4 اکتوبر جانوروں کا عالمی دن اور ہم انسان : اعجازالحق عثمانی

یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے سے کمزور پر ہمیشہ سے ظلم ہی کرتا آیا ہے۔ یہی سلوک ازل سے انسان کا جانوروں کے ساتھ رہا ہے۔ کیونکہ جانور بول نہیں سکتا، عقلی طور پر انسان سے کمزور ہے۔ اسی لیے انسان اس کے حقوق پامال کرتا آیا ہے۔ جانوروں کے حقوق کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی غرض سے ہر سال 4 اکتوبر کو ” عالمی یوم حیوانات” یا “جانوروں کا عالمی دن” منایا جاتا ہے۔
جانوروں کا عالمی دن پہلی دفعہ 24 مارچ 1925 منایا گیا۔ جس کا آغاز اسائینولوجسٹ ہینرک زیمرمین نے کیا۔ یہ دن جرمنی کے شہر برلن کے اسپورٹ پیلس میں منایا گیا۔ جس میں تقریباً 5000 سے زائد افراد نے شرکت کی تھی ۔ دراصل یہ سرگرمی 4 اکتوبر کو ہی طے ہوئی تھی ۔ مگر اس کا انقعاد اپنی مقررہ تاریخ پر نہ ہوسکا۔ تاہم 1929 سے جانوروں کا عالمی دن 4 اکتوبر کو ہی منایا جا رہا ہے۔
اگر آپ پاکستانی ہیں تو آپ کسی بھی شہر کی شاہراہ پر چلے جائیں۔ آپ کو سڑک کے درمیان یا کسی کنارے پر کسی جانور کی لاش ضرور ملے گی۔ ہمارے سڑکیں قتل گاہ اور بے ہنگم ٹریفک جانوروں کی قاتل بن چکی ہے۔ حقوق اور تحفظ تو دور کی بات ہم تو جانوروں کے قدرتی ماحول کے بیچوں بیچ سڑکیں بنا کر انکی نسلیں مٹانے پر تلے ہوئے ہیں ۔پاکستان میں ہر سال لاکھوں جانور ٹریفک حادثات میں مرتے ہیں۔

انسان نہیں تو کیا ہوا

دل دھڑکتا میرا بھی ہے

مانا، کہ جی نہیں سکتا میں تمہاری طرح

پر اس زندگی پر حق ،

میرا بھی ہے !

اسلام نے جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔قرآن مجید میں جانوروں کی اہمیت اس طرح بیان کی گئی ہے۔
“وہ ذات جس نے جانور پیدا کیے ہیں جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی”۔(سورہ النحل آیت 6)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے عرب جہالت میں ڈوبا ہوا تھا۔ جہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ سوچیے وہاں جانوروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔
“زندہ جانوروں کا گوشت کاٹ کر الگ کرنا مردار اور اس کا کھانا ممنوع ہے”۔ (سنن ترمذی)

“جس شخص نے کسی چوپائے کی ناک کاٹی یا کوئی اور جسم کا حصہ کاٹا اس پر اللہ کی لعنت ہے”۔ (صحیح بخاری)
“حضرت ابن عمر وابوہریرہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ رسول الله نے فرمایا کہ ایک عورت کو ایک بلی کے سبب عذاب ہوا تھا کہ اس نے اس کو پکڑ رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی ،سو نہ تو اس کو کچھ کھانے کو دیتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ حشرات الارض، یعنی زمین کے کیڑے مکوڑوں سے اپنی غذا حاصل کر لے”۔(مسلم)
گو کہ پاکستان میں بھی جانوروں پر ظلم کے خلاف قانون موجود ہے ۔ جس کی سزا جرمانہ اور قید بھی ہے۔لیکن اس کے باوجود جانوروں پر ظلم، اور انکا بے دردی سے استحصال جارہی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر زی روح کو اس کے حقوق دیے جائیں۔
نوٹ :ہم دوست ویب سائٹ اور اسکی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply