تین پاکستان ، تحریر: مطیع الرحمان بھٹی

پاکستان جیسا ملک شاید ہی کوئی اور ہو. جہاں ہر وسائل، پانچ طرح کے موسم اور اللہ کی عطاء کردہ ہر نعمت ہے. اس ملک میں اللہ نے سونے کے پہاڑوں سے لیکر نمک کی کانوں تک اتنا وسیع دیا ہے کہ اگر ہم ان کا استعمال صحیح کریں تو ہمیں کبھی آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑے بلکہ کچھ ہی دنوں میں ہم اپنا سارا قرضہ بھی اتار دیں. پاکستان بنایا بھی اسی لئے گیا تھا کہ مسلمان قوم اب غلام نہیں رہے گی. مسلمانوں کے ساتھ جو رویہ اپنایا جاتا تھا وہ کسی غلام کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا مگر یہ قوم اس قدر پستی کا شکار تھی کہ لوگ توبہ کرتے تھے. بالآخر پاکستان بن گیا اور کئی وعدے کئے گئے. انصاف کی دہائیاں دی گئیں. بڑے بڑے جلسے کئے گئے مگر صرف اخبارات کی سرخیوں تک ہی سب محدود رہا۔
پاکستان بنتے ہی اس کے تین حصے کر لئے گئے. ایک انکا جو اس کی حفاظت پر معمور تھے دوسرا اربابِ اختیار اور امیر لوگوں کا جبکہ تیسرا غریب عوام کا اور یہ روایت پچھتر سال بھی اب بھی قائم ہے. سرحدوں والوں نے اپنی جانیں دیں، اپنا سب کچھ لٹایا، اپنے بچے قربان کئے تاکہ دشمن کو نیست و نابود کر دیا جائے اور آج تک وہ ملک کو بچانے میں کامیاب رہے. یہ وہی سرحد والے ہیں جنہوں نے سینوں پر بمب باندھ کر اس ملک کو لٹنے سے بچایا اور اقوام عالم میں اپنا لوہا منوایا۔
دوسرے وہ تھے جنہوں نے ان کی قربانیوں کو فراموش کیا. ملک کے دو ٹکڑے کئے اور آج تک سب مل کر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں. انہوں نے پاکستان کے ساتھ جو کیا وہ بھی تا قیامت یاد رکھا جائے گا. غریبوں کا حق کھا کر اپنے محلات بنانے والے یہ کرپٹ سیاستدان اور ورکرز ملک کو ہر سمت بیچنے میں آج بھی مصروف ہیں. انہوں نے ایسے قانون بنائے جس کی مثال کہیں نہیں ملتی. اربوں کی کرپشن کے باوجود یہ سب بلکل صاف ہیں کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں. یہاں قانون صرف غریب کے لئے ہیں. امیر کے لئے وہی قانون ہے جیسا وہ چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جج ، جرنیل اور سیاستدان تحریر: مطیع الرحمان بھٹی
تیسرے پاکستان والے یعنی عام عوام ان کے لئے قانون الگ ہے. اگر ان لوگوں میں کوئی جرم نہ بھی کرے مگر پھر بھی یہ لوگ ہمیشہ سے پستے آئے ہیں اور انکو پوچھنے والا کوئی نہیں.ٹیکس دیں یہ غریب، بجلی مہنگی یہ خریں، بچے ان کے سرکاری سکولوں میں پڑھیں، محنت سے پیسہ یہ کمائیں مگر انکا حق کھانے میں یہ دوسرا طبقہ دیر نہیں کرتا. پیسے اور طاقت کے زور پر ان بیچاروں کو خاموش کروا دیا جاتا ہے. یہ کہنا جائز ہے کہ اس ملک غریب ہونا سب سے بڑا گناہ ہے اسی لئے میں کہتا ہوں ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین پاکستان ہیں ۔

نوٹ: ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply