ولادت و وصال مصطفی ﷺ اور دل کی آرزو : محمد عبداللہ

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں مبعوث ہونا ہمارے اوپر اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے جس کا تذکرہ اللہ نے قران مجید میں بھی ان الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے لقد من اللہ علی المومنین “لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلو علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلھم الکتاب والحکمہ” اس بات پر جتنا بھی خوش ہوا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن اس خوشی کے منانے میں آپے سے باہر نہ ہوا جائے.
جبکہ ہجری کیلنڈر کے مطابق آج کے دن نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخصت ہوجانا مدینہ میں قیامت ڈھا گیا تھا. ایک تابعی بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ پہنچا تو ہر طرف آہوں اور سسکیوں کا سماں تھا۔ میں نے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ لوگ کہنے لگے : ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رخصت ہو گئے ہیں!“
ہمیں بھی اسی بات کا غم کہ اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ دیدار ہوا نہ آپ کی آواز سن سکے، نہ آپ کے گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر دین سیکھ سکے.نہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سالاری میں کفر پر چڑھائی کرسکے، نہ کسی سفر میں آپ کے ہم رکاب ہوپائے.

یہ بھی پڑھیں: ففتھ کالمسٹ اور پاکستان : محمد عبداللہ

مسجد نبوی کے کچے صحن پر اپنے محبوب پیغمبر کے ہمراہ رب العالمین کے سامنے سربسجود نہ ہوسکے. بدر و احد میں حنین و احزاب میں، مکہ و تبوک میں آپ کے جانثار بن کر آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے نہ لڑ سکے، اپنی جان آپ پر نہ وار سکے. ابوبکر و عمر اور عثمان علی رضی اللہ عنھم اجمعین کے ساتھی نہ بن سکے.
لیکن ان تمام غموں کو جو بات دور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حوض کوثر پر آپ کے ہاتھوں سے جام پئیں گے. روز محشر آپ کے جھنڈے تلے جنت میں جائیں گے. جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملاقاتیں ہونگی.
جنت میں آپ کے سامنے دوزانو بیٹھ کر آپ سے ہجرت کے واقعات سنیں گے. بدر میں اللہ کی مدد کے احوال سنیں گے، احد میں آپ کی استقامت کی داستان سنیں گے. آپ سے آپ کی دعوتی زندگی کے انداز سنیں گے. آپ کا مسکرانا دیکھیں گے. آپ کی شفقت و محبت سے فیضیاب ہونگے. ان شاءاللہ
لیکن ان سعادتوں کو حاصل کرنے کے لیے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنانا پڑے گا سجود و قیام کی کثرت سے جنت میں آپ کا ساتھ حاصل کرنا پڑے گا. بلکہ بقول شاعر
اگر جنت میں جانے کا ارادہ ہو تمامی کا
گلے میں پہن لو کرتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا

Leave a Reply