زہر اور زہر کا تریاق تحریر: ماہ رو خان

جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے سیانے کہتے ہیں کہ زہر چار طرح سے جسم میں داخل ہوتا ہے موذی کے کاٹنے سے، نظرِ بد سے یا پھر اپنے قریبی رشتوں کی زبان سے یا پھر کسی دشمنی کے زیرِ اثر یا اپنے ہی ہاتھ سے خودکشی کی صورت میں۔
پہلا کسی زہریلے حشرات ارض سے جیسے کہ سانپ، بچھو مکڑی یا پھر مچھر یا دوسری نوع اراضی وغیرہ وغیرہ…
دوسرا نظرِبد سے چاہے کسی بھی پیارے کی اپنے کی یا پراۓ کی حسرت و یاس والی نظر یا کسی بھی دوسری مخلوق کی بد نظر ہو…
تیسرا زبان سے جیسے کہ انسانی زبان کے طعنہ و تشنہ یا پھر جلی کٹی و کڑوی کسیلی باتوں سے بے وجہ کی تنقید براۓ تنقید اور پھر رشتوں کی ترشی کی وجہ بھی یہی زہر ہوتا ہے۔
چوتھا دشمنی سے یا تو کوئی اپنا قریبی رشتہ زہر دے یا پھر اپنی نا عاقبت اندیشی سے خودکشی کی نیت سے کوئی خود پی لے۔
اب اگر بات کی جاۓ پہلے زہر کی کہ اگر کسی زہریلے جانور سے بے خبری میں یا دانستہ طور پہ ہو سامنے سے یا بے خبری سے ہم کو کاٹ لے اور زہر جسم میں داخل ہو جاۓ تو فطری طور پہ ہم اُس جانور کو ڈھونڈنے، تاک لگانے یا مار ڈالنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے فوری زہر کا تریاق کریں گے اور فوراً ہاسپٹل جائیں گے اور کسی ماہر طبیب یا ڈاکٹر سے رجوع کر کہ بر وقت علاج کو ہی ترجیح دیں گے اور اُس جانور سے اس جگہ کو پاک کرنے اور کسی دوسرے کو نقصان نا پہنچے یا پھر ہمیں خود کو ہی خطرہ نا ہو تو ہم وہاں بھی خود ٹارزن نہیں بنیں گے بلکہ کسی ماہر انسان سے رجوع کر کے اس جگہ کو اور خود کو فوراً تحفظ مہیا کریں گے۔
دوسرا زہر یعنی نظرِ بد جیسی ہی اُس کی علامات ظاہر ہو یا یہ خیال گزرے کہ ہم کہیں جا رہے ہیں اور بن سنور کے گئے ہیں تو کہیں نظر نا لگ جاۓ تو تمام عالم کے مذاہب اور بزرگ نظرِ بد سے حفاظتی اقدامات اور لگ جانے کی صورت میں علاج سے نا صرف واقف ہوتے ہیں بلکہ صدقہ، خیرات اور دم درود و دعا سے یا جھاڑ پھونک کے یا پھر ٹوٹکوں کی مدد لے کر فوراً اس کا صدِ باب کیا جاتا ہے نا کہ ہزاروں لوگوں میں سے یہ ڈھونڈا جاۓ یا سب پہ شک کیا جائے کہ کون ہے جو ہمیں بد نظر لگاتا ہے ۔
 یہ بھی پڑھیں: نظر بد اور اس کا علاج

تیسرے اور چوتھی قسم کا زہر جو کہ زبان اور ہاتھ سے تعلق رکھتا ہے وہ سراسر باہمی انسانی و قریبی رشتوں سے ہی حاصل ہوتا ہے کچھ اپنے رشتے اپنی جلن حسد یا دشمنی و ترشی، سچ گوئی یا منہ پھٹ رویوں یا پھر مختلف نظریات یا پھر مختلف طرزِ فکر و عمل کی بنیاد پہ ایک دوسرے کو موافق نہیں آتے یا پھر اختلافِ راۓ کی بناء پہ صحیح غلط کی بھینٹ چڑھ کے ایک دوسرے کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتے چلے جاتے ہیں اور دشمنی میں کچھ لوگ حد سے گزر جاتے ہیں یا ایسے کچھ لوگ آسان رستہ اپناتے ہیں یعنی قطع رحمی کو اپناتے ہیں کچھ درگزر سے کام کے کر کچھ وقت کی دوری اختیار کر لیتے ہیں تاکہ معاملہ ٹھنڈا ہو جاۓ اور وقت اُن کے بیچ بہترین فیصلہ کر دے اور کچھ صلہ رحمی کی خاطر خاموشی سے اپنے اپنے طرزِ عمل کو بدل کے ایک دوسرے سے معافی مانگ کہ اور معاف کر کے آگے بڑھتے ہیں اور اپنے معملات اُن رشتوں سے بہتر بناتے ہیں اور حدِ ادب قائم کر لیتے ہیں تاکہ روزِ حشر و آخر نا صرف شرمندگی سے بچا جا سکے بلکہ مکافاتِ عمل کے اس مسلسل سلسلے کو بھی روکا جا سکے اور یہ کچھ اتنا مشکل بھی نہیں ہوتا بمقابل کسی کو زہر دے کر ساری زندگی کا گناہ و خلش و احساسِ ندامت سے مکافاتی عمل کا حصہ بننا بہر کیف زیادہ تکلیف دہ عمل ٹہرتا ہے اور خودکشی تو ویسے ہے حرام موت ہے تو ایسی صورت میں جہاں حالات تنگ ہو جائیں سب کو چھوڑ کہ آگے بڑھنا چاہیے اور پہلے اپنی دماغی صحت کا معائنہ اور جانچ کریں پھر حالات کا مقابلہ اور پھر رفتہ رفتہ درگزر کا عمل خود بہ خود عمل پزیر ہوتا جاتا ہے
جب تمام تر اقسام کے زہر اور اُن کا تریاق ممکن ہے اور سدِ باب کیا جا سکتا ہے اور ہر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے تو فقط رشتوں کہ معاملے میں ہی قطع رحمی کا بے رحم سلوک کیوں اپنایا جاۓ جبکہ شاید اُس رشتے کو دینے کے لیے سب سے پہلے آپ کی ہی محبت اعتماد اور توجہ شاید کم پڑ گئی ہو تبھی وقت گزرتے اتنی تلخی گُھل گئی کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہو اب بس سمجھنے والی بات فقط اتنی ہے کہ قطع رحمی کی تعلیم نا ہی دنیا کا کوئی بھی مذہب دیتا ہے نا کوئی کلچر نا کوئی تہذیب ہاں البتہ کچھ وقت کے لیے نیک نیتی کے لیے دوری اختیار کی جا سکتی ہے تاکہ اپنا محاسبہ و موازنہ کیا جا سکے کہ آخر ہم کہاں غلط تھے اور کیا کوتاہی رہ گئی اور کب اور کیسے معاملات بہتر بناۓ جا سکتا ہے تاکہ یہ دنیا ایک بہتر جگہ بن سکے کیونکہ جب دیہ سے ہی دیہ جلتا ہے تو ایمان مکمل ہوتا ہے۔

ضروری انتباہ: مندرجہ بالا پوسٹ کا مقصد فقط تعمیری ہے اور معاشرتی تجربات کی بناء پہ تحریر کیا گیا ہے اس کا مقصد ہر گز کسی کی دل آزاری نہیں اورسراسر میرا اپنا نقطہ نظرہے اختلاف یا اتفاق ہو تو اپنی قیمتی راۓ سے ضرور نوازیں شکریہ
ماہ رو خان

نوٹ: ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply