امراض قلب کی علامات

امراض قلب کی خطرناک علامات

امراض قلب کی خطرناک علامات:

انسان کے تمام اجزاء اس کے لئے بے حد اہم ہیں. ان اعضاء میں سب سے زیادہ اہمیت دل کو حاصل ہے ۔ صحت مند اور پاکیزہ دل تمام معاشرے کے لئے اہم ہوتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ دل سے روحانی مرض نکالنے کے ساتھ ساتھ اس کا طبعی اعتبار سے بھی خیال رکھا جائے ۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت ایک کروڑ 80 لاکھ افراد دل کی بیماریوں کا شکار ہیں . ان میں سے اکثر دل کی بیماری کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 31 فیصد اموات دل کی بیماری کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ اعدادوشمار کے مطابق ہر سال 8 کھرب 64 ارب ڈالر کی رقم دل کی بیماریوں پر خرچ ہوتی ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق 2030 تک دل کی بیماری سے مرنے والوں کی تعداد دو کروڑ تیس لاکھ سے بھی اوپر جا سکتی ہے ۔ دل کے امراض کی وجہ سے موت کا شکار ہونے والوں میں میں پاکستان کا نمبر 18 ہے ۔

دل کی امراض کی چند اہم اور خاموش علامات ہیں ۔ جن کو ہم میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔ یہ علامات درج ذیل ہیں ۔

اگر آپ بار بار تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں , تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں تو یہ آپ کے لئے خطرے کی بات ہے ۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دل خون کو مکمل طور پر باقی تمام جسم میں نہیں پہنچا رہا ۔

یہ بھی پڑھیں
کمر درد کا علاج

جو لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوتے ہیں. ان کے لیے یہ خطرے کی بات ہے کیونکہ ہائی بلڈ پریشر انسان کو دل کے مرض میں مبتلا کر دیتا ہے ۔

بعض اوقات زکام یا نزلہ کی وجہ سے بھی کھانسی ہوتی ہے .لیکن اگر کوئی شخص لگاتار یا مسلسل کھانسی کا شکار ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دل کا خصوصی خیال رکھے ۔ مسلسل اور لگاتار کھانسی بھی دل کے مرض کا باعث بنتی ہے ۔

اگر ٹانگوں اور پیروں پر سوجن ہو جاتی ہو تو پھر بھی دل کے مسائل ہو سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں آپ کو کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے ۔

جن لوگوں کو نیند کے دوران بعض اوقات سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہو , انہیں اپنے دل کی صحت پر خصوصی توجہ دینی چاہئے .کیونکہ نیند میں سانس لینے میں دشواری آئے تو، اس سے ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے ۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ
جن لوگوں کو دل کے مسائل ہیں. ان میں سب سے پہلی علامت یہ ظاہر ہوئی تھی کہ ان کے جبڑے میں درد یا سوجن رہی تھی ۔

اگر کسی انسان, خاص طور پر خواتین کی گردن کو درد ہو تو یہ بات بھی دل کے لیے خطرناک ہوتی ہے ۔

اگر کسی شخص کا دل زور زور سے دھڑکتا ہو ۔ اس کے دل کے چلنے کی رفتار نارمل نہ ہو .تو ڈاکٹر سے فورا رجوع کرنا چاہیے ,تاکہ دل کے معاملات کو شروع میں ہی کنٹرول کیا جا سکے ۔

Leave a Reply