پاکستان میں بڑھتے ہوئے سائبر کرائم: ارشد نذیر بھٹہ

پاکستان میں بڑھتے ہوئے سائبر کرائم: ارشد نذیر بھٹہ

یوں تو پاکستان میں سائبر سپیس لاز یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر اور سافٹ ویئر سے متعلق جرائم کے تدارک کے قوانین کا اطلاق ہو چکا ہےحکومت تاثر ایسا دینے کی کوشش کرتی ہے کہ متعلقہ ادارے اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لئےخاصے متحرک ہیں لیکن زمینی حقائق کوئی اور کہانی سناتے ہیں۔ ہمارے ہاں سارا زور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے پر لگایا جاتا ہے۔ آئے روز سوشل میڈیا پر لکھنے والے یا اپنی آرا کا اظہار کرنے والے لوگوں کو پابندی کا سامنا رہتا ہے۔ اس میں فیس بک کی اپنی پالیسی کا کتنا کردار ہے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی اور ایف۔آئی۔اے کا کیا کردار ہے۔ اس پر حکومتی پالیسی نہ صرف مبہم ہے بلکہ لگتا یوں ہے حکومت اس حوالے سے اپنی واضح پالیسی اور اس سے متعلق شفافیت کو عوام کے ساتھ شیئر کرنے قصداً گریزاں ہے۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران میرے دو دوستوں نے موبائل اور ای میل کے ذریعے سے ہونے والے ایسے جرائم کے بارے میں میرے ساتھ ڈسکشن کی ہے اور قانونی مشاورت چاہئی ہے۔ ای۔میل پر ہونے والا یہ جرم خاصا عام ہے اور شاید قارئین میں سے بھی بہت سوں کو اس طرح کا ذات تجربہ ہو چکا ہو۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ کوئی شخص خود کو مغربی ممالک میں سے کسی ایک ملک کا متمول بوڑھا مرد یا عورت ظاہر کرتا ہے اور اپنی دولت کسی معتمد خیراتی یا فلاحی ادارے یا شخص کے حوالے کرنا چاہتا ہے تاکہ مرتے وقت اُس ایک روحانی سکون میسر ہوسکے۔ وہ کہیں سے آپ کا ای میل ایڈیس تلاش کرکے آپ کے ساتھ رابطے میں آتا ہے اور یہی ساری کہانی آپ کو سناتا ہے۔ اگر وہ آپ کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہو جائے تو ایک دو مزید ای میلز کے بعد وہ آپ سے آپ کے بنک اکاؤنٹ اور موبائیل کنٹیک مانگ لیتا ہے اور آپ سے کہتا ہے کہ آپ کچھ رقم اپنے اکاؤنٹس سے اس کی طرف ٹرانسفر کریں تاکہ وہ آپ کے بنک اکاؤنٹ نمبر کی تسلی کرسکے اور آپ کو رقم کی ٹراسفر کرسکے یا پھر وہ بہانہ بناتا ہے کہ اتنی بڑی رقم کے ٹرانفسر پر کچھ تھوڑا سا خرچہ آتا ہے۔ وہ آپ سے التجا کرتا ہے کہ آپ وہ خرچہ اُسے بھیج دیں تاکہ رقم آپ کو ٹرانسفر کی جاسکے۔ کبھی کبھار خود کو بھی بڑی این۔جی۔او ظاہر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ جنوبی افریقہ میں لوگوں کی فلاح و بہبود کا کام کررہے ہیں۔

اسی قسم کا واقعہ میرے ایک سندھی دوست نے چند روز قبل مجھے بتایا۔ کہتا ہے کہ اُس کے ساتھ کسی بندے میں ای میل پر رابط کیا۔ اُس نے اُسے بتایا کہ وہ امریکہ میں رہتا ہے۔ وہ خاصی بھاری رقم پاکستان کسی فلاحی کام کے لئے بھیجنا چاہتا ہے۔ اعتماد میں لینے کا وہی روایتی طریقہ تھا۔ جب دونوں میں اعتماد پیدا ہوگیا، تو اُس نے کہا کہ پاکستان میں موجود اُس کا کوئی معتمد ساتھی اُس کے ساتھ رابطہ کرکے اُس کی تصدیق کرے گا۔ جب اُس نے موبائل نمبر دیا تو اُسے ایک نمبر سے کال آئی۔ اُس نے کال پر اپنا تعارف کرایا اور اُس سے وہ ساری باتیں شیئر کیں۔ وہ رقم ٹرانسفر پر اٹھنے والے اخراجات اُس کو اُس کے دیئے گئے اکاؤنٹ نمبر پر ٹرانسفر کرے۔ اُس نے کوئی ایک لاکھ بیس ہزار اُس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیئے۔ دو تین موبائیل ٹرانزیکشنز کے ذریعے کوئی ڈیڑھ لاکھ اُس کو ٹرانسفر کئے گئے۔ اُس کے بعد سے اُس کا موبائل نمبر مسلسل بند جارہا تھا۔ اُس نے اپنی بنک برانچ رابطہ کیا اور رقم وصول کنندہ کے اکاؤنٹ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ پتا چلا کہ فراڈیا کہیں جہلم سے تعلق رکھتا ہے۔

