اخروی زندگی کی گاڑی کا پہیہ: زینب یاسین

اخروی زندگی کی گاڑی کا پہیہ: زینب یاسین

میرے ذہن کے مطابق زندگی، ضروریات کو پورا کرنے کے لیے،کی جانے والی حرکت کا نام ہے اور دنیا وہ میڈیم ہے جو انسان کو وہ حرکات کرنے کا فورم مہیا کرتی ہے جس پر ہماری آگے آنے والی زندگی کا نقشہ تیار ہوتا ہے۔نقشہ تیار ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ اُخروی زندگی کی گاڑی کا پہیہ دنیاوی زندگی ہے جس کے لیے کی جانے والی بھاگ دوڑ کو کسی فتنے سے کم نہیں سمجھا جاتا۔
اکثر یہ بات دماغ میں ایک کھلبلی مچا دیتی ہے کہ اگر اس دنیا کا مقام اتنا ہی ادنی اور کم تر ہے ، تو کیوں اُس پر ہماری اُخروی زندگی کا دارومدار ہے؟( جس کو کبھی بھی ختم نہ ہونے والی زندگی قرار دیا گیا ہے)۔
میرے نزدیک یہ نہ سراب ہے ،نہ دھوکہ ہے اور نہ ہی ایک فتنہ لیکن بچپن میں ہی ایک راز سے پردہ اٹھا کر، کم سن وجود پر ایک حقیقیت کھول دی گئی جو اس ننھی جان کو بتا رہی تھی کہ جس دنیا میں اُس نے قدم رکھا ہے وہ فانی ہے اور ایک دن ہر ذی روح کی طرح اُس نے واپس اپنے رب کی طرف چلے جانا ہے۔ یہ سفر بےحد مختصر ہے، کامیاب وہی ہوگا جو خدا کے بتائے ہوئے راستے پر نیکیوں کا ہاتھ تھام کر اس سراب کو پار کر لے گا۔یہاں تک بات سچائی کے اصولوں پر مبنی تھی پر جب سے اس دنیا کو سراب اور دھوکہ کہا گیا تب سے کچے جسم کے نازک ذہن نے دنیا کو دھوکہ سمجھنے پر دھوکا دینے کو ترجیح دی ، باقی رہ جانے والی نیکیوں پر ظاہری لباس اور حلیے نے قبضہ جما لیا اور وہ اعمال جو ہمارے عام معمولات سے منسلک تھے اُن کو دنیاوی کام ہونے کی بنا پر دائرے اسلام سے خارج کرا دیا گیا ، اس دنیا کو فتنے کا نام دے دیا اور پھر یہ بھول گیا کہ فتنے میں فتنے کا نہ ہونا تجسس کی بات ہے اس صورت میں اس کا وجود تو یقینی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تم بدترین میں بھی بہترین ہو: زینب یاسین

اور یوں ہم نےخدا کے بنائے ہوئے راستے کو ذاتی جاگیر سمجھتے ہوئے خودساختہ اعمال کے پائپ زمین میں جبراً ڈالنے کے لیے اُس کے بتائے ہوئے آسان راستے کو کٹھن بنا دیا ، نتیجتاً خوبصورت دنیا پر فتنے اور سراب کا لیبل لگ گیا ۔اور اس لبیل کے خالق ہم خود بن گئے۔

Leave a Reply