گردے کی پتھری

گردے کی پتھری کی چند وجوہات

گردے میں پتھری بننے کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں جو درج ذیل بھی ہو سکتی ہیں۔

مرغی اور سرخ گوشت کا بہت زیادہ استعمال گردے کی پتھری کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔ طبی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے افراد میں گردے کی پتھری کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں جو گوشت بہت زیادہ کھاتے ہیں۔

روزمرہ کی غذا میں نمک کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے سے بھی کیلشیم گردوں میں اکھٹی ہونے لگتی ہے ۔ جس سے گردوں میں پتھری بننے کے خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ گردوں میں پتھری کیلشیم کی وجہ سے بنتی ہے ۔ لیکن کیلشیم کا استعمال بالکل ترک کر دینا بھی عقل مندی نہیں ہوتا ۔ کیونکہ جو لوگ ہر روز مطلوبہ مقدار میں کیلشیم لیتے ہیں ۔ ان کے گردوں میں پتھری بننے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر روز مرہ کی غذا میں کیلشیم کی کمی ہو گئی تو دوسرے کیمیکل کیلشیم کے ساتھ مل کر پتھری بننے کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں ۔

آنتوں کے مختلف امراض بھی گردوں میں پتھری بننے کا سبب بن سکتے ہیں۔ آنتوں کے مرض میں مبتلا زیادہ تر افراد کو ہیضہ لاحق ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ان کے جسم میں پانی کی کمی رہ جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے پتھری کا باعث بننے والے کیمیکلز کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا پتھری بننے کے خطرات کو کم کر دیتا ہے۔ کچھ لوگ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف سافٹ ڈرنکس اور میٹھے مشروبات استعمال کرتے ہیں ۔ ان میٹھے مشروبات اور سوفٹ ڈرنکس سے نہ صرف پانی کی کمی پوری نہیں ہوتی بلکہ پتھری بننے کے خطرات میں بھی بڑھ جاتے ہیں ۔

مالٹے، گریپ فروٹس، لیموں اور دیگر ترش پھلوں میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں ۔ جو پتھری بننے کے خطرات کو انتہائی کم کر دیتے ہیں۔
لیموں کا روزانہ مناسب مقدار میں استعمال پتھری کی وجہ بننے والے کیمیکلز کی تعداد کو کم کردیتا ہے۔

یہ تمام وجوہات گردے کی پتھری کے خطرات کو بڑھا دیتی ہیں۔ اس لیے ہمیں ان وجوہات سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ۔

یہ بھی پڑھیں
گردے کے امراض کی ابتدائی علامات

گردے کی پتھری کی چند وجوہات” ایک تبصرہ

Leave a Reply