اک منظم شخص : مسعود احمد

کبھی کبھی انسانوں کا جم غفیر بھی بے پایاں ہجوم کی صورت نظر آ تا ہے اس کے بر عکس اک منظم شخص بھی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے . حسین مجروح بھی تن تنہا ایسی ہی اک تحریک ہیں . پورا نام فقیر حسین مجروح ہے. مجروح صاحب نام کے ہی نہیں مزاج کے بھی فقیر یعنی درویش ہیں. ان سے نیاز مندی کا رشتہ ربع صدی سے زیادہ پر محیط ہے. ہم حبیب بینک میں نوکری کرتے تھے. نوکری بھی ایسی جو ہم جیسے ہزاروں بطور فیلڈ فورس کر رہے اور مجروح صاحب کا شمار انتظامیہ کے چیدہ اصحاب میں ہوتا تھا یعنی پالیسی ساز دنیاوی منصب ایسا کہ ہم ایسے لوگوں کی ان کے سامنے سٹی گم ہونا لازمی امر تھا مگر جب بھی کبھی ان کے ہاں دفتری امور کے لئے جانا پڑ تا، موصوف اتنی عزت اور محبت سے ملتے کہ اب تک محسوس ہوتا ہےکہ ہو نہ ہو ہماری دیرینہ شوگر کا سبب انکے لہجے کی وھی مٹھاس ہے جو ابھی تک ہمارے کانوں میں رس گھول رہی ہے. وہ حبیب بینک کے قانونی امور دیکھا کرتے تھے اور ہماری پیشی آ ئے روز کسی نہ کسی بینک کیس میں بطور مینجر ہوتی. تیاری کے لیے ان کے دفتر آ تے اور ان کی مہمان نوازی کا لطف اٹھاتے. ان دنوں حکومت پر ادارے کی ڈاون سائزنگ کا خبط سوار تھا یعنی ملازمین کو جبری نکالا جانا. مارشل لا کا دور تھا کام نہ کرنے والوں کی فہرستیں منگوائی جارہی تھیں .

ایسا ایک مراسلہ مجروح صاحب کو بھی موصول ہوا مجروح صاحب نے nill کی سٹیٹمنٹ ہیڈ آ فس بھجوادی جب وھاں سے اصرار ہوا کہ اس میں جیسے تیسے کچھ نام ڈالو تو اس درویش خدا مست نے اپنا نام ڈال کر بینک کو خیر باد کہہ دیا جہاں انہیں انتہائی شاندار عہدہ اور مراعات حاصل تھیں ترقی کے مزید مواقع بھی شاعر اور نثر نگار تب بھی کمال کے تھے ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہمارے ہاں ادب میں بڑے عہدوں کو بیساکھیوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بسا اوقات تو ایسے افسر جن کو صرف سننے کی حد تک شوق ہو یار لوگ اسے ادیب بنا کر دم لیتے ہیں.

حسین مجروح کا معاملہ اس کے برعکس تھا شاعر ادیب تو وہ پہلے ہی باکمال تھے مگر ان اصل جو ہر میدان ادب میں ملازمت کو خیر باد کہنے کے بعد کھلے پاک ٹی ہاوس کے بحران کو انتھک محنت کوشش سے انہوں نے حل کیا. حلقہ اربابِ ذوق کی سیکرٹری شپ ایک مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی مترادف تھی. ایسے سینئر ادیب جو عرصہ سے حلقے کو خیر باد کہہ چکے تھے. مجروح صاحب نے انہیں حلقے کی رونق بنایا تنقید اور تخلیق کا معیار کہیں سے کہیں پہنچ گیا اسی طرح ادب لطیف کے لیے دن رات ایک کیے ستائش اور تمنا مجروح صاحب کا کبھی مسئلہ ہی نہیں رھا دنیا داری ان کے مزاج کا حصہ ہی نہیں ادب کے حوالے سے ان پر ایسے ہی بھروسہ کیا جا سکتا ہے جس طرح قوم سماجی خدمات کے حوالے سے عبدالستار ایدھی پر کرتی رہی .

سمندر سے زیادہ مچھلیوں کے حالات سے کون واقف ہوتا ہے مجروح صاحب نے بطور ادیب ہمیشہ ادیبوں سے واسطہ رکھا. بطور سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق انکے دکھ سکھ میں ہمیشہ شریک رہے ادب لطیف کے مدیر کے طور پر بھی ادیبوں کے مسائل انکے سماجی اور معاشی مسائل کا جائزہ لیا تب ہی انہوں نے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور سائبان تحریک کی بنیاد رکھی کثیر رقم اپنے پلے سے ڈالی اور سوشل میڈیا پر احباب کو اس تنظیم کے اغراض ومقاصد سے آ گاہ کیا براہ کرم یہاں تنظیم کو تنظیم سازی کے پیرائے میں نہ لیا جائے اگرچہ کسی بھی تنظیم کے بھلے سیاسی ہو سماجی ہو یا ادبی ہو اس کے اغراض ومقاصد یا منشور برا نہیں ہوتا نیت صرف اس پر عمل کرنے والوں کی دیکھی جاتی ہے اور حسین مجروح کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ کس طبیعت کے آ دمی ہیں لالچ تکبر زمانہ سازی ان سے دور کا علاقہ نہیں وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ پیشہ ور پبلشر مفلوک الحال ادیب کے ساتھ کیا کرتے ہیں. پہلے تو ہزار کتاب کا کہہ کر چند سو پر ٹرخا دیتے ہیں اور پھر کتاب کی نکاسی بھی صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق مجروح صاحب نے یہ چیلنج بھی قبول کیا ہے جو بندہ عزم صمیم سے کروونا جیسی موذی بیماری کو شکست دے سکتا ہے اس کے لیے ادیبوں کی فلاح و بہبود جیسا مشکل کام بھی کوئی مشکل نہیں ہم نے جہاں اپنی معاشرتی زندگی میں اتنے طالع آ زماوں کو موقع دیا ادبی معاملات میں ایک عمدہ ادیب اور بڑے منتظم کو بھی موقع دینا چاہیے .

کا م کوئی بھی مشکل نہیں ہوتا بس قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہیے ہمیں یقین ہے کہ سائبان اور حسین مجروح ادیبوں شاعروں کو مایوس نہیں کریں گے. اللہ انہیں اور سائبان کو بھرپور کامیابی عطا کرے

Leave a Reply