہ تو صرف ایک واقعہ ہے۔سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہزاروں واقعات آپ کو اور بھی مل جائیں گے جن پر قرآن شاہد ہے اور جن کو پڑھنے کے بعد ہمارا ایمان مزید پختہ ہوگا۔اس لیے ہمیں جاننا ہے قرآن خود پڑھنا ہے۔کتب احادیث اور سیرت کا خود مطالعہ کرنا ہے اور ساتھ ہی اُن لوگوں سے بھی ہوشیار رہنا ہے جو قرآن ہاتھوں میں لہرا کر اپنا وعظ بیچتے ہیں۔

Leave a Reply