ڈگڈگی: عامر انور

اسٹاپ پر اتر کر میں گھر کی طرف روانہ ہوا۔ میرا گھر اعظم بستی میں واقع سو فٹ روڈ سے ملحق ایک گلی میں ہے۔ بس اسٹاپ سے پانچ منٹ کی مسافت پر۔ میں سرکاری محکمہ میں بطور چپڑاسی اعلیٰ افسران کی خدمت گاری پر مامور ہوں۔ ان کی آسائش کا خیال رکھنا اور چائے پانی پیش کرنا۔ اس چائے پانی میں وہ چائے پانی بھی شامل تھا جس کے لئے دودھ ، پتی اور چینی کی ضرورت نہیں ہوتی.زمینوں سے متعلق ریکارڈ اور الاٹمنٹ کا محکمہ ہے۔ صاحب تک رسائی ہم ایسے قاصدوں کے ذریعے آسان ہوتی۔ ویسے بھی معاملات طے تو ہم نے کرنے ہوتے ہیں۔

میں اسٹاپ سے گھر کو جارہا تھا کہ راستہ میں مداری بندر کا تماشہ دکھارہا تھا۔ اس کے اردگرد بچوں کا ہجوم تھا۔ کچھ بڑی عمر کے لوگ بھی اس تماشہ سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ میں بھی کچھ لمحوں کے لئے ٹہر گیا۔ ڈگڈگی کی آواز پر بندر کبھی ناراض بیوی، تو کبھی شرمیلا داماد ، تو کبھی پولیس مین بن جاتا۔ ہم عمر کے سفر میں اتنے آگے جاچکے ہوتے ہیں کہ ہمارا بچپن کہیں بہت اندر ہمارے وجود میں گم ہوجاتا ہے اور کسی لمحے وہ باغی بن کر چند لمحوں کے لئے پورے وجود پر چھا جاتا ہے۔ میں اس وقت بچپن کی اسی کیفیت کے زیراثر تھا۔ میں یہ سمجھنے میں ناکام تھا کہ بندر مداری کی صدا پر اداکاری کرتا ہے یا ڈگڈگی کی آواز پر۔ میں اس سوچ میں ایسا غرق ہوا کہ سامنے کا منظر کھلی آنکھوں کے آگے بھی دھندلا گیا۔ ہوش آیا تو بچے مداری کو خوش ہوکر پیسے دے رہے تھے جو بندر پکڑ پکڑ کر اپنے مالک کو لاکر دیتا۔ اسکا مالک بڑا نوٹ لانے پر خوش ہوکر بندر کو کبھی سر پر پاتھ پھیر کر پیار کرتا اور کبھی اپنے تھیلے سے بندر کو کھانے کو کچھ نکال کر دیتا۔

یہ بھی پڑھیں : آڑی ترچھی لکیریں: عامر انور

میں نے بھی جیب سے دس دس کے دو نوٹ نکالے اور بندر کے ذریعے اس کے مُرَبّی کو ادا کئے۔ گھر پہنچ کر میں نے بیوی کو کھانے کا کہا اور خود ہاتھ منہ دھونے لگا۔
بیگم کھانا دے کر ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔ میں کھانا بھی کھاتا رہا اور گاہے بگاہے بیگم کی فرمائش پر دن بھر کی کارستانیاں بھی سناتا رہا۔
کھانا کھا کر میں نے جیب سے کمائے گئے اضافی پیسے نکالے اور بیگم کے حوالے کئے ۔ اس نے مسکراتے ہوئے مُٹّھی میں دبا لئے ۔ یہ اوپر سے کمائے گئے پیسوں کا مقدر شاید مُٹّھی ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک مُٹّھی سے دوسری اور پھر گھر میں بیگم کی مُٹّھی میں دب جاتے ہیں. سوچتا ہوں کہ اگر یہ سانس لے سکتے تو مُٹّھی میں دبے رہنے سے ان کا سانس نکل جاتا۔ شکر کہ یہ بنا سانس والے روپے ہماری سانس کا جسم سے رشتہ بنائے رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔مُٹّھی میں قید نوٹ کتنی محرومیوں سے ہمیں آزاد کروا دیتے ہیں۔
رات سونے لیٹا تو بندر کا تماشہ پھر سے آنکھوں کے سامنے آگیا۔ ناچتا، اداکاری کرتا بندر ، ڈگڈگی کی آواز۔۔۔۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلا دن، وہی دفتر، کمرے سے باہر لگی کرسی پر بیٹھا ہوا میں، صاحب کی گھنٹی کی آواز اور میرا لپک کر اندر جانا۔ سائلین کی قطار۔ صاحب کی بےنیازیاں ، میری پھرتیاں ، سائلین کی سسکتی، تڑپتی، ترلے مارتی آوازوں کا ساز۔۔۔۔ فائلیں ، ساتھ بند مُٹّھیاں، نوٹ کے ساتھ ہتھیلی میں بسے پسینے کی بو ۔

اس بو کی بھی الگ الگ کہانیاں ہوتی۔ کسی بو میں اپنے جائز کام کی فریاد ہوتی تو کسی بو میں حق تلفی کی داستاں۔۔۔۔۔ یہ بنا سانس کے نوٹ ہم غریبوں کی تو سانسوں کی ڈوری کو جسم سے جوڑتے لیکن بڑے صاحب کی سانسوں کو مہکاتے یہ نوٹ ان کی زندگی کو آسائشوں کا پُرسا دیتے۔۔۔۔۔۔

اچانک گھنٹی بجی لیکن اس کا انداز مختلف تھا جسے میں خوب سمجھتا ۔ گھنٹی کی بھاشا بارہ سالوں میں، میں اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔
میں اندر چلا گیا۔۔۔۔۔ کچھ راز و نیاز ہوا میں مسکرایا۔۔ صاحب نے ہلکا سا قہقہہ لگایا ۔۔۔۔
میں باہر آیا۔ اپنی اپنی فائلوں کو پکڑے لوگوں کا ہجوم گویا میرے باہر نکلنے کا منتظر تھا۔۔۔۔۔
میں چلایا۔ سب کام بند ، صاحب کی طبعیت خراب ہے۔ شاید ہفتے بھر کی چھٹی پر جائیں۔۔۔
شور برپا ہوا۔ بند مُٹّھیاں دوبارہ جیبوں کی سیر کو چلیں اور جب نکلیں تو نوٹ کچھ پہلے سے کافی زیادہ مُٹّھیوں میں بند ہوچکے تھے۔۔۔۔۔۔۔
شام کو صاحب نے خوش ہوکر جیب سے ہزار ہزار کے تین نوٹ دیئے جو میں نے مُٹّھی میں قید کرلئے۔
میں بس اسٹاپ سے اترا اور گھر کو روانہ ہوا۔ مداری کی ڈگڈگی پر بندر بھاگ بھاگ کر نوٹ پکڑتا اور اپنے مالک کو لاکر دیتا۔ بڑے نوٹ لانے پر بندر کا مالک خوش ہوکر تھیلے سے کچھ اچھا کھانے کو اسے دیتا۔
میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور شکر ادا کیا کہ میں حضرتِ انسان ہوں بندر نہیں

Leave a Reply