روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے: مسعود احمد

روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے: مسعود احمد

جون ایلیا نے بہت دیر پہلے کہا تھا

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

کم و بیش تیس سال پہلے کہا گیا یہ شعر آ ج بھی بالکل تازہ محسوس ہوتا ہے اگرچہ میڈیا پر سرکاری مشیران اور وزیران باتدبیر کے ساتھ ہمارے لوک گلوکار لالہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اور فوک سنگر ابرار الحق ا چھے دنوں کی نوید دیتے نہیں تھکتے. خان صاحب اپوزیشن میں تھے تو پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات کے بہت بڑے حامی تھے اور یہ کام کے پی میں مرحوم ناصر درانی کی قیادت میں ہوا بھی مگر بد قسمتی سے پنجاب میں اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا. خیر یہ ساری بات ہمیں بھی تب یاد آئی جب صبح ایک وقتی صدمے سے گزرنا پڑا. کس طرح جعلساز اور فراڈیے ہمارے جذبات سے کھیلتے ہیں اور ان کے سدباب کے لیے عام شہری کتنے مفلوج اور بے بس ہیں.

قدم قدم پر یہی صورت حال . کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں. ہوا یوں کہ ریٹائر منٹ کے بعد اگر کچھ میسر ہے تو صبح شام فراغت ہی فراغت اور رات گئے تک میڈیا پر مختلف ٹاک شوز دیکھ کر رات گئے تک ان کی اذیت سےلطف اندوز ہونا اور صبح دیر تک بستر پر سونے کی کوشش کرنا، صبح بستر پر کروٹیں بدل رھا تھا کہ منجھلا بیٹا علی مسعود جو مقامی کالج میں بی اے کا طالب علم ہے، کالج جاتے ہو سلام کے لیے ملا. کچھ دیر بعد اسکے ماموں جو ساہیوال کے مکین ہیں.

یہ بھی پڑھیں: معزز چور ڈاکو حضرات! : مسعود احمد

فون آ یا اور ہماری اہلیہ سے فون پر بات کروانے کا کہا ہم نے فون بیگم کو دیا کہ آ پکے بھائی کا فون ہے خیر فون پر انہوں نے علی کے بارے میں پوچھا اھلیہ نے بتایا کہ تھوڑی دیر پہلے کالج گیا ہے تب انہوں نے بہن کو بتایا علی کو کچھ دیر پہلے پولیس نے پکڑ لیا ہے. الزام ایک ڈکیتی اور لڑکی کے فرار میں سہولت کاری کا ہے . بقول بچوں کے ماموں کے تفتیشی افسر کے مطابق آ پکا بچہ اس معاملے میں بے گناہ لگتا ہ. اصل ملزم ہم نے گرفتار کر لیا ہے. آ پ کے لیے مناسب ہے ہم سے مک مکا کرلیں ورنہ ہم اس پر بھی پرچہ دے دیں گے.

ظاہر ہے یہ سب سننے کے بعد ہمارے ہاتھ پاؤں پھول گئے. چھوٹا بھائی جو پراسیکیوٹر آ فس میں سپرٹینڈنٹ ہے، کو فون کیا کہ بھائی متعلقہ تھانے سے پتہ کرو . پھر اپنے خالہ زاد اور بہنوئی میاں سرفراز کو فون کیا جو ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر ہیں وہ بھی آ گئے. چھوٹے بھائی کا فون آ یا کہ اوکاڑہ میں کسی تھانہ میں کوئی ایسا کیس رپورٹ نہیں ہوا . بچے کے ماموں سے وہ فون نمبر منگوایا جس سے انہیں کال موصول ہوئی تھی. وہ فون بند تھا کچھ توقف کے بعد کھلا ملا تو اس نے بتایا میرا تعلق تھانہ صدر عارف والا سے ہے ہم آ پکے لڑکے کو عارف والا لے آ ئے ہیں اگر اس کی خیریت چاہتے ہیں تو تھانہ صدر عارف والا پہنچ جائیں اور میں اس کیس کا تفتیشی ہو ں اور میرا نام میاں شعیب ہے. سرفراز بھائی نے جب تعارف کروایا تو اس نے فوراً فون بند کر دیا. ہماری تو اس واقعہ کے بعد سٹی ہی گم ہوگئی مگر سرفراز پریشانی کے باوجود حواس میں تھے.

انہوں نے لوکل تھانے سے پتہ کروایا کہ کسی دوسرے ضلع کی پولیس آ مد یا روانگی کی کوئی اطلاع لوکل تھانے میں ہے، جو ہر گز نہیں تھی. چھوٹے بیٹے نے ڈرتے ڈرتے کہا ابوجی ایک دفعہ کالج پتہ کرلیں. ہم یعنی میں میاں سرفراز اور بڑا بیٹا عارف تھانے کے لیے تیار تھے. تھوڑی دیر بعد چھوٹے بیٹے کا فون آ یا کہ علی تو اپنی کلاس میں ہے. بے یقینی میں کہا اس سے بات کرواو اس نے بات کی ظاہر ہے اسے کسی بات کا مطلق علم نہیں تھا. اسکی آ واز سن کر دل کو قرار میسر آ یا ان دو گھنٹوں میں جو ہمارے گھر پر گزری خدا کے بعد ہم ہی جانتے ہیں.

گھر بیٹھے بٹھائے کیسی افتاد آ ن پڑی. پوچھنا یہ ہے کہ ان نو سر بازوں فراڈیوں کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ میڈیا پر بیٹھ کر چٹکلے بازی کرنے والے ایسے واقعات کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟

یہ سارا واقعہ قلمبند کرنے کا مقصد یہی ہے کہ جس اذیت سے ہمارا گھر دوچار ہوا ہے دوسروں کو اس سے بچایا جاسکے اس جعلساز تفتیشی کا نمبر جس پر اس سے بات ہوئی ہمارے پاس موجود ہے. ریاست مدینہ کے نعرے لگانے والوں خدارا! معاملات پر توجہ دو ایسی بے بنیاد خبریں بوڑھے بیمار والدین کے لیے جان لیوا ہوسکتی ہیں. آ خر میں ان فراڈیوں سے بھی رحم کی اپیل ہے. بے کس اور بے بس لوگوں پر ترس کھائیں کیونکہ اگر اس واقعے کا وزیراعظم نے نوٹس لے بھی لیا تو انہوں نے بھی اپیل والا کام ہی کرنا ہے!

Leave a Reply