میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

ستم در ستم ؛ اسلامی جمہوریہ پاکستان، اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے مسلمانوں کے علیحدہ ملک کی تحریک شروع کی گئی، جس کی بنیاد رکھی گئی ، جس کی تعمیر کی گئی اور نقطہء نظر یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان کا تہذیب و تمدن یکسر مختلف ہے لہذا ملک بھی علیحدہ ہونا چاہیے تاکہ مسلم اپنے عقیدہ و تہذیب کے مطابق آزاد زندگی گزار سکیں اور ہندوستان میں رہ کر غلامانہ تسلط کا شکار نہ بنیں.

مسلمان کا عقیدہ حیات، قرآن و سنت رسول ہے ، اور قرآن اور سنت کا درس کیا ہے؟ انسان کی حرمت … اس کی کامل مثال ہمارے محبوب نبی کی حیات طیبہ ہے ، جو اللہ کے رسول ہو کر بھی نہایت عاجز اور محبت کا پیکر تھے ، دین اسلام کا اعلان کیا اور اس کی تبلیغ کے لئے کیا کیا اذیتیں برداشت نہ کیں ، کس کس ایذا سے نہ گزرے مگر پھر بھی دشمن کیلئے ہدایت کی دعا کی ، لبوں پر مسکراہٹ رکھے انھیں اللہ کے دین کی دعوت دی.

وہ اللہ کے محبوب تھے ، ان کے ساتھ تو رب کی رضا تھی ، چاہتے تو اذیتیں دینے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے مگر انھیں گوارا نہ تھا کہ کوئی اسلام کو شدت پسند دین سمجھے ، کوئی اللہ کے دین سے نفرت دل میں پالے ، اسی واسطے ہر ظلم اور اذیت اللہ کے محبوب نے اپنی ذات اقدس پر برداشت کیا.

ان کے جانثار تو صحابہ کرام تھے، حضرت علی اور حضرت عمر جیسے صحابہ جن کے جلال سے زمین و آسماں کانپ اٹھتے لیکن کسی نے بھی اسلام کی تبلیغ میں خون ناحق نہ بہایا ، اگر اسلام سے محبت صرف شدت پسندی سے ظاہر کئے جانے کا نام ہوتا تو رسول عربی کی اذیتوں کی بجائے کفار تلوار و تیغ سے ٹکڑے ٹکڑے کیے جاتے، لیکن محمد کی امت اب اسوہ حسنہ پر عمل کی بجائے ان کے نام پر قتل و غارت ، بہیمانہ تشدد اور سفاکیت کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار اپنا وطیرہ بنائے بیٹھے ہیں ، مسلم مملکت کے رہنے والے جو 70 سال سے ہندوتوا کے جبر ، تسلط اور سفاکیت کا نشانہ بننے والے کشمیریوں کیلئے امن کا علم بلند کیے ہوئے ہیں اور کشمیریوں کی سر کٹی اور جلی لاشوں پر بین کر رہے ہیں ، اب ان کی مملکت میں انسان راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہے ہیں اور ایک ایسا انسان جس کا قطعی طور پر ارادہ گستاخی کا نہیں تھا اسے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا کر اس کے بے جان جسم کو آگ کے حوالے کر دیا گیا .

یہ بھی پڑھیں: میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

کیا ایک لمحہ کو بھی سوچا اے خسارے کے خریدارو ، کہ اسکی لاش کی راکھ کی کالک روز محشر تمھارے مکروہ چہروں پر ملی جائے گی، وہ جو جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے کسی طور تمھارا یہ تحفہ ء انسان سوزی قبول نہ فرمائیں گے کیونکہ وہ تو یتیموں کے ملجی ہیں اور تم نے ایک ننھی سی جان کو شفقت پدر سے محروم کر دیا.

اور کم عقل خٹک صاحب ، آپکا یہ جوش جوانی کی حمایت کا بیان ہوگا اور اس بیوہ عورت کی آہ وبکا ہوگی اور سوچئے سنی کس کی جائے گی بیوہ کی یا جوش جوانی کی !! کیا یہ ریاست مدینہ کی پالیسی ہے ؟ ریاست مدینہ میں سیدنا عمر راتوں کو چین نہ پاتے تھے کہ اگر ایک کتا بھی پیاس وبھوک سے مر گیا تو بارگاہ حق میں کیسے حاضر ہونے کی ہمت پائیں گے !!

“بےکسی پر ظلم لامحدود ہے
مطلع انصاف ابر آلود ہے!”

Leave a Reply