عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے جذباتی لمحات: ابرار ماجد

عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے جذباتی لمحات: ابرار ماجد

لاہور میں ہونے والی اس کانفرنس کو عاصمہ جہانگیر کے نام ہوتے ہوئے یہ تیسرا سال ہے اور اس کا مقصد اس کے کام کو آگے بڑھانا ہے ۔ عاصمہ جہانگیر نہ صرف پاکستان کی انسانی حقوق ، جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کی تاریخ کا ایک روشن ستارہ ہے بلکہ اسے دنیا میں اس مقدس مقصد کے جرات مند کارکن کے طور پر جانا پہچانا جاتا ہے ۔

کانفرنس کے ابتدائیہ میں اچانک موضوعات ہی بدل گئے جب پاکستان کے مشہور قانون دان علی احمد کرد نے اپنے روایتی جذباتی انداز میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے تاریخی حالات کو چند جملوں میں بند کردیا وہ جملے کیا تھے ۔

” کون سی جوڈیشری موجود ہے، وہ جو ہمارے سامنے ہے ، وہ جس میں ہم پیش ہوتے ہیں ، وہ جوڈیشری وہ عدالتیں جس میں اس ملک کے لاکھوں لوگ، لاکھوں لوگ، لاکھوں لوگ، صبح آٹھ بجے سے ڈھائی بجے تک انصاف کے لئے اپنی داد رسی کے لئے موجود ہوتے ہیں ، جب وہ ڈھائی بجے اپنے گھروں کو واپس جاتے ہیں تو اپنے سینے پہ اپنی روحوں کے اوپر ایک زخم لے کر جاتے ہیں آپ اس جوڈیشری کی بات کرتے ہیں ، وہ لوگوں کے ہیومن رائٹس کو پروٹیکٹ کرے گا ہماری جمہوریت کو سٹرینگتھن کرے گا ” “عالمی سطح پر ایک سو چھبیسویں نمبر پر جو جوڈیشری ہے اس میں بھی واضح طور پر نظر آنے والی بات ہے ڈویژن ہے ” جس پر شیم شیم کے نعرے لگنے لگے ان پر عوام اور انکی وکلا برادری کے جزبات سے بھرے ولولہ انگیز نعرے تھے جو بائیس کروڑ عوام کے دلوں کی آواز تھے اور کانفرنس حال گونج اٹھا

” کیوں ہم اس حالت میں پہنچے ہیں یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے، بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے، اور ایک جرنیل ، ایک جرنیل ، ایک جرنیل ”

اس کے ردعمل میں کچھ یوں ماحول تھا

” ہم لے کے رہیں گے آزادی تجھے دینی پڑے گی آزادی ”

” ایک جرنیل پوری قوم پر حاوی ہے ، بھاری ہے ، یا تو اس جرنیل کو نیچے آنا پڑے گا یا لوگوں کو اوپر جانا پڑے گا ، دو ہی صورتیں ہیں ، اب برابری ہوگی ، اب برابری ہوگی بالکل ایسے برابری ہوگی ، جرنیل اور پاکستان کے ایک شہری میں کوئی فرق نہیں ہوگا”

بلا شک و شبہ اس سے بین الاقوامی سطح کی کانفرنس میں چند ذہنوں پر ناگواری تو گزری ، شرمندگی کے آثار تو نمایاں ہوئے مگر جن چہروں پر مسکراہٹ اور طنز ابھرا وہ ان گنت تھے ، کوئی شک نہیں کہ ہماری تاریخ قابل فخر نہیں مگر ہے تو سچ

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

سیکرٹری سٹیج ، سینیٹر تارڑ نے علی احمد کرد کو بدلتے حالات سے متنبہ کرتے ہوئے اپنے خاص انداز میں وقت کی نزاکت کا تاثر دیتے ہوئے حال کے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی گزارش کی مگر علی احمد نے برملا کہہ دیا کہ پھر میں چلا جاتا ہوں ۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے بھی عوام کے دل کی آواز سے گھبرائے ہوئے چہروں کا ملال دیکھا نہ گیا اور ڈائس پر آکر غصہ بھرے انداز میں سمجھانے کی کوشش کی اور یوں وہ جزبات سے بھرا سونامی بہل گیا ۔

علی احمد کرد نے اپنا بیان جاری رکھا اور عوام کا اپنا حق لینے کے لئے اٹھنے کا مشورہ دیا ۔

سابق چیف جسٹس پاکستان بابا رحمتے بھی وہاں پر موجود تھے جو آجکل اپنے خاص فیصلوں اور عملوں کی وجہ سے پاکستان کی سیاست کا موضوع بحث بنے ہوئے ہیں اور ان کی چہرے کے اثرات بھی کیمرے کی نظر سے چھپ نہ سکے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیٖف جسٹس اطہر من اللہ نے علی احمد کرد کا متعدد بار شکریہ ادا کیا کہ ان کے سچ سے بحث تو شروع ہوئی ۔ انہوں نے تاریخ کے اوراق سے جوڈیشری کی سیاہ تاریخ دہرائی اور اسی طرح جسٹس فائز عیسیٰ نے بھی پاکستان کی تاریخ اور اس میں عدلیہ کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔

آخر کار جناب چیف جسٹس آف پاکستان جو اس نشست کے چیف گیسٹ تھے ، نے سب کو حیران کر دیا انہوں نے مکا لہراتے اور للکارتے ہوئے کہا کہ انکی عدالت انصاف پر مبنی فیصلے کر رہی ہے اور کسی میں یہ جرات نہیں کہ وہ ان کو ڈکٹیٹ کرسکے ۔ انکے جذبات کی ہم قدر کرتے ہیں مگر تاریخ اور حقائق کو چھپانا کسی کے بس کی بات نہیں ۔

خیر یہ الفاظ تھے علی احمد کرد کے اور حال تھا اس کانفرنس کے کچھ جزباتی مناظر کا مگر ان سارے معاملات کی وجہ آخر کیا ہے جس سے ہم شرمندگی محسوس کرتے ہیں ۔

اس سارے ماجرے کی بنیادی وجہ ہماری سوچ ہے جو آج بھی انفرادی ہے ، ہم نعرے تو لگاتےہیں ہمارے جزبات تو ہیں مگر ان جزبات کی محور سوچ اب بھی انفرادی ہے ، ہم اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں ہم نے اپنے سپوتوں کی وہ تربیت نہیں کی جو ایک قومی سوچ کو پیدا کرتی اور ہمارے سپوت اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرنے والے ہوتے ۔

جب ہمارے سپوتوں کی سوچ انفرادی ہوگی تو وہ جہاں بھی ہونگے اس سوچ کے عکاس ہی ہونگے اور ان کے نزدیک قوم مفادات نہیں ہونگے بلکہ اپنی ذاتی مفادات ہونگے اور پھر ہماری قومی زندگی اس طرح سی ذاتی مفادات پر قربان ہوتی رہے گی جیسا کہ چوہتر سالوں سے ہورہا ہے ۔

Leave a Reply