آرٹیکل25A اور پاکستان کا نظامِ تعلیم :انعم زمان

آرٹیکل 25 کے مطابق ریاست کی ذمےداری ہے کہ وہ میٹرک تک بچوں کو مفت تعلیم فراہم کریں . لیکن ہمارے معاشرے میں جو تعلیم کے ساتھ ہو رہا ہے وہ اسں آرٹیکل کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔
ہمارے تعلیمی ادارے فیکڑیوں کی شکل اختیار کر گئے ہیں جہاں تعلیم کے نام پر پیسہ کمایا جا رہا ہے ۔ ہمارا تعلیمی نظام امتیازی گروپوں میں تقسیم ہوچکا ہے غریب کے لیے کچھ اور امیر کے لیے میعار تعلیم کچھ اور ہے۔ یہ آرٹیکل مفت اور معیاری تعلیم کی بات کرتا ہے جبکہ ریاست پاکستان اسں آرٹیکل کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 22.8 ملین بچے 5سے 16 سال کے بچے سکولوں سے باہر ہیں . لیکن پاکستانی نغموں میں دشمن کے بچوں کو پڑھانے کے بارے میں سوچا جا رہ ھے جبکہ ھمارے اپنے بچوں کامستقبل اسکولوں سے باہر کھیل کود میں مشغول نظر آتاہے۔
یہ لمحہ فکریہ نہیں ہے تو کیا ہے؟ پاکستان جسے کلمہ طیبہ کے نام پر آزاد کروالیا گیا تھا آج اسی مملکت میں اپنے ہی آرٹیکل 25A ,کی خلاف ورزی کرتا دیکھ کر دل خون کے آنسوں روتا ہے۔
میری پاکستان کے قانونی اداروں سے اپیل ہے کے آرٹیکل 25A کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت نوٹس لیا جائے اور اس آرٹیکل کے تحت تمام تعلیمی اداروں میں یکساں طور پر نظام قائم کیا جائے۔
نوٹ : ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply