میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

افغان کا رقص؛ افغانستان میں طالبان پالیسی کے تحت سب سے پہلے تعلیمی نظام میں تبدیلی لائی گئی۔ مخلوط نظام تعلیم یکسر رد کر دیا گیا ۔ پھر طالبان کی حکومت کا موقف آیا کہ ہم عورت کی تعلیم، اس کی ملازمت اور اس کی شخصی آزادی کے مخالف نہیں ، لیکن طالبان زیادہ عرصہ اپنے اس منافقانہ بیان کا بھرم نہ رکھ سکے۔

طالبان نے فنون لطیفہ کے سب شعبے عورت کیلئے شجرممنوعہ قرار دے دئیے ۔ اور اسی پابندی ء سلاسل کا سامنا تھا ایک افغان صوفی ازم کی رقاصہ کو۔

فہمیدہ میر زائی کو طالبان کی شدت پسندی سے اس قدر خطرہ لاحق تھا کہ انہیں افغانستان سے فرار ہونا پڑا ،کیونکہ طالبان اور کچھ مذہبی حلقے اس واحد صوفی رقاصہ کو ملحد قرار دیتے ہیں ۔

فہمیدہ میرزائی کے خیال میں صوفی رقص لوگوں کو رومی کے اعتدال پسند رویے سے روشناس کرواتا ہے اور انسان کی سوچ پر بہت مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

صوفیانہ رقص کی ایک تصویر

فہمیدہ کے دورہ بلخ کے دوران ایک شدت پسند حملے سے گھبرا کر صوفی رقص کے گروپ کے سربراہ نے وہاں سے نکل جانے میں بھلائی سمجھی کیونکہ حکومت بھی انھیں باور کرا چکی تھی کہ اب وہ کابل کے علاوہ کہیں دورہ نہیں کر سکتے کیونکہ بلخ جسے رومی کا جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے وہ بھی طالبان کے قبضے میں تھا، اس شدت پسندی کی ہوا کو بھانپتے ہوئے آغا خان فاونڈیشن نے بھی معذرت کر لی تھی ۔ پروگرام واپسی میں تبدیل کر دیا گیا۔

اب فہمیدہ میرزائی کو اپنا وطن چھوڑنے کے علاوہ کوئی صورت نظر نہ آتی تھی لہذا وہ بھی ہم وطنوں کی طرح بھاری دل سے اپنا دیس کسی اور کے حوالے کر کے فرانس ایمبیسی کے زریعے طالبان کے شکنجے سے فرار ہوگئی۔

Leave a Reply