نوازشریف، آصف علی زرداری اور عمران خان

میں نے آج تک کسی سیاسی جماعت کو جوائن نہیں کیا اور نہ ہی کسی بڑے سیاستدان کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ نہ ہی کبھی میرے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ میں سیاست میں حصہ لوں۔ میرا تجزیہ حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے جس کا مقصد پاکستان کی بہتری ہے۔ میری نواز شریف ، عمران خان اور آصف علی زرداری کے بارے میں رائے ان کے قول و فعل اور پالیسوں کی روشنی میں بنی ہے۔ عمران خان کو ایک وقت میں بہت ایماندار اور مسیحاء سمجھتا تھا مگر اس کے قول و فعل کے تضادات اور پالیسیوں نے میری رائے بدل دی میرے رائے کے مطابق وہ ایک مفاد پرست سیاستدان ہے جو اپنے مفادات کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس طرح میں آصف علی زرداری کو مسٹر ٹن پرسنٹ سمجھتا تھا مگر 1988 سے لیکر آج تک تمام ہھتکنڈے اس کی کرپشن ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کا پاکستان کھپے کا نعرہ اور اٹھارویں ترمیم نے زرداری صاحب کو ایک سچا جمہوریت پسند اور آئین کا پاسدار ثابت کیا ہے۔

میاں نواز شریف کیسا شخص ہے اسکا مجھے کوئی ذاتی تجربہ نہیں ہے۔ جھوٹ اور پروپیگنڈہ کے اس دور میں سچائی کو جاننا نہایت دشوار عمل ہے۔ مگر میں میاں نواز شریف کی خارجہ اور معاشی پالیسیاں کا ہمیشہ سے قدردان رہا ہوں۔ میاں نواز شریف کا پہلا دؤر حکومت سیاسی ناپختگی کا دور تھا جس میں بے نظیر بھٹو کے خلاف اسٹبلیشمنٹ کی ایماء پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے مگر اس کے باوجود فری مارکیٹ اکانومی ، نجکاری، ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کی پالیسیاں ہمیشہ میرے لیے کشش کا سبب رہی ہیں۔ جب میاں نواز شریف نے بینکوں کو پرائیویٹ سیکٹر کو بیچا تو ان پر شدید تنقید کی گئی اسطرح لاہور راولپنڈی موٹروے کے منصوبے پر اعتزاز احسن جیسے اسٹبلشمنٹ کے مہرے نے بے حد تنقید کی حالانکہ سڑکیں، موٹروے، پل، ریلوے، توانائی کے ذرائع میں ترقی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں راولپنڈی لاہور موٹروے اس سمت پہلا قدم تھا۔ واجپائی کے ساتھ انڈیا پاکستان تعلقات میں بہتری لانے کی کاوشیں پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت تھیں مگر امن دشمن اور مفادات پرست ٹولے نے ان کاوشوں کو ناکام بنایا۔ ایٹمی دھماکے کرنا اور سی پیک لانا پاکستان کو معاشی اور دفاعی طور پر ناقابل تسخیر بنانے والے اقدامات تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اور انڈیا سے بگڑے ہوئے تعلقات میں بہتری کے لیے نواز شریف کی کاوشیں پاکستان کے مفادات کو محفوظ بنانے کی طرف پیش رفت تھی مگر مفادات پرست ٹولے نے ان پالیسیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

امید ہے کہ موجودہ حکومت نواز شریف کی پالیسیوں کو ازسر نو شروع کرئے گی اور پاکستان کو معاشی اور دفاعی طور مستحکم کرنے میں ذرا بھر کوتاہی نہیں کرئے گی۔

میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اپنا تجزیہ حقائق کی روشنی میں پیش کروں کسی کی دل شکنی مقصود نہیں ہے مگر اس کے باوجود اگر کسی کو طبع پر ناگوار گزرے تو معذرت کا طلبگار ہوں۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ ہر شخص اپنے رائے رکھنے میں آزاد ہے اور میں دوسرا کے حق رائے کو صدق دل سے تسلیم کرتا ہوں اور نہ ہی مجھے یہ زعم ہے کہ میری رائے ہی حرف آخر ہے۔
نوٹ: ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply