بانی پاکستان کے مجسمے سے عینک چوری: مسعود احمد

بانی پاکستان کے مجسمے سے عینک چوری: مسعود احمد

ٹی وی دیکھنا کبھی تفریح کے زمرے میں آ تا تھا. ان دنوں ہمارے ٹی وی ڈرامے عالمی سطح کے ہوا کرتے تھے. پڑوسی ملک ہم سے ٹی وی پرو ڈکشن میں سیکھتے تھے. صرف پی ٹی وی ہی ایک چینل ہوا کرتا تھا مگر پھر اکیسویں صدی میں چینلوں کا سیلاب آ گیا . پچاسوں چینل وطن عزیز میں شروع ہو گئے. ریٹنگ کا جنجال آ گیا. طرح طرح کے ٹاک شو ، لائیو شوز لانگ مارچز براہ راست سیاسی جلسوں کی کوریج مار دھاڑ یہ سب کچھ گھر بیٹھے آ پ ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں. بچپن میں ریچھ اور کتوں کی جو لڑائیاں دیہاتوں میں بڑے زمیندار کرواتے تھے ویسی لڑائیاں سکرین پر دکھائی دیتی ہیں. پروگرام کیا ہیں، کبھی ٹی وی تعلیم اور تہذیب پھیلانے کا ایک ذریعہ تھا مگر اب اس میڈیا پر گالی گلوچ اور اک دوسرے کی کردار کشی معمول کی بات ہے. سیاسی پارٹیوں نے باقاعدہ اس کے لیے بھرتی کی ہوئی ہے. تعلیم و تربیت کی جگہ بندے کا منہ پھٹ اور ہتھ چھٹ ہونا ضروری ہے. ایسے لوگوں کی سر زنش کی بجائے باقاعدہ تحسین کی جاتی ہے اسی لیے ٹی وی دیکھنے سے ہم اجتناب کی کوشش کرتے ہیں مگر کیا کریں عادت کا کہ

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

کل سارا دن پرہیز کے بعد شام کو پھر نشہ ٹوٹنے لگا. سات بجے کے بعد مختلف ٹاک شوز اور پھر لا ہور حلقہ 133کے نتائج جس کے بارےمیں پہلے کئی دن سے ویڈیوز چل رہی تھیں جن میں کھل کھلا کر ووٹ خریدے جارہے تھے لوگوں سے اللہ کی مقدس کتاب پر حلف لیا جارھا تھا تینوں بڑی پارٹیاں اک دوسرے پر الزام لگا رہی تھیں معاملہ الیکشن کمیشن تک بھی گیا . کچھ لوگوں کو جرمانے بھی ہوئے. خیر الیکشن کے نتائج کے بعد جہاں یہ ثابت ہوا کہ عوام نے اس سارے الیکشن سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا. ٹرن اوور تقریباً ساڑھے اٹھارہ فیصد رہا کل اتنے ووٹ ڈالے گیے جتنے 2018 میں دوسرے نمبر پر آ نے والے امید وار نے حاصل کیے. اس پر ن لیگ کی قیادت نے اپنی جیت کے شادیانے بجائے تو ن لیگ مخالفت میں توقع سے بہت زیادہ ووٹ لینے والی پی پی نے اسے اپنی جیت قرار دیا. پی پی جو کبھی پورے پاکستان کی بڑی پارٹی تھی زرداری صاحب کی فہم وفراست سے میدانوں سے سکڑتی سکڑتی ڈرائنگ روم تک محدود ہوگئی ہے . تحریک انصاف نے جس نے نالائقی یا چالاکی سے اس الیکشن سے کنارہ کشی اختیار کی اپنی جیت کا اعلان کیا کہ دیکھا ہماری وجہ سے ساڑھے تین لاکھ لوگ ووٹ دینے نہیں آ ئے. انہوں نے ہماری حکومت اور پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے. اس طرح تینوں پارٹیاں اپنی اپنی جگہ خوش اسی ہنگامے میں ایک چھوٹی سی خبر نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا.

