ہمارے معاشرے کی منافقت: عدیل وڑائچ

ہمارے معاشرے کی منافقت: عدیل وڑائچ

ہم بحیثیت معاشرہ اعلی درجے کے منافق ہیں. کیسے؟؟؟ مجھے یاد ہے ناروے میں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے خاکے بنے جس پر پورے ملک میں احتجاج ہو رہا تھا اسی طرح ہم بھی سراپا احتجاج تھے. ہمارا جلوس کالج سے شروع ہوا اور چلتے چلتے شہر کے مرکزی چوک تک پہنچا. ہم حکومت وقت سے مطالبہ کناں تھے کہ اس ملک سے احتجاج کیا جائے اور آئندہ ایسا نا ہو اس کی یقین دہانی کروائی جائے. ساتھ ساتھ شرکاء درود و سلام ادا کر رہے تھے. بہت سی آنکھیں نم تھیں.

یہاں تک ایک شاخ نا ٹوٹی تھی. اس کے ٹھیلہ فروش دوکانوں پر کام کرنے والے لڑکے اور ایک مدرسے کے بچے بھی شامل ہو گئے اس کے بعد ٹیلی نار کی برانچ آئی جسے نظر آتش کر دیا گیا. مجھے یاد ہے وہ منظر کہ میں بھاگ کر پولیس کے پاس گیا کہ میرے سمیت 50 لوگ ہیں آپ لاٹھی چارج کریں ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور کسی کی بھی املاک کو ہاتھ نہیں لگانے دیں گے.

مگر وہ پتھر دل جانور ٹس سے مس نا ہوا اس کے اور بھی بہت کچھ ہوا جسے یاد کر کہ آج بھی بہت نادم ہوتا ہوں اگلے روز میں شر انگیزی املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں گرفتار ہو گیاخیر میری تو چند گھنٹوں میں ضمانت ہوگئی. ان دنوں ڈپٹی کمشنر ابا جی مرحوم کے بہت قریبی دوست تھے. وہ مجھ سے بہت نالاں تھے کہ میری قیادت میں نکلنے والے جلوس میں یہ سب ہوا. میں نے چند دن بعد چند چہرے جو مجھے یاد تھے پہچان لیے ان کی تفصیل یہ تھی.

1. صدر بازار میں پھل فروش جسے پہلا کلمہ تو درکنار سلام بھی صحیح سے کہنا نہیں آتا تھا.

2. ایک جوس شاپ جو گول چوک میں تھی اس کا ملازم جسے میں نے کبھی مسجد میں نہیں دیکھا تھا.

3. ایک بڑے شاپنگ سینٹر کا ملازم جو شیخ بستی کا رہائشی تھا اور بار دیگر شراب اور چرس کا عادی تھا.

دیگر 3 لوگ کمپنی باغ کے قریبی مدرسے کے طالب علم تھے.
میں نے سب کو پکڑوایا ان سے ایک بھی کلمہ شہادت نا سنا سکا.

یہ ایک واقعہ تھا. اس کے بعد ایک بہت عالی شان میاد منعقد تھا اور میں بھی ان دنوں پاکستان تھا. اور صاحبِ خانہ نے مجھے اور میرے کزن جو ان دنوں اسپشل برانچ کے انچارج تھے کو مدعو کیا ہوا تھا. خیر اس میلاد سے پہلے میرا کلاس فیلو کو محکمہ ایکسائز میں تھا بڑی مقدار میں ام الخبائث کی ایک لاٹ پکڑی تھی. اور ہمارے میزبان اور اس میلاد کے منتظم وہی صاحب تھے.

ہمارے محلے کی مسجد سے اکثر ٹوٹیاں چوری ہو جاتیں بہت دفعہ بہت جتن کیے مگر یہ خبیث ہر بار جیت جاتا.اور ایک دن رات 3 بجے حسب عادت گھر کے قریب تھاکہ شور ہوا اور چوکیدار نے چور پکڑ لیا جو کہ نشئی تھا قسما کہتا ہوں یہ چہرہ اب اکثر ایک مذہبی تنظیم کے نعرے لگاتا اور سنا کہ روزنامہ خواہ مخواہ کا نمائندہ بھی ہے.

یہ ہے لٹمس ٹیسٹ ان حرام کے ٹکے عاشقوں کا. ٠

سانحہ لاہور ہو یا سیالکوٹ آپ کو ایسے بدقماش جاہل علم تربیت سے دور یہ شر پسند جو اپنی وحشت پسند طبیعت کی تفریح کے لیے انسانی جان ہو کسی کی عزت جائیداد ہو سب کچھ پھونک کے آگ سیکنے کے دلدادہ ہوتے ہیں. سیالکوٹ میں پیش آنے والا سانحہ کسی طرح بھی قابل دفاع نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے باعث افسوس ہے. مگر یہ جتھہ جو اس کی آڑ لے کر دین اسلام کی حقیقی تعلیمات تک کو رگید رہا ہے تو یہ بھی کسی صورت قابل فہم و برداشت نہیں.

Leave a Reply