پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی وجوہات: انعم زمان

جمہوریت قدیم یونانی زبان سے لیا گیا لفظ ہے ، جو جمہور سے نکلا ہے اور جمہور عوام کو کہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ عوام کی حکومت ۔ کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ اس کے جمہوری نظام سے لگایا جاتا ہے ، ہر ملک کا ایک اپنا جمہوری نظام ہوتا ہے ، ہم پاکستان کے جمہوری نظام کا موازنہ دیگر ممالک سے کرتے ہیں،بالخصوص بھارت سے ، جسے ایک بہترین جمہوری ملک کہا جاتا ہے ۔ بھارت میں جمہوریت کو بہترین کیوں کہا جاتا ہے اور پاکستان میں جمہوری نظام کیوں بار بار ناکام کیوں ہوتا ہے ؟ آخر ایسی کونسی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوری نظام کا تسلسل برقرار نہیں رہ پاتا۔

سب سے پہلی وجہ یہ اس ملک میں کوئی بھی منتخب وزیراعظم اپنے پانچ سال پورے نہیں کر پاتا ،حال ہی میں منتخب وزیراعظم کو اپوزیشن جماعتوں نے عدم اعتماد کی تحریک لا کر اقتدار چھین لیا ، یہ وہ وزیر اعظم تھے جن کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ پانچ سال پورے کریں گے ، بھلے ہی عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے آئینی طریقہ استعمال کیا گیا لیکن سوالات پیدا ہوئے کہ اسٹبلشمنٹ کی تھپکی سے اچانک اپوزیشن جماعتیں متحد اور متحرک ہوئیں اور عمران خان وزیراعظم نہ رہے ۔
ملک میں جمہوری نظام ناکام ہونے کی ایک بڑی وجہ فوجی مداخلت ہے ، جب میں ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہونے لگتا ہے فوج کی جانب سے مارشل لا نافذ کر دیا جاتا ہے، جمہوریت آمریت کے ہاتھوں یرغمال ہو جاتی ہے۔
دوسری وجہ حکومتیں بار بار تبدیل ہونے سے غیر ملکی سرمایہ دار سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاتے ہیں ، ملکی معیشت پر برا اثر پڑتا ہے، ملکی ترقی کے لیے شروع کئے گئے منصوبے بھی سیاست کی نظر ہو جاتے ہیں ، نئی آنے والی حکومت پرانے منصوبوں پر توجہ نہیں دیتی۔
حالانکہ 1973 کے آئین کے مطابق جب بھی کوئی آرمی کا آفیسر حلف اٹھاتا ہے تو اس میں واضح یہ لکھا گیا ہے سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور سیاسی معاملات کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی ۔ المیہ ہے 75 سالہ تاریخ میں 35 سال ملک میں مارشل لا لگایا جا چکا ہے ۔

ملک میں جمہوری نظام اس قدر کمزور ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی اغیار کے شکنجے میں ہے، وہی فیصلے کرتے ہیں اور ہم عوام ہر بار قربانی کا بکرا بنتے ہیں، ہماری خارجہ پالیسی کی یہ حالت ہے کہ ہم نے امن کی خاطر کتنی جانیں گنوائیں ہیں لیکن ہمیں ہی پوری دنیا میں دہشت گرد ملک سمجھا جاتا ہے۔ کیوں آج تک یہ دنیا کو نہیں باور نہیں کرایا گیا ہم پر امن جمہوریت پسند قوم ہیں۔

ملک میں جمہوری نظام کے بار بار ناکام ہونے کی وجہ مذہبی کارڈز کا بے جا استعمال بھی ہے ، مزہبی انتہاء پسندی بہت زیادہ ہے ، مذہب کے نام پر گلے کاٹنے کا رواج ہے جبکہ جمہوریت میں تو ہر شخص کو ہر شخص کو آزادی ہوتی ہے۔ جمہوری نظام میں تو قانون ہی طاقتور ہوتا ہے ، یہاں پر مذہبی جماعتوں کے لوگ اس قدر طاقتور بن گئے ہیں کہ ان پر تنقید کرنے والوں پر قتل کے فتوے جاری کر دئے جاتے ہیں۔
جمہوریت کے ناکام ہونے کی ایک وجہ اچھی لیڈر شپ کا نہ ہونا بھی ہے ، کوئی بھی ملک تب ہی ترقی کر سکتا ہے جب وہاں کی لیڈر شپ اچھی ہو ، بہترین لیڈر شپ کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

ہمارے ساتھ کچھ یوں ہوا کہ جمہوریت کی بات کرنے والے ہمارے قائد 1948 میں اس دنیا سے پردہ فرما گئے، اُسں کے بعد لیاقت علی خان جو جمہوری لیڈر مانے جاتے تھے ان کو قتل کر دیا گیا ، ملک میں جمہوری نظام کو رائج کرنے شروع دن سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

پاکستان میں جمہوریت مضبوط نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی کہ چند سیاسی جماعتیں باری باری اقتدار میں آتی رہی ہیں، جو بات تو جمہوریت کی کرتی ہیں لیکن پس پردہ اسٹبلشمنٹ کی غلامی کرتی ہیں، میں سمجھتی ہوں اس میں قصور وار عوام ہے جس میں سیاسی شعور نہیں ہے ، یہی وجہ ہے دو تین سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئی ہیں۔

ملکی میں جمہوری نظام کو مضبوط کرنا ہے تو ہمیں عوام میں سیاسی شعور اجاگر کرنا ہو گا ، اپنی معیشت کو مضبوط کرنا ہو گا ، میڈیا کو جمہوریت کا پرچار کرنا ہو گا ، جمہوریت مخالف بیانہ کی نفی کرنا ہو گی ،مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دینا ہو گی۔
نوٹ : ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply