بے حس ریاست ، تحریر:مہرین فاطمہ تھہیم

سیاسی طور پر ایک منظم ملت جو کم و بیش آزاد ہوتی ہے اور اس کے قبضہ میں ایک مستقل علاقہ ہوتا ہے۔ ریاست کے اندر شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے مخصوص لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے جن کا فرض بنتا ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرے ملک کو بیرونی دشمنوں کے حملے سے بچانا آور ملک میں عدل و انصاف اخلاقی اور اجتماعی ترقی کے لیے قوانین بنانا اور رائج کرنا،رعایا کی تعلیم و ترقی اور معاشرتی حالت کی اصلاح کے لیے کوشاں رہنا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ریاست تو ماں ہے اور ماں کبھی اپنی زمہ داریاں پوری کرنے سے نہیں کتراتی لیکن یہاں ریاست صرف نام کی ہے۔ریاست اور رعایا کے درمیان ماں اور اولاد جیسا رشتہ قائم ہونا چاہیے تھا لیکن موجودہ صدی میں یہ رشتہ قائم نہیں ہو سکا کیونکہ ریاست کو بھی طاقتور مافیا نے اپنے پنجے میں دبوچ کر کمزوروں کے خلاف ایک ہتھیار بنا دیا ہے ۔ اور اس وقت کمزور میراوسیب ہے جو لا وارث ہے وہ میرا وسیب ہے۔ ایسے لگتا ہے میرا وسیب ریاست کا حصہ نہیں اور یہاں بسنے والی عوام کیڑے مکوڑے ہیں ۔
آج کل اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ صرف تونسہ شریف ہی نہیں ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے بیشتر علاقے سیلاب میں ڈوب گئے ہیں سینکڑوں بستیاں اور دیہات پانی کی نذر ہو چکے ہیں اور ہزاروں جانوروں کا کچھ اتا پتہ نہیں ۔ انسانی ہلاکتوں کی تعداد بھی کم نہیں ۔سرائیکی وسیب میں اس بار سیلاب سے جو تباہی ہوئی ہے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور یہ مثال بھی نہیں ملتی کہ اس خطے کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے ہر طرف سیاست کا کھیل جاری ہے۔
شوشل میڈیا پر جو سیلاب کے حوالے سے جو تباہ کاریاں دکھائی جا رہی ہیں، نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے تونسہ، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے دیگر علاقوں کی ویڈیوز اور تصویریں دیکھ کر دل دہل جاتا ہے، بڑے چھوٹے جانور پانی میں ایسی بہتے جا رہے ہیں جیسے گھاس کے تنکے ہوں، گھروں کا سامان اور کچے پکے گھر صفحہء ہستی سے مٹ گئے ہیں میلوں تک کئی کئی فٹ پانی موجود ہے اور جہاں بستیاں اور گاؤں ہوتے تھے وہاں اب دریا کا منظر نظر آتا ہے۔ کوہ سلیمان میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو رہا ہے یعنی تباہی کا یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے لاہور میں بیٹھ کر ریسکیو اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ راجن پور اور تونسہ جیسے علاقوں میں الرٹ رہیں، کیا اتنے بڑے سیلابی طوفان میں صرف 1122کے ذریعے امدادی سرگرمیاں کافی ہوں گی؟ کیا ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں 1122کی اتنی نفری اور گاڑیاں موجود ہیں جو یہ کام کر سکیں، حیرت ہے کہ دکھاوے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کہاں ہیں؟ ان علاقوں میں ایمرجنسی کیوں نافذ نہیں کی گئی، وفاقی اور صوبائی حکومت میں اس حوالے سے کوآرڈینیشن کیوں موجود نہیں؟ کیوں وفاقی حکومت نے اس علاقے کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے پنجاب حکومت کے وسائل یہاں خرچ کیوں نہیں ہو رہے، کیوں وزیراعلیٰ پنجاب کی ساری توجہ لاہور پر لگی ہوئی ہے یا پھر اپنے نئے ڈویژن گجرات پر، انہیں تو اپنا کیمپ آفس ڈیرہ غازی خان میں قائم کرکے بیٹھ جانا چاہیے تھا۔ صرف لاہور سے احکامات جاری کر دینا اس خطے کے احساسِ محرومی میں پہلے بھی اضافے کا باعث بنتا رہا ہے اور اب بھی بن رہا ہے۔
لوگ عمران خان سے بھی سوال کر رہے ہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ کیا وہ صرف جلسے کرنے کے لئے ایسے علاقوں میں آتے ہیں اگرچہ اب وہ وزیراعظم نہیں لیکن پنجاب میں حکومت تو ان کی جماعت کر رہی ہے۔وہ آئیں، یہاں کا دورہ کریں اور وزیراعلیٰ کو اپنے ساتھ لیں، لوگوں کو مصیبت سے نکالنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، انہیں اس سلسلے میں لاہور میں کوئی تقریب بھی رکھنی چاہیے، جس طرح وہ شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈز اکٹھا کرتے ہیں اس طرح انہیں سیلاب زدگان کی امداد کے لئے بھی آگے آنا چاہیے یہ وہی سرائیکی خطہ ہے جہاں سے تحریک انصاف کو عام انتخابات میں بے پناہ کامیابی ملی تھی، اب بھی تحریک انصاف کا زیادہ تر ووٹ بینک اسی علاقے میں ہے، مگر اس وقت اسے ایسے بھلا دیا گیا ہے۔
میرا وسیب ڈوب گیا: مہرین فاطمہ تھہیم
جیسے یہ پاکستان کا حصہ ہی نہ ہو۔ مجھے تونسہ کے ایک شخص کی اس بات نے رُلا دیا کہ اب تو ہمارے پاس اپنے پیاروں کو دفنانے کے لئے خشک زمین بھی باقی نہیں رہی، کیا سیاستدانوں کے سینے میں دل نہیں ہوتا، کیا ان مظلوموں کی یاد صرف اس وقت آتی ہے، جب ان سے ووٹ لینے ہوتے ہیں شاہ محمود قریشی ملتان میں بیٹھ کر اپنی بیٹی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں، وہ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین ہیں، کیا ان کا یہ فرض نہیں کہ وہ سیلاب زدگان کے پاس جائیں اور حکومت کی توجہ ان کی امداد کی جانب مبذول کرائیں، یہ سید یوسف رضا گیلانی جنہیں ہمیشہ سرائیکی وسیب کا غم کھائے جاتا ہے اور جو اسے صوبہ بنانے کے لئے بے چین نظر آتے ہیں اس موقع پر وسیب کے متاثرہ علاقوں میں کیوں نہیں جاتے کیوں لوگوں کا دکھ درد نہیں بانٹتے اور ان کی امداد کے لئے اپنی جماعت کو متوجہ نہیں کرتے؟
اپنی تباہی پر دہاڑیں مارتے سرائیکی خطے کی عوام ویسے تو ہمیشہ سے محرومی کا شکار رہے ہیں تاہم اس تبای کے موقع پر بھی انہیں اس طرح بھلا دیا گیا جیسے وہ اس ملک کا حصہ ہی نہ ہوں یہ بڑی سنگدل اور بے حسی کی بات ہے، حکومت کی طرف سے جب امدادی سرگرمیاں شروع ہوتی ہیں تو سماجی و فلاحی تنظیمیں بھی حرکت میں آجاتی ہیں، مگر اس وقت شرمناک حد تک حکومتی کردار غیر فعال نظر آ رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کر دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سیلاب ابھی اترنے والا نہیں پورے پنجاب میں صرف سرائیکی خطے کے علاقے ہی ایسے ہیں جہاں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے پھر اس طرف توجہ کیوں نہیں دی گئی، کیوں نہیں دی جا رہی۔ سرائیکی خطے سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بھی مٹی کے بت ثابت ہوئے ، انہیں اپنے ذاتی مفادات عزیز رہتے ہیں علاقے کے عوام کی کوئی فکر نہیں ہوتی، کسی نے مرکز یا صوبے کے ایوان میں اس حوالے سے آواز نہیں اٹھاتی،کیا یہ علاقے پاکستان میں شامل نہیں؟ کیا ان لوگوں کا مقدر صرف پسماندگی، غربت اور بے چارگی ہے؟ کاش بے حس مقتدر طبقہ ان کے بارے میں سوچے اور خوف خدا کرے لیکن اسے ان باتوں کی کہاں فکر ہے، اس کی تو ترجیحات ہی اور ہیں۔
نوٹ ! ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply