ہسٹیریا اور فوبیا کے مارے لوگ: محمد زبیر مظہر پنوار

ہسٹیریا اور فوبیا کے مارے لوگ:محمد زبیر مظہر پنوار

میں نے اک عمر صنف نازک کے متعلق بڑی ہی گہرائی سے سوچا پرکھا دیکھا اور مشاہدہ کیا ہے ۔ ہاں یہ غلط نہ ہو گا کہ اگر میں سادہ الفاظ میں کہہ دوں؛ خدا کے بعد اگر کوئی خدا ہوتا تو وہ یقینا عورت ہی ہوتی ۔ دلیل کے لیے اتنا کافی نہیں کہ وہ ایک وجود اور روح کو جنم دیتی ہے اور نو مہینے اسے اپنی کوکھ میں بناتی رہتی ہے۔ دیکھیں مجھے عورتیں پسند ہیں ۔ خصوصا خوب صورت لڑکیاں مجھے میرے لڑکپن سے ہی بہت زیادہ پسند ہیں ۔ میرا ماننا یا نظریہ بھی یہی ہے کہ مرحومہ محترمہ میڈیم نور جہاں کہا کرتی تھیں
; میں حسن پرست ہوں صاحب؛ ہوس پرست نہیں ہوں۔
دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ مباشرت/جنسی عمل کے لحاظ سے ہم مرد لوگ دنیا کی وحشی ترین مخلوق ہیں۔

حقیقت کا اعتراف کرنے میں حرج نہیں ہے۔ میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ مجھ سمیت شاید دنیا کا ہر مرد چاہے گا کہ وہ دنیا بھر کی خوب صورت لڑکیوں/عورتوں سے کم سے کم ایک بار تو مباشرت ( جنسی عمل ) کر گزرے ۔ لیکن ایسا ہو پانا ممکن نہیں ہے۔ خیر بالفرض اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو ہمارا جسم ہمارا ساتھ کب تلک دے سکتا ہے۔ ہم عمر کے ایک حصے میں جنسی تعلق نبھانے کے لائق نہیں رہتے ۔ ہاں یہ بھی ٹھیک ہے کہ بطور مرد میں کہہ سکتا ہوں کہ ہماری خواہشات کبھی نہیں مرتیں یا دبائی جا سکتی ہیں۔

اور جہاں تک ہم مسلمانوں کے معاشرے ، تہذیب و ثقافت کا سوال ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی نام نہاد اسلامی ریاستیں ہیں۔ وہاں مذہب اور سیکس ، فوبیا کی شکل اختیار کر چکے۔ آپ جب ہر چیز کو مذہب کی عینک لگا کر دیکھو گے تو یہی کچھ ہو گا۔ آپ مغرب کی طرف دیکھ لیں۔ وہاں یہ فوبیا اگر پایا بھی جاتا ہے تو بہت کم سطح پر ۔ میں جانتا ہوں کہ ہم میں سے اکثر لوگ یہ رائے اور سوچ رکھتے کہ وہ مادر پدر آزاد معاشرے کے باسی ہیں۔ وہاں ماں بہن کی تمیز و تفریق نہیں ۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ ساری بات انسان کی نفسیات کی ہیں۔ اور یہ سب ہمارے ارد گرد بسے لوگوں اور ملنے جلنے والوں پہ منحصر ہے۔ یا پھر آپ کے اپنے گھر والے اس کا موجب بنے۔ دیکھیں گھر والے اس لیے کہ بچپن سے جوانی تک آپ کے ساتھ دیگر افراد کا رویہ کیسا رہا ۔ آپ کا ماحول کیسا تھا۔ اسی بنیاد پر آپ کی نفسیات اور شخصیت بنتی ہے۔ اگر آپ کو اپنے آس پاس ہسٹیریا یا فوبیا ملے گا تو آپ خوف ڈر کا شکار ہوتے ہوئے بھی نہ اٹھنے والا قدم بھی اٹھا لیں گے۔ اور پھر دنیا کے ہر معاشرے میں جانگلی وحشت تو ضرور پائی جاتی ہے کہ انسان تمیز و تفریق بھول کر نادستیاب شئے کو حاصل کرنے کے لیے تہذیب و ثقافت یا معاشرے میں رائج قوانین و ضوابط یا اصول توڑ دیتا ہے۔ اور ہمارے ہاں تو ہر آئے دن اخبارات میں ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ آپ کو اپنے بچوں کو اپنی مرضی سے جینے دینا چاہیے۔ وہ اپنی شخصیت اور نفسیات خود تعمیر کریں ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ان کو غلط کام کرنے دیں یا پھر مادر پدر آزاد معاشرے کی بنیاد رکھ کر دیں۔ اگر بچوں کی شخصیت اور نفسیات کو نکھارنا ہے تو ان کو صرف یہ سمجھا دیں کہ دیکھو اس کام کو کرو گے تو فلاں نقصان ہو سکتا ہے اور نقصان کے ذمہ داری تمہاری ہو گی۔ ہم تم کو کچھ نہیں کہیں گے لیکن خود سے فیصلہ کر لینا کہ تم ہونے والے نقصان کا ازالہ کیسے کرو گے۔

رہ گیا ہمارا تشخص تہذیب اور معاشرہ تو ہمارے ہاں مذہب اور سیکس فوبیا کی شکل میں موجود ہیں۔ ہم ہر کام کو مذہب کے حساب سے دیکھتے ہیں۔ لیکن جنسی فعل کرتے وقت ہمیں مذہب کا یاد نہیں رہتا۔ اب چاہے ہمارے ہاتھ لڑکا لگے یا لڑکی بوڑھے نوجوان یہاں تک کہ ہمارا جانگلی پن اس نہج کو پہنچ چکا کہ ہم دو چار سال کے بچوں اور غیر مذہب کے لوگوں سے بھی سیکس کر گزرتے ہیں میں نے بہت سوچا کہ دراصل سیکس ہے کیا چیز ؛ فطرت یا نفسیات ۔

مجھے دو طرح کے جواب ملے کہ جہاں پہ مذہب اور سیکس فوبیا نہیں وہاں پہ جنسی تعلق فطرت اور انسانی آبادی کے ارتقاء کی وجہ ہے۔ لیکن نام نہاد مسلم ریاستوں میں یہ صرف نفسیات اور شخصیت کے نہ نکھرنے کی وجہ سے ہے۔

دیکھیں جب تک آپ فطرت کے مطابق نہیں چلیں گے تو یہ مسائل کبھی حل نہ ہو سکیں گے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم رکھ رکھاو ، دکھاوے اور بناوٹی فوبیا و ہسٹیریا کو ترجیح دے کر فطرت کو ہمیشہ انکار کرتے رہیں گے۔ کیوں کہ ہمیں چوری چھپے جنسی فعل بھی کرنے ہیں اور جنتی دوزخی بننے یا بنانے کی ذمہ داری بھی اپنے پاس سنبھالے رکھنی ہے۔

Leave a Reply