وومن ایمپاورمنٹ ایک سراب: جویریہ ساجد

یہاں معاشرہ ایک بار پھر غلط روش اختیار کر رہا ھے وومن ایمپاورمنٹ کا مطلب جانے بنا ایمپاورمنٹ کے نام پہ عورت کو گھروں سے نکال کے معاشی طور پہ مستحکم ہونے کا جھانسا دے کہ خاندانی سسٹم کو تباہ کیا جا رہا ھے یہی سب خرابی کی جڑ ھے۔

جبکہ ھم دیکھ رہے ہیں معاشی طور پہ انتہائی مستحکم عورتیں بھی ٹریپ میں آرہی ہیں۔
انتہائی لبرل ہائی کلاس خواتین و مرد بھی مڈل کلاس دیسی میاں بیوی کی طرح لڑ رہے ھیں۔
ہر طرح کی سہولیات میں پلنے والے بھی غصے میں آوٹ ہو رہے ہیں۔
نا وہ اپنے ایموشنز کنٹرول کر پا رہے ھیں نا اینگر مینیجمنٹ کر پا رہے ھیں۔
یہ کلاس بھی مڈل کلاس اور دیسی جاہلوں کی طرح جھگڑ رہی ھے۔ جھگڑے بڑھا رہی ھے۔ غصے میں بے قابو ہو رہی ھے۔ جانوروں کی طرح چیر پھاڑ کر رہی ھے۔

تو کیا یہ وومن ایمپاورمنٹ کی کمی کی وجہ سے ھے یا عورت کی معاشی کمزوری یا صبر کے درس کی وجہ سے ہے ؟
یقیناً نہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ معاشی طور پہ انتہائی مستحکم ہائی کلاس عورت انٹرنیشنل اداروں میں جاب کرنے والی دنیا کو برتنے والی بھی گھروں میں پابندیوں کو شکار عورت کی طرح ہی ایموشنلی اتنی کمزور کیوں اور کیسے ہے کہ شادی جیسے فیصلے میں اندھا دھن اعتماد کر کے ذہنی مریضوں کا شکار ہو رہی ھے؟

اس کلاس کی عورت کو نا تو سو کالڈ شادی نبھانے کا معاشرتی دباؤ ھے کیونکہ اس نے معاشرے کو جوتے کی نوک پہ رکھ کے کورٹ میرج کی ہے۔
اسی طرح اختلاف میں بھی اس کو کوئی صبر کے درس دینے والا نہیں ھے اور علیحدگی اختیار کرنے میں بھی مکمل اختیار ھے مر کے گھر سے نکلنے والی ناٹ بھی نہیں باندھی گئی۔

سوال یہ بھی ہے کہ بے تحاشہ پیسہ مرد کو جانور کیوں بنا رھا ھے پیسے سے آپ اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے دنیا کے بہترین سکولز اور تربیت کے لیے شاندار سہولیات دے سکتے ہیں اسی لیے آج ہر کوئی پیسہ کمانے کی دوڑ میں اندھا دھن بھاگ رہا ھے کہ اپنے بچوں کا مستقبل سنوار سکے تو کیا پیسہ اور کلاس بدل لینا کامیابی اور ذہنی سکون کی ضمانت بن پا رہا ھے؟
یقیناً نہیں

تو کمی کیا ہے؟
خرابی کدھر ہے؟

تلخ ھے مگر حقیقت ہے کہ جب سے ہم نے دین اسلام جو مکمل ضابطہ حیات ھے اس کے طے کردہ مرد اور عورت کی ذمہ داریوں کے دائرے توڑے ہیں تباہی ھمارا مقدر ہوئی ھے۔

اسلام جو دین حقیقت ہے اس نے مرد کو معاش اور کفالت کی ذمہ داری دی ھے اور عورت کو گھر اور اولاد کی تربیت کی۔
ایسا نہیں ھے کہ مرد کا اولاد کی تربیت میں رول صفر ھے یا عورت معاش میں ہاتھ نہیں بٹا سکتی مگر ترجیحات کا تعین کر دیا گیا ھے۔

یہ ایک توازن ھے جس پہ معاشرے کی بنیاد کھڑی ہے مرد خوش اسلوبی سے اپنے خاندان کی کفالت کرئے اور استطاعت کے باوجود تنگی کے حالات پیدا نا کرئے۔
عورت کو تحفظ اور ذہنی سکون دے تاکہ وہ اس کے گھر کو اس کے لیے راحت بنا سکے اور اولاد کی تربیت پہ فوکس کر سکے۔
اور عورت گھر کے معاملات کے ساتھ اولاد کی تربیت کرئے اور اپنی سوجھ بوجھ سے مرد کو ذہنی سکون دے تاکہ وہ یکسو ہو کے معاش کے لیے تگ و دو کر سکے۔

زندگی کا تانا بانا ایک دوسرے سے جوڑا گیا باہمی مشاورت، ایثار اور تعاون سے معاملات زندگی چلانے کی ترغیب دی گئی۔

مگر ہم نے کیا کیا وومن ایمپاورمنٹ کے نام پہ عورت کو گھروں سے باہر نکال کے معاش کی دوڑ میں شامل کر دیا۔ اور مرد کو سمجھا دیا گیا کہ ایک آدمی کی کمائی سے گھر نہیں چلتا۔
مرد و عورت دن رات کلاس بدلنے کے لیے بھاگے چلے جا رہے ھیں۔ اس کے لیے حرام حلال کی پرواہ ھے نا جائز ناجائز کی فکر۔
دولت نے کلاس تو بدل دی۔ گھر بدل گئے، حلیے بدل گئے،سرکل بدل گیا،طرز زندگی ہائی فائی ھو گیا مگر ذہنیت پست ہو گئی کیونکہ ذہنیت کو بدلنے والی ماں اب بارہ گھنٹے کی نوکری کرتی ھے۔ بچوں کو انہی لو کلاس ملازمین کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا گیا وہی ڈرائیورز وہی خانساماں وہی چوکیدار وہی گھریلو خادمائیں۔

ماؤں کے پاس تربیت کا ٹائم نہیں بیٹوں کو یہ نہیں پتا کہ دولت کو برتا کیسے جاتا ھے اور بیٹی کو یہ نہیں پتہ کہ محبت اور کئیر کے نام پہ جھانسے میں نہیں آنا۔ کیونکہ محبت اور کئیر دی ہی نہیں گئی۔

یہ سب کے سب بچے ایموشنلی اتنے کمزور ہیں کہ کوئی بھی انہیں محبت اور کئیر کا جھانسہ دے کے آسانی یا مشکل سے مگر ٹریپ کر سکتا ھے۔

یہ self sufficient بچے نہیں ھیں۔ کیونکہ انکی ماؤں نے ان کو ایموشنل انٹیلی جینس نہیں سیکھائی، دولت کو سہارنا نہیں سیکھایا جذبات کو کنٹرول کرنا نہیں سیکھایا۔

اس میں صرف ورکنگ وومن نہیں وہ تمام مائیں بھی شامل ہیں جن کے پاس اپنے گھروں اور اولاد کے لیے ٹائم نہیں ھے۔ وہ سار دن ٹی وی دیکھتی ھیں، فون پہ تیرے میرے گھروں میں جھانکنے میں مصروف رہتی ہیں، صبح شام میکے کے چکر لگا کے بھائیوں بھاوجوں کی زندگی اجیرن کرتی ہیں۔ ونڈو شاپنگ کے نام پہ ہر وقت بازاروں میں رلتی پھرتی ہیں۔ کٹی پارٹیز میں مصروف رہتی ہیں یا بچے گلیوں میں چھوڑ کے لمبی تان کے سوتی ھیں۔

ماؤں نے اولاد کو بتانا چھوڑ دیا ھے کہ میاں بیوی میں بحث ہو جائے تو ایک بندہ جگہ چھوڑ دے۔
ایک بندہ غصے میں ھے تو دوسرا چپ کر جائے بلکہ گھول کے پلایا جاتا ھے نہیں دب کے نہیں رہنا ڈٹ کے مقابلہ کرنا ہے دو بدو جواب دینے ہیں۔
صرف جواب دینا سیکھائے ہیں بولنا سیکھایا ہے کہاں بولنا ھے اور کب اور کہاں خاموش رہنا ھے یہ نہیں سیکھایا۔

