تھوڑا ڈرتے ڈرتے ہی سہی لیکن سوچتے رہیں

تھوڑا ڈرتے ڈرتے ہی سہی لیکن سوچتے رہیں: ہارون ملک

ایک مذہبی رُجحان کے معاشرے میں حتمی سچ وُہی ہوتا ہے جو اُس معاشرے کی اکثریت کا مذہب بتاتا یا مانتا ہے لہٰذا سچ ایک ریلیٹیو ٹرم تک محدُود رہتا ہے ۔ ایک سادہ سی مِثال لے لیں ( گو یہ موضوع نہیں ہے ) مذہب اگر چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا رکھتا ہے تو اِس پر آپ کو معاشرے کی اکثریت اِس کا دفاع کرتی مِلے گی کہ یہ ایک الہامی حُکم ہے لیکن یہ کوئی نہیں سوچے گا کہ چوری کِتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو اُس کی واپسی یا بھرپائی مُمکن ہے لیکن ایک اِنسان کو تا عُمر معذور کر دینے کی کوئی بھرپائی مُمکن نہیں اور جو وُہ معاشرے یا ریاست پر بوجھ بنے گا سو الگ ۔ یہ بات کہنا تو ویسے ہی اضافی ہے کہ ہاتھ کاٹنے کی سزا پر بھی جب اکثریت اُس کا دفاع کرتی مِلے تو تہذیبی طور پر اور سوچ کے اعتبار سے ہم کہاں کھڑے ہیں ۔
مذہب کا معاملہ نہایت سادہ ہے کیونکہ اپنی ذات میں یہ ایمان بالغیب کا مُطالبہ کرتا ہے ۔ جنت ، جہنم ، دوبارہ جی اُٹھنا ، فرشتوں کا وُجود وغیرہ ۔

لوگ عُموماً مذہب کو دلائل سے یا فلسفے کی رو سے ثابت کرنا چاہتے ہیں جو کہ نہایت لایعنی کام ہے کیونکہ خُود خُدا کی ذات ، جنت اور جہنم کا وُجود کِسی قِسم کی دلیل سے بالاتر ہے ۔ مذہب اور عقائد ثابت نہیں کیے جا سکتے ۔ باقی جو دوست مُختلف دلائل اور جوابی دلائل پیش کرتے ہیں یہ سب باتوں کا جادُو ہے ، الفاظ کا الجھاؤ ہے جِسے ہمارے مُحترم دوست خلیل احمد علم الکلام قرار دیتے ہیں ۔
سلامت رہیں اور تھوڑا ڈرتے ڈرتے ہی سہی لیکن سوچتے رہیں ۔

Leave a Reply