میرا وسیب ڈوب گیا: مہرین فاطمہ تھہیم

قدرتی آفات زندگی اور انسانوں پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں ، جن کی وجہ انسان کے مداخلت کے بغیر واقعات کی وجہ سے ہوا ہے۔ بہت سے معاملات میں ، انسان خراب تکنیکی طریقوں ، غلطیوں یا غلط منصوبہ بندی کے نتائج کے اثرات کا ذمہ دار ہے۔
وطن عزیز کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں نیچر کو تباہ کیا گیا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکمرانوں کا روایہ ، کردار غفلت،کوتاہی، اور بے حسی پر مبنی ہے۔ حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب نے ملک کے انتظامی ڈھانچے کا پول کھول دیا۔
بستیوں کی بستیاں تباہ و برباد ہو گئیں لیکن ہمارا ریاستی نظام بے حسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ پاکستان میں مرکزی اور صوبائی لاکھوں کی تعداد میں افسر اور اہلکار ہیں، اربوں روپے تنخواہوں لے رہے ہیں لیکن ان کی کارکردگی حالیہ سیلاب اور بارشوں نے سب پر واضح کر دی ۔
آج کے جدید سائنسی دور میں آندھی،طوفان ، بارش، سیلاب وغیرہ کا مقابلہ کرنا تقریباً آسان ہو گیا ہے ۔کتنی گرمی ہو گی کتنی سردی ہو گی، کتنی بارش ہوگی، پہاڑوں سے پانی کا بہاؤ کس قدر ہو گا اور دریاؤں کی کیا صورتحال ہوگی سب معلوم کر لیا جاتا ہے ۔
اس وقت آدھے سے زیادہ ملک سیلاب کی زد میں ہے ۔ بلوچستان ،سندھ اور سرائیکی خطہ ڈوب چکا ہے ویرانیاں چھا گئیں ہیں۔ جانی و مالی نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ سرائیکی خطے میں ایسی تباہی کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔
بستیوں کی بستیاں اجڑ گئیں لوگوں کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی امداد نام تک رہی ۔ وسیب کی تباہی اور عوام کی تکلیفوں کو دیکھ کر وسیب کے شاعر مخیر حضرات اور لوگوں نے ہر ممکن حد تک لوگوں کی مدد کی۔ اس کار خیر میں حصہ لینے والے ہر شخص کو سلام پیش کرتے ہیں لیکن یہاں یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رکھی جائے آیا ہم مدد کرنے کے چکر میں کسی کی دل آزاری تو نہیں کر رہے ؟ ہر انسان کی عزت نفس ہوتی ہے کوئی بھی امداد دینے کے چکر میں انکی تصویریں بنا کر انکی عزت نفس مجروح تو نہیں کر رہے ؟ اس بات کو سب کو سوچنا چاہیے ۔ کچھ دن میں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی ایک دس بارہ سال کا بچہ جو بول نہیں سکتا لیکن اپنے اندر ضمیر رکھتا ہے اپنی بہن کو اشاروں سے روک رہا ہے ادھر مت آؤ یہ تصویریں بنا رہے ہیں ۔ خدارا اس کو سوچیں امداد اور اپنی پبلسٹی کے چکر میں کسی کی ذات کو مجروح ناں کریں ۔ بعض سفید پوش لوگ تصویروں کی وجہ سے امداد نہیں لیتے اور بھوکے رہ جاتے ہیں ۔
آج کل ایک خبر سامنے آ رہی ہے کہ سیلاب زردگان نے امداد سے بھرے ٹرک لوٹ لئے جو سراسر ایک سازش ہے ۔ آپ سب جانتے ہیں سرائیکی وسیب کے لوگ مہمان نواز ہیں مہمانوں کو فرشتہ کا درجہ دیتے ہیں، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے مدد گار محسنوں سے لوٹ مار کریں. اس سازش کا مقصد صرف اور صرف مخیر حضرات اور ملک بھر سے آنے والی فلاحی تنظیموں کو سیلاب زدگان کی مدد سے روکنا ہے. ہماری پنجاب حکومت سے اپیل ہے کہ اس سازش کا نوٹس لیا جائے ۔
ملک بھر کے صحافی حضرات سازش کو اجاگر کریں تاکہ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے مخیر حضرات اور فلاحی ادارے دل سے امدادی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں ـ
مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں سے بھی اپیل ہے کہ امدای سرگرمیوں کیلئے مقامی فلاحی تنظیموں، سماجی رہنماؤں، معززین علاقہ ( وڈیرے، جاگیردار نہیں ) اور نیک نام لوگوں سے رہنمائی لیں۔

نوٹ ! ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

میرا وسیب ڈوب گیا: مہرین فاطمہ تھہیم” ایک تبصرہ

Leave a Reply