پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق مسعود احمد

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق: مسعود احمد

رات دن الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر حکومتی وزیروں مشیروں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ عوام کو یہ باور کروانے پر لگے ہوئے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں ہے. امن وامان تسلی بخش ہے. راوی چین ہی چین لکھ رھا ہے. کروونا حکومت کے رعب داب سے ختم ہو چکا ہے. ڈینگی کی کیا مجال ہماری ڈینگوں کے سامنے دم مار سکے. سموگ کی آ لودگی پورے ملک میں کہیں نہیں ہے . مشیران باتدبیر جاں بلب عوام کو بہترین تراش خراش کے کپڑے لتوں میں بیٹھ کر مزید روح فرسا خبریں سناتے ہیں کہ مہنگائی تو ابھی ہونی ہے. جذبات سے عاری روبوٹس کی طرح گفتگو کرنے والے حکومتی نمائندے اس لہجے میں گفتگو فرماتے ہیں جیسے اس مہنگائی سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں اور کل کلاں الیکشن میں عوامی عدالت سے انہیں کوئی خطرہ نہیں. ایک لحاظ سے وہ بھی درست ہیں کہ شوکت ترین یا رضا باقر جیسے ورلڈ بینک اور آ ئی ایم ایف کے ہرکاروں کو پاکستانی عوام کے مفادات سے کیا سروکار ہو سکتا ہے!‌حیرت تو تحریک انصاف کی اس قیادت کے رویے پر ہے جو بائیس سال کی‌ جدو جہد کے بعد عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر آ ی اسے بھی مہنگائی سے ماری عوام کے مسائل کا رتی بھر احساس نہیں خاں صاحب کی نظر میں اس قوم اور ملک کاسب سے بڑا مسلہ evm, مشین اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ہے شاید انکی دانست میں یہی ہے کہ گرانی کی چکی میں پسنے والے اندرون ملک پاکستانی لہلہاتے‌سبز باغوں کی کہانی جان چکے ہیں لہذا اب یہ چورن اوور سیز پاکستانیوں کو بیچا جائے

عرصہ پہلے لاہور میں حلقہ ارباب ذوق کے الیکشن میں ایک نوجوان ادیب ایک سینئر ادیب کے مقابلے میں جنرل سیکرٹری کا الیکشن لڑ رھا تھا.‌ ووٹ مانگنے کے لیے شاعر سرور مجاز کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے کہا کاکا میں تمہیں نہیں جانتا تمہارے مقابلے میں کون ہے نوجوان نے مقابل سینئر ادیب کا بتایا تو مجاز صاحب نے کھڑے ہوکر کہا کہ میں تمہیں ووٹ دو نگا کیونکہ کہ تمہیں تو میں نہیں جانتا مگر تمہارے مقابل کو اچھی طرح جانتا ہوں .

حکومت شاید یہی سمجھتی ہے کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی اپوزیشن کو جانتے ہیں مگر حکومت کو نہیں مگر یہ شاید گورنمنٹ کی غلط فہمی ہے حالات و واقعات نے حکومتی کارکردگی کو بھی بری طرح ایکسپوز کردیا ہے .‌عوامی مسائل پر توجہ دیے بغیر حکومت ہر وہ تدبیر کر رہی ہے کہ اگلے پانچ سال کیا اس سے بھی اگلے کئی سال ان سسکتے ڈھانچوں پر دانت گاڑے رکھے جن پر عوام ہونے کا الزام ہے اپوزیشن کا مطمع نظر بھی یہی ہے کہ کسی طرح دوبارہ اقتدار پر قبضہ کی کوئی صورت نکلے یہاں چلنے والی اختیارات کی رسہ کشی اب لندن منتقل ہو چکی ہے لڑای مارکٹائی سے بھرپور مولا جٹ ان لندن عوام انکا بھی مسئلہ نہیں مہنگائی سے انہیں بھی کوئی سروکار نہیں ظاہر ہے کھرب پتیوں کے وہ مسائل ہرگز نہیں جن کا سامنا عام پاکستانی کو ہے چولہے ٹھنڈے بیروزگاری کا بڑھتا سیلاب دو وقت کی روٹی محال پٹرول غریب کی پہنچ سے دور مہنگائی پروف حکومتی وزرا کو اس سے کیا غرض موٹر سائیکل والے سائیکل کیا پیدل چلنے پر مجبور ہیں غلط منصوبہ بندی سے گیس کے معاہدے بھی بروقت نہیں ہو سکے .

چینی کی قیمتیں پاک چین دوستی کو عزت دینے کے لیے ہمالہ سے جالگی ہیں اس ہوش ربا گرانی کا سارا نزلہ عضو ضیعف یعنی عوام پر گر رھا ہے حکومت اور اپوزیشن پر اس‌ کے کیا اثرات کیا وزیروں مشیروں کی مراعات میں کوی کمی ہوئی ان کی گاڑیوں کا پٹرول کم ہوا.‌‌ وزارتوں کے لیے تو اب بھی نئی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں کیبنٹ کے ممبران کا کہنا ان کی حد تک درست ہے کہ کہاں ہے مہنگائی ماشاءاللہ آ ج کل میڈیا پر نیا یدھ ججز کی ٹیپس کے حوالے سے چل رہا ہے کہانی وھی پرانی ہے کل کی ٹیپ میں جسٹس قیوم اور موجودہ قائد حزب اختلاف تھے آ ج کی ٹیپ میں وھی کردار نئے لوگ نبھاتے ہوئے نظر آ تے ہیں قطع نظر عوامی مسائل کے حکومت اور اپو زیشن تمام اخلاقی ضابطوں کو پس پشت ڈال کر چومکھی لڑائی لڑ رہی ہے سپورٹس مین وزیراعظم جو کبھی فرمایا کرتے تھے کہ کرکٹ میں غیر جانبدار ایمپائر وہ لیکر آ ئے آ جکل بڑے فخر سے فرماتے ہیں وہ اور ایمپائر ایک پیج پر ہیں.

Leave a Reply