سلسلہ جاری ہے: سید میثاق علی جعفری

سلسلہ جاری ہے: سید میثاق علی جعفری

ممکن ہے اس عنوان سے آپ کو ”اوپرا پن” محسوس ہو. لیکن میرے خیال میں یہ عنوان بالکل درست تھا۔ بچپن میں کی ہوئی شرارتیں اور حماقتیں اس قدر وسیع اور خوبصورت ہیں کہ انہیں دنیا کا کوئی قلم لکھ نہیں سکتا اور نا ہی کوئی برش پینٹ کر سکتا ہے کیونکہ ہم اب بڑے ہو چکے ہیں اور قدرے مہذب بھی اس لئے وہ شخص جو کبھی ہمارے اندر زندہ تھا یا تو مر چکا ہے؟ یا کسی اولڈ ہاوس میں پڑا اپنے سفید بالوں میں اپنا ماضی تلاش کر رہا ہو گا؟ … کچھ صاحبان کا خیال ِ قوی ہے کہ وہ اتنا ہی قد بُت لیکر اور اتنے ہی بڑے ہوئے پیدا تھے جیسا کہ اب ہیں.
مگر کبھی یاد ماضی کے سبب سردیوں میں لحاف اوڑھے ہنستے ہوں گے تو بیگم کو کیا معقول وجہ بتاتے ہوں گے؟
میرا بچپن تو ان حماقتوں اور شرارتوں سے اٹا پڑا ہے کہ لکھنے بیٹھوں تو ،، شہاب نامہ،، سائز کی کم از کم چار جلدیں تو بنیں۔
ایک ننھی سی خواہش پر دوران سفر اکثر پیٹا کہ کاش ہماری بس کا ایکسیڈنٹ ہو اور میں دیکھوں؟ کتنا مزہ آئے، ہے نااس خواہش کے اظہار پر اس قدر کُٹ پڑی تو اندازہ لگائیں اگر خواہش ظہور پذیر ہو جاتی تو کیا ہوتا؟

اینڈریو کارینگی کی ایک کتاب ہتھے چڑ گئی جس میں سو سال زندہ رہنے کے اصول تحریر تھے ،ان اصولوں میں ایک اصول تھا جب تک آپ کو شدید بھوک نہیں لگے، تب تک آپ کھانا نہیں کھائیں. ہم گرمیوں کی چھٹیوں میں ننھیال گئے ہوئے تھے، اس سو سالہ زندگی سے ہم کنار ہونے کے لئے ہم نے برادرِ خرد کو بھی کارینگی کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کا کاربند کر لیا. ہم نے ایک وعدہ کیا کہ جہاں تک ممکن ہوا ہم کارینگی بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی کوشش کریں گے اور بھی بہت سے اصول تھے جو سو سالہ زندگی کے لئے ضروری تھے مثلاً الصبح اٹھنا، یہ عمل ہمارے بس اس لئے باہر تھا کہ بقول ہماری خالہ کہ جب الصبح کا وقت ہوتا ہے تو ہمارے ناقابلِِ تحریر مقام سے کاں نہا نہا کر نکلتے ہیں (کوّے نہا نہا کر نکلتے ہیں)
اس لئے سوچا صبح صبح اٹھانا تو محال ہے اس لیے سوچا جب شدید بھوک لگے تو تب کھانا کھایا جائے گا۔ گاؤں میں رات ذرا جلدی ہو جاتی ہے مغرب کی اذان کے بعد امی انتباہی انداز میں کہا آؤ وائی روٹی کھا لو، ہم نے اینڈریو کارینگی کے اصول پر عمل درآمد کرتے ہوئے کہا کہ بھوک نہیں ہے۔تقریباً بیس منٹ فرمان صادر ہوا روٹی کھا لو.چونکہ گاؤں میں ابھی بجلی نہیں آئی تھی، اچانک چھوٹے بھائی کو گولی کی تیزی سے چولہے کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا، دل میں کہا دس منٹ تک بھوک برداشت نہیں کر پایا تو خاک سو سال جی پائے گا؟ دوسرے ہی لمحے اس منکر ِ کارینگی کے سر پٹ بھاگنے کی وجہ مجھے بھی نظر آ گئی جو اسے وہ کُڈنی پہلے نظر آگئی جو لگنے کے بعد نظر آئی اس کے بعد اینڈریو کارینگی کی یہ بیہودہ کتاب جب بھی نظر آتی ہم طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیتے ۔
ہمارے دادا کے گھر کا باتھ روم ضرورت سے زیادہ بڑا تھا
، اس لئے بوقت ضرورت یہ باتھ روم سٹور کے فرائض بھی سرانجام دیتا ایک پلنگ جو کبھی عالم شباب میں خود پر سوار ہونے والوں کو نیند کی وادیوں کی سیر کرتا تھا۔ آجکل انہی کرم فرماؤں کے معدے کے اثرات کے اثر سے مستفید ہوتا تھا۔ خیر گھر میں نا جانے کیوں لوگ جمع تھے؟ اس فراوانیِ انس کی وجہ سے اس اسٹور کم باتھ روم کا استعمال بھی زیادہ ہو گیا تھا، اس باتھ روم میں ایک پیتل کا لوٹا ہوا کرتا تھا مابدولت جب باتھ روم میں گئے تو اچانک ایک بجلی کوندی کہ اس لوٹے کی آمدورفت کو کیسے معطل کیا جائے؟؟ فورا کہیں سے سائیکل کی ٹیوب کو کاٹا کر دو فٹ کا ٹکڑا کاٹ لیا گیا پھر اس کے بعد ایک سرالوٹے کے پیندے کے ساتھ وہ ربڑ کا ٹکڑا باندھ دیا گیا اور دوسرا آہنی پلنگ کے پائے ساتھ. جب لوٹا مطلوبہ مقام سے پہلے ہی تیزی سے واپس لوٹے گا تو یہ سوچ سوچ کر ہی ہنس ہنس لوٹ پوٹ ہو رہا تھا کہ اچانک دادا جان کو سنا کہ وہ میرے نام ِ نامی کے ساتھ اس جانور کا نام لے رہے تھے۔ جس کا نام لینے کے بعد چالیس دن تک زبان ناپاک ہو جاتی ہے۔ دادا سے پیٹ رہا تھا اور ساتھ ساتھ قسمیں کھا رہا تھا کہ یہ حرکت میں نے نہیں کی مگر حضرت دادا جان چونکہ میرے دادا جان تھے گویا ہوئے پتر یہ شرارت ترے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا.
اس طرح کی کوئی خر مستیاں آپ کے پاس ہوں تو ابھی دیر نہیں ہوئی ۔۔

Leave a Reply