سیلاب: عذاب یا بدانتظامی ؟ ذیشان صابر

اگرچہ اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے لیکن کسی بھی کام کو صحیح یا غلط طریقے سے کرنے کی طاقت اللّٰہ عزوجل نے انسان کو دے رکھی ہے۔ موجودہ دنوں سیلاب نے پاکستان میں تباہ کاریاں مچا رکھی ہیں بارش کے سیلابی ریلوں نے سب حدیں ہی مٹا دی ہیں۔ ہر طرف پانی ہی پانی ہے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ بستیاں کہاں تھیں اور کھیت کہاں تھے الغرض آپ چاروں صوبوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ پانی کے ریلے اپنے ساتھ سب کچھ ملیا میٹ کرتے جا رہے ہیں۔

حکمران اور سیاسی جماعتیں اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے اس سیلاب کو اللّٰہ کا عذاب بتا رہی ہیں۔ اگر یہ اللّٰہ کا عذاب ہے تو پھر یہ صرف غریب عوام پر ہی کیوں؟ اگر عذاب ہی آنا تھا تو اُن کرپٹ مافیا پر آتا جو ملک کو لوٹ کر کھا گئے ہیں، اگر عذاب ہی آنا تھا تو اُن لوگوں پر آتا جن کے غلط فیصلوں کی وجہ سے آج ملک کا یہ حال ہوا ہے، اگر عذاب ہی آنا تھا تو اُن سیاستدانوں پر آتا جو آئے روز اپنے مفادات کے لئے اپنی وفاداریاں بدلتے نظر آتے ہیں اور اگر عذاب ہی آنا تھا تو اُن قوتوں پر آتا جو پس پشت اس ملک کو کھائی جا رہی ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اگر یہ عذاب ہوتا تو اس ملک کی اسمبلیاں سب سے پہلے اس کی زد میں آتی عذاب ہوتا تو اُن پر آتا جنہوں نے دریائی زمین پر رشوت لیکر ہوٹلز اور آبادیاں قائم کرنے کی اجازت دی۔ یہ عذاب نہیں یہ کرپشن ، نااہلی اور بدانتظامی ہے لیکن ہم لوگ آج بھی اپنی کوتاہیوں کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر خود بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔

کسی بھی علاقے میں سیلاب اس وقت آتا ہے جب وہاں موجود دریاؤں اور جھیلوں میں پانی زیادہ بڑھ آتا ہے اور اسکی وجہ سے بند ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ پانی بارشوں کی وجہ سے بھی آ سکتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پگھلنے والے گلیشئرز کی وجہ سے بھی۔ اب بجائے کہ ہر سال یہ پانی ہمیں نقصان پہنچائے ہم اس پانی کو ذخیرہ کر کہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں ڈیم بنانے ہونگے ۔

آپکو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ہمارے ہمسایہ ملک انڈیا کے پاس 4300 ڈیم ہیں جب کہ ہمارے پاس صرف اور صرف 150 وہ بھی جو ساٹھ کی دہائی تک بن چُکے تھے اس کے بعد ہمارے حکمرانوں نے زحمت نہیں کی اور اگر کسی نے کی بھی تو وہ ان کے اپنے اختلافات یا مفادات کی بینت چڑھ گئی ۔ ڈیم بنانے سے نہ صرف ہم اس سیلاب سے بچ جایا کریں گے بلکہ اُن ڈیمز سے بجلی پیدا کر کے اس مسلے سے بھی چھٹکارا حاصل کر کر لینگے۔
اگرچہ سیلاب اور زلزلے وغیره کا شمار قدرتی آفات میں ہوتا ہے لیکن ان آفات سے نمٹنے کے لئے ہمیں بہتر منیجمنٹ کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں جاپان ایک ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں اور ان زلزلوں کی شدّت پاکستان میں 2005 میں آنے والے زلزلوں کے برابر ہوتی ہے لیکن ہم نے کبھی شور شرابا نہیں سنا کہ جاپان میں تباہی مچ گئی ہو یا بُہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوگیا ہو۔ پتا ہے کیوں؟ کیوں کہ اُنہوں نے نیچر کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے اُنہوں نے اپنے ملک میں ایسی عمارتیں بنا رکھی ہیں کہ جن پر زلزلے کا کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ بعض جگہ پر تو اُنہوں نے تیز ہواؤں اور آندھیوں سے بچنے کے لیے عمارتوں میں بلٹ پروف قسم کے شیشے لگا رکھے ہیں۔

یہاں ایک بار پھر آدھا ملک ڈوب چکا ہے 12 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے مطلب جو ملک ایک ارب ڈالر کے لئے آئی ایم ایف کے سامنے لیٹ جاتا ہے اُسے 12 عرب ڈالر کا دھچکا لگ چکا ہے۔تاہم آنے والے سالوں میں اگر ہمیں ایسے نقصانات سے بچنا ہے تو اس کے لئے ہمیں ڈیمز بنانے اور بہتر منیجمنٹ کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خشک سالی سے بچنے کیلئے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے،صدر مملکت

نوٹ : ( ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Leave a Reply