دوسرا واقعہ کچھ یوں ہے کہ میرے ایک دوست کو موبائل پر کال آئی۔ کالر نے اپنا تعارف بنکر کے طورپر کرایا اور کہا کہ اُس کا اے۔ٹی۔ایم ایکسپائر ہو چکا ہے۔ اب اس کی تجدید ہونی ہے۔ اُس نے میرے دوست کو اُس کا نام اور بنک برانچ کا بتایا۔ پھر اُس کے اُس کے اے۔ٹی۔ایم کارڈ کے پیچھے لکھے گئے نمبر کے بارے میں پوچھا۔ اُس نے وہ نمبر بتایا۔ پھر اُس سے کارڈ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ کے بارے میں پوچھا۔ پھر اُس نے میرے دوست کو کہا کہ وہ اب اُس کے کارڈ کی تجدید کے لئے ایک کوڈ اُسے بھیجے گا، وہ اُس نے پڑھ کر اُسے بتا دینا ہے۔ جونہی اُس نے وہ کوڈ نمبر پڑھا تو اُس کے اکاؤنٹ سے 80 ہزار روپے کی رقم نکل چکی تھی۔

احساس پروگرام، انکم سپورٹ پروگرام پر پیسے نکل آنے والے میسجز تو غالباً پاکستان میں ہر تیسرے شخص کو آتے ہوں گے۔ کبھی کبھار کچھ نوسرباز خود کو انٹیلیجنس کا ملازم ظاہر کرکے بھی اس طرح کے فراڈ کرجاتے ہیں۔
اب یہ وہ فراڈ یا فراڈ کی طرف مائل کرنے والی اس جدید ٹیکنالوجی سے متعلقہ چیزیں ہیں جس کی سختی سے بیخ کنی حکومت کا فرض ہے لیکن یہ اور اس قسم کے جرائم ایسے ڈھرلے سے یہاں ہورہے ہیں کہ حکومت اس میں یا تو بے بس نظر آتی ہے یا پھر ان اداروں کے اندر ہی کے ملازمت رشوت اور بدعنوانی کی وجہ سے ایسے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ملے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ لگتا کچھ ایسا ہے کہ حکومت ایسے جرائم کی روک تھام کے لئے بے بس ہے اس لئے بس لوگوں کو اس سلسلے میں کچھ تنبہہ والے پیغامات بھیج کر اپنی ذمہ داری سے مبریٰ ہوجاتی ہے۔ بنکوں نے بھی اس حوالے سے خود کو بس تنبیہہ تک محدود رکھا ہوا ہے۔

سائبر سپیس کے یہ جرائم صرف افراد تک محدود نہیں ہیں۔ ہیکرز ہمارے اداروں کے اہم ڈیٹا کو چور کرنے کی کوشش بھی آئے روز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلے ہفتے ایف۔ بی۔آر کا ڈیٹا کسی ہیکر نے ہیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایف۔بی۔آر نے اپنی سائٹ کو دو دن کے لئے بند رکھا۔ خیر یہ پرائم تو پوری دنیا میں ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے جدید مسائل سے متعلق ہے۔ البتہ ہمارے تناظر میں جو بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ لگتا کچھ ایسا ہی ہے کہ ہمارے یہ ادارے ٹیکنالوجی کے اس مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے مکمل طورپر ٹرینڈ نہیں ہیں۔
ہاں البتہ ہمارے یہ محکمے سوشل میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے اور لکھاریوں کی زبان بندی کے لئے خاصے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں ماہر ہیں۔”

Leave a Reply