وہاڑی شہر کے چوک میں نصب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مجسمے سے بھرے شہر کے پر رونق چوک سے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں عینک چرالی گئی. حسب معمول انتظامیہ نے تحقیقات کا آ غاز کردیا. وزیر اعلیٰ نے سخت ایکشن کی ہدایات جاری فرمائیں. اللہ اللہ خیر صلا. قائد اعظم کے ساتھ پہلی دفعہ تو ایسا نہیں ہوا. ہم نے بانی پاکستان کے نظریات و افکار کے ساتھ کیا کیا . اس سے بڑی چوری کیا ہوگی ہم نے قائد کے افکار کی تشریح ایسے لوگوں کے سپرد کردی جو ان کی زندگی میں ان کی مخالفت کرتے رہے. کافر قرار دیتے رہے پھر انکے بنائے ہوے پاکستان میں بنیاد پرستی کی بڑی بڑی منزلیں تعمیر کرتے رہے. اس ملک کے سارے وسائل چوری کرتے رہے اسکی نظریاتی اساس کو کھوکھلا کرتے رہے۔قاید کے تصورات تو اس دن چوری ہوگئے جب ان کے جانشینوں میں اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوگئی جب پٹرول کے بغیر انکی ایمبولینس کراچی کی سڑکوں پر کھڑی رہی.

یہ بھی پڑھیں: روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے: مسعود احمد

قائد کے اثاثوں کو نقب تو پے درپے لگنے والے مارشل لاؤں نے بھی کئی دفعہ لگائی. قائد کی روح کے ٹکڑے تو ان لو گوں نے بھی کردیے جنہوں نے پاکستان دو لخت کرنے کی راہ ہموار کی اور اس روح فر سا سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا . قائد اعظم کے پاکستان پر تو ضیا الحق کی پالیسیوں نے بھی شبخون مارا پھر صرف اور صرف اپنے مفادات کے لیے مذھبی بنیاد پر ستی، جنونیت، فرقہ ورائیت کو ہوا دی. لسانیت اور صوبائیت کے جذبات کو فروغ دیا. چھانگا مانگا کی سیاست عدلیہ میں نظریہ ضرورت کو فروغ دیا. تعلیمی نظام اسلامیات اور مطالعہ پاکستان میں من مرضی سے تبدیلیاں کی صنعتی ترقی ٹیکنالوجی میں ترقی کی بجائے خود خود کش جیکٹس متعارف کروائیں جن کا نتیجہ ہماری آ ئند ہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا.

یہ جو جنونیت کے مظاہرے آ ے روز ہوتے ہیں قانون کو ہاتھ میں لینے کے کبھی کسی کو بھٹے میں جلا دینا کبھی کسی کو دن دیہاڑے قتل کر دینا ہمارا سب کچھ آ ئی ایم ایف کے پاس گروی پڑا ہے چند دن۔پہلے ہمارے ہاں سری لنکا کے شہری کا لرزہ خیز قتل سیلفیوں اور نعروں کی گونج میں کیا گیا کیا محمد علی جناح نے ایسی ریاست کا نقشہ سوچ رکھا تھا جب جی چاہے مٹھی بھر لوگ ایک ایٹمی ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں اگر چند دن پہلے ہونے والے واقعات میں پولیس کے جوانوں کی شہادت پر ریاست ہاتھ جوڑنے کی بجائے کسی رد عمل کا اظہار کرتی تو شاید سانحہ سیالکوٹ میں پولیس ایسے الگ تھلگ نہ کھڑی ہوتی براہ کرم اب بھی صفیں سیدھی کرلیں پولیس کو حوصلہ دیں پرچم ہاتھ میں رکھیں ہر الزام دشمن پر نہ دیں.

دشمن تو ہوتا ہی اس لیے ہے. ہمیں بزدار صاحب پر مکمل یقین ہے وہ اور کچھ کریں نہ کریں قائد اعظم کے مجسمے کی پرانی عینک ملے نہ ملے نئی عینک ضرور لگا دیں گے. آ خر وہ ہمارے ملک کے بانی تھے اور سائیں بزدار بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ وقوعہ بھی خیر سے اسی علاقے جنوبی پنجاب کا جس کے احساس محرومی کے نام پر بزدار صاحب تخت پنجاب پر براجمان ہیں . سی سی ٹی وی کیمرے بھی شاید ٹھیک کروا دیے جائیں جو ایسی ہر واردات کے بعد خراب نکلتے ہیں.

Leave a Reply