معزز چور ڈاکو حضرات : مسعود احمد

معزز چور ڈاکو حضرات! : مسعود احمد

حضور وہ وقت گیا جب چور ڈاکوؤں کو معزز نہیں سمجھا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ روایتیں اور قدریں تبدیل ہو رھی ہیں. آ ج کل جتنا بڑا چور اور ڈاکو ہے اتنا ہی معزز ہے

پروردگار جب جی چاہے بندے کو ہدایت دے. میں یعنی وزیراعظم پاکستان جنہیں پاکستان کے سب سے بڑے ڈاکو سمجھتا تھا آ جکل وہ میری کابینہ کا ہراول دستہ ہیں. عروس البلاد کراچی کی تاریکیوں کے ذمہ داران تصور کیے جانے والوں کے بارے میں بھی میں نے اپنی رائے تبدیل کرلی ہے. جیسے جیسے اپوزیشن کے لوگ میری صفوں میں شامل ہوتے جائیں گے وہ دودھ میں دھلتے جائیں گے.

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کے نو گو ایریاز: مسعود احمد

تمہید ذرا بڑی ہوگی ہے اصل مدعا کی طرف آ تا ہوں جیسا کہ آ پ جانتے ہیں کہ آ پ کی چوریوں اور ہماری سینہ زوریوں کے سبب حالات بد سے بد ترین ہو رہے ہیں. اوپر سے آ ئی ایم ایف نے بھی آ نکھیں ماتھے پر رکھ لی ہیں. امداد کیا قرض کے بدلے میں سخت ترین شرائط رکھ رہے ہیں اگرچہ ہم نے سخت ترین کے لیے شوکت ترین کا انتخاب کیا مگر بات نہیں بن رہی لہذا بطور وزیراعظم میں نے یہ فیصلہ مناسب سمجھا بھلے میں اپوزیشن میں بیٹھنے والوں سے جنہیں میں چور ڈاکو کہتا ہی نہیں سمجھتا بھی ہوں یہ اپیل کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ آ پ مہربانی فرما کر ملک سے لوٹی ہوئی دولت ملک میں لے آ ئیں. بھائی جی تاکہ میں اور میری حکومت سکھ کا سانس لے سکے . آ خر یہ ہمارا ملک ہے. اگر یہ ہے تو آ پ کو آ ئند ہ بھی یہاں حکومت کے مواقع مل سکتے ہیں. اس کے علاوہ ایک چھوٹا سا پیکیج بھی آ پ حضرات کی نذر کرنا چاہتا ہوں. پانامہ سے لوٹی ہوئی رقم وطن بھیجنے والوں کو پینڈورا لیکس کی رقوم میں رعایت دی جائے گی اگرچہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پینڈورا لیکس میں ہماری کابینہ کے بندے بھی نکل آ ئے.

دوسرا مجھے اس بات کا بھی اعتراف کرنا ہے کہ نواز شریف اور انکے بیٹے اتنے سیدھے بھی نہیں جتنے شکل سے نظر آ تے ہیں. خصوصاً میاں صاحب کیسے مجھے اور مجھ سے بڑوں کو چکمہ دے کر نکل گئے. اس معاملے میں مجھے سب سے زیادہ گمراہ شیخ رشید نے کیا ہے. وہ مجھے مسلسل یہی بتاتا رھا اپوزیشن سرا سر نکمی اور نالائق ہے .

ویسے اقتدار میں آ نے سے پہلے مجھے ہر گز اندازہ نہیں تھا کہ لوٹ کھسوٹ کا پیسہ واپس لینا اتنا مشکل ہو سکتا تھا مجھے تو مراد سعید نے یہی بتایا تھا کہ ادھر ہم اقتدار میں آ ئے ادھر دو سو ارب ڈالر ہماری جیب میں مگر الٹا ہوا یہ بقول نیب کے جو کئی سو ارب روپے کی ریکوری ہوئی اس کا بھی پتہ نہیں چل رہا .

براڈ شیٹ کیس میں بھی پلے سے ڈالر دینے پڑے . حکومت بناتے وقت اس بات کاخاکسار کو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ کچھ چور گھس بیٹھیوں کی طرح میرے ساتھ بھی شامل کر دیے جائیں گے ان میں کچھ تو اچھا خاصا مال پانی اکھٹا کرکے علی پنج ہو چکے ہیں بعض اب بھی یہی کام کر رہے ہیں ان کو کچھ کہنا ڈان کو پکڑنے کی طر ح مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے کیونکہ ان کے مرشد بڑے تگڑے ہیں.

سو باہر بیٹھے چور بھائیوں! میری آ پ سے اپیل یہی ہے کہ اپنے ووٹروں کی خاطر لوٹی رقم واپس کردیں تاکہ ہم روز روز یہ مہنگائی کے بم مارنے سے گریز کر سکیں. آ پس کی بات ہے حکومت میں آ کر مجھے پتہ چلا ہے کہ ہماری پولیس کتنی مظلوم ہے . اگر میں ملک کا وزیراعظم ہوکر چوروں ڈاکووں سے رحم کی اپیل پر مجبور ہوں تو بیچاری پولیس چوروں رسہ گیروں کا کیا بگاڑ سکتی ہے.

معزز چور ڈاکو حضرات اگر آ پ چاہیں تو یہ اپیل کابینہ سے بھی کروا سکتا ہوں. باقی رھی اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کی بات اس بارے میں میرا موقف سو فیصد اٹل ہے چوروں ڈاکووں سے ہاتھ نہیں ملایا جا سکتا
والسلام
آ پکا اپنا وزیراعظم
نہ بکنے والا نہ جھکنے والا

Leave a Reply