عبرت کا مقام: محمد ابراہیم

عبرت کا مقام: محمد ابراہیم

پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان جب معرض وجود میں آ چکا، اس کے بعد بھی مسلمانوں کی کثیر تعداد بے روزگاری کا شکار تھی۔کاروبار کے میدان میں تو مسلمان آٹے میں نمک کے برابر تھے۔

اس کی مثال ایک پروفیسر صاحب نے بڑی دلچسپ دی کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لیے روانہ ہونے لگے تو انہوں نے امانتیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد کیں اور انہیں اپنے بستر پر لٹایا۔یہ امانتیں ان کافروں کی تھیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے تو جانی دشمن لیکن اپنی امانتیں حضور کے سپرد اس لیے کرتے تھے کیوں کہ وہ کفار بھی جانتے تھے کہ آپ صادق و امین ہیں۔

ٹھیک یہی کام اس وقت کے ہندو کر رہے تھے یعنی انہوں نے کاروبار کے میدان میں اپنے آپ کو صادق و امین منوا لیا تھا۔جس کی وجہ سے ان کا کاروبار عروج پر تھا،اور مسلمانوں کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ فراڈ کرتے ہیں،دھوکا دیتے ہیں اور دو نمبر مال بیچتے ہیں۔

پاک بھارت کشیدگی: محمد ابراہیم

ہند و پاک کے مسلمان اس وقت کاشتکار تھے لیکن کاشتکاری میں بھی قبضہ مافیا زیادہ تھا۔آج بھی تھانوں میں ان گنت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے عزیزوں کی زمینوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ کئی برس گزرنے کے بعد اگر آج ہم اپنا جائزہ لیں تو ہمیں یہ اندازہ ہوگا کہ ہم نے مزید بے ایمانی میں کئی مراحل طے کر لیے ہیں۔ساری دنیا ہم سے پناہ مانگتی ہے۔

جب شاہد خاقان عباسی صاحب امریکہ نجی دورے کے لیے گئے تو انہیں ایک خاص عہدے پہ ہونے کے باوجود شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جب امریکہ والوں نے ان سے شلوار قمیض اتروا کے تلاشی لی تو کیا ہی ہمارے لیے ذلت کا مقام تھا۔ان کی مخالف پارٹی نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ ن لیگ والے چور ہیں اس لیے ایسا ہوا۔

یہ کسی نے نہیں سوچا کہ جب عباسی صاحب امریکہ گئے تھے تو پورے پاکستان کی نمائندگی کے لیے گئے تھے نا کہ ن لیگ کی نمائندگی کے لیے۔یہ ہم سب پاکستانیوں کے لیے عبرت کا مقام تھا۔

اگلے سال بھارت کے ایک وزیر کے ساتھ جب امریکہ والوں نے یہی رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ایسا نہیں کرنے دیا اور واپس ہو گئے۔بھارت میں امریکہ کے اس رویہ پر بھرپور احتجاج کیا گیا۔جس پر امریکہ والوں نے نہ صرف ان سے معافی مانگی بلکہ یہ بھی کہا کہ آپ اس قانون سے مستثنیٰ ہیں!

Leave a Reply