گرمی کی شدت

گرمی کی شدت اور امراض قلب

موسم کوئی بھی ہو اس کی شدت جسم میں مختلف تبدیلیاں لاتی ہے ۔ کبھی یہ تبدیلیاں مثبت ہوتی ہیں تو کبھی منفی ہوتی ہیں ۔ خاص طور پر دل کے مریضوں کے لئے یہ موسم انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سخت سردیوں میں ہی دل کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ سخت گرمی کا موسم بھی دل کے مریضوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے ۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی بڑھنے سے دل کی بیماریوں میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ غریب ملکوں میں رہنے والے بزرگ افراد اس گرمی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی بیماریوں میں اضافے کا معاملہ صرف گرمی کی شدید لہروں تک محدود نہیں بلکہ گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت بڑھنے سے بھی دل کے امراض میں اضافہ ہوتا ہے ۔ یہ خطرہ ان بزرگ افراد کےلیے زیادہ ہوتا ہے ۔ جن کے پاس گرمی کی شدت سے بچنے کےلیے روم کولر اور ایئرکنڈیشنر موجود نہیں ہوتے ۔

دل کے مریضوں کے لیے کہر آلود، گرم اور سرد موسم انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم کو بہت زیادہ ٹھنڈا اور بہت گرم نہیں رہنا چاہیے کیونکہ موسم کی یہ دونوں شدتیں دل کے عمل کو متاثر کرتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی جسم کا درجہ حرارت جب زیادہ بڑھ جاتا ہے تو انسانی جسم کا پروٹین گرمی کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔

جب گرمی شدت اختیار کر جاتی ہے تو انسانی جسم دو طرح سے اس کو خارج کرتا ہے ۔ ایک پسینے کی صورت میں اور دوسرا شعاعوں کی صورت میں ۔ جبکہ یہ دونوں صورتیں دل پر دباؤ میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں ۔ جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور پمپنگ سخت ہو جاتی ہے ۔ گرمی کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے جو دل کے لیے انتہائی خطرناک ہوتا ہے ۔

گرمی کے موسم میں دل دورانِ خون کو تیز کر دیتا ہے اور جسم کو اعتدال پر لانے کے لئے پسینہ خارج کرتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں جسم سے پوٹاشیم ، سوڈیم اور دوسرے اہم معدنیات نکل جاتے ہیں ۔ جو اعصابی نظام کو چلانے کے لئے بے حد ضروری ہیں۔

طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دل کے مریضوں کو گرمیوں کے دوران زیادہ گرمی میں کام کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ ان کی صحت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔دل کے مریضوں کو اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے پانی کا استعمال بھی بڑھا دینا چاہیے۔ تاکہ جسم ٹھنڈا رہ سکے۔اس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے ۔ مرچ مصالحوں والے کھا نوں اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ دال ، سبزی، پھل اور سلاد کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے ۔ ایسے پھل استعمال کرنے چاہئیں جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو ۔

گرمی میں دل کے مریضوں کو زیادہ محنت طلب کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ دل کے مریضوں کو ایسے کام جس سے جسم میں مزید گرمی بڑھ جائے ۔ ایسے کاموں سے گریز کرنا چاہیے۔ دل کے مریضوں کو پانی اور فریش جوسز کا استعمال کرنا چاہیے ۔ گرمی کے موسم میں چائے کافی وغیرہ کم سے کم استعمال کرنی چاہیے ۔ کولڈ ڈرنک کے استعمال سے بھی بچیں ۔

یہ بھی پڑھیں
امراض قلب ، ذیابیطس ، معدے ، اور رسولیوں جیسے امراض کا حل صرف ایک پھل

Leave a Reply