ہم میں سے کتنے ھیں جو بچوں کو غصہ کنٹرول کرنے کے لیے سنت کا طریقہ بتاتے ہیں کہ غصہ آئے تو کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ بیٹھے ہو تو لیٹ جاو۔ لاحولا ولا قوات پڑھو۔کمرے سے نکل جاو۔ پانی پی لو۔

ہم لڑائیوں کو بڑھاوا دینے والے ہیں خود کہتے ہیں دو لگا کے گھر سے روانہ کر دو۔ چھوڑ دو تمہیں لڑکیوں کی کیا کمی ھے۔
مائیں شہہ دیتی ھیں کہ میں خود اور چاند ورگی ڈھونڈ لاؤں گی اس چڑیل کو چھوڑ دو۔

باپ گھروں سے بے نیاز اولاد سے بے نیاز صرف حرام حلال جائز ناجائز ایک کر کے پیسہ کمانا چاھتے ہیں آپ کسی سے پوچھیں پیسہ کما کے کیا کرو گے تو ان کے پاس شاندار گھر شاندار گاڑیوں ورلڈ ٹورز اور اس کے بعد شادیوں پہ شادیاں شراب کباب سے آگے کرنے کو کچھ نہیں سوچیں جن بچوں کو پیدا ہوتے ہی یہ سب مل جائے گا وہ زندگی میں اور کیا کریں گے سوائے عیاشی کے۔

ان بیٹوں کو نہیں بتایا جاتا کہ جب دولت گھر کی باندی بن جائے اور معاشی فکر سے آزادی ہو تو ہو تو زندگی برتنے کا ڈھنگ کیا ھو۔
ان کو نہیں سمجھایا جاتا کہ ایسے میں اپنی ذات سے اوپر اٹھ کے آپ کی صلاحیتوں کو خدمت کے لیے وقف ہو جانا چاھیے۔ اپنا گھر نہیں بنانا مستحقین کے گھر بنانے ہیں ڈاکٹر ہیں تو مفت علاج کرنے ہیں ھم اولاد کو گول سیٹ کر کے دینے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس زندگی بلائنڈ ھے کرنے کو کچھ نہیں یہی فراغت انہیں ذہنی مریض بنا رہی ھے۔

اس وقت پوری ایک نسل کو قربانی دینی ہو گی نارمز سیٹ کرنے ہوں گے عورتوں کو اپنی ترجیحات میں اولاد کی تربیت اور گھر کو سب سے اوپر رکھنا ہو گا باپ کو اپنے بچوں کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزارنا ہو گا۔ بیوی کو تحفظ، ذہنی اور معاشی آسودگی دینی ہو گی تاکہ عورت بچوں کی تربیت پہ فوکس کر سکے اور عورت کو مرد کو پیسے کے پیچھے ہانکنے کے بجائے اپنی توجہ اور محنت سے گھر کے ماحول کو پرسکون بنانا ہو گا تاکہ مرد یکسو ہو کے معاشی زمہ داریاں نبھا سکیں۔

ورنہ وومن ایمپاورمنٹ کے نام پہ مغرب نے بھی عورت کو گھروں سے باہر نکالا اور گھروں کو ماؤں سے خالی کر کے خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا۔

نا معاشی خود مختاری مسئلے کا حل ھے نا وومن ایمپاورمنٹ۔
اور ایمپاورمنٹ کو مطلب ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا بھی نہیں ھے بلکہ اختلافات کو برداشت کرنا۔ ایک دوسرے کے گیپس کو کور کرنا۔ ایک دوسرے کو سمجھنا ناکہ استعمال کرنا۔

مسئلے کا واحد حل ہے مرد و عورت اپنی اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور نبھائیں تاکہ معاشرے کا توازن قائم رہے۔

Leave a Reply