سب سے بڑا سبب

ذہنی تناؤ خطرناک بیماریوں کا سب سے بڑا سبب

روزگار کی فکر ہو یا کوئی اور پریشانی یا پھر کسی بھی قسم کا کوئی صدمہ ہو ، ذہنی تناؤ کا سامنا تو ہم میں سے ہر کسی کو ہی ہوتا ہے۔لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذہنی تناؤ کا شکار رہنے والے افراد کا مدافعتی نظام تیزی سے کمزور ہو جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ افراد کینسر، امراض قلب اور مختلف قسم کے خطرناک امراض کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ۔ حال ہی میں امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے ثابت ہوئی ہے ۔

یہ بات تو ہم میں سے سبھی لوگ جانتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مدافعتی نظام قدرتی طور پر انتہائی کمزور ہونے لگ جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے بڑھاپے میں مختلف امراض کا خطرہ بے حد بڑھ جاتا ہے۔لیکن امریکہ میں ہونے والی اس نئی طبی تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ کیا ذہنی تناؤ واقعی بہت حد تک مدافعتی نظام پر اثرات مرتب کردیتا ہے۔ امریکہ میں ہونے والی اس طبی تحقیق میں 50 سال سے زائد عمر کے 5744 افراد کو شامل کیا گیا تھا ۔ ان افراد کے خون کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی اور ان افراد سے ذہنی تناؤ کے حوالے سے مختلف سوالات بھی پوچھے گئے تھے ۔ پھر ان افراد کے جوابات کا موازنہ ان کے خون کے نمونوں میں ٹی سیلز کی سطح سے بھی کیا گیا تھا ۔

اس طبی تحقیق میں ذہنی تناؤ کے مختلف واقعات اور ان واقعات کی وجہ سے مدافعتی نظام میں کمزوری کے درمیان تعلق کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ تحقیق کرنے والے محققین نے یہ بھی بتایا تھا کہ جو لوگ زیادہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں ان کا مدافعتی نظام زیادہ عمر کا ہوجاتا ہے اور ان کا مدافعتی نظام کسی نئی بیماری سے مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ تیار نہیں ہو پاتا۔

محققین نے اپنی تحقیق میں مزید یہ بھی کہا ہے کہ ایسے افراد میں ٹی سیلز بھی انتہائی کمزور ہوجاتے ہیں۔ ٹی سیلز مختلف وائرسز کے ساتھ ساتھ جسم میں موجود اس طرح کے خلیات کا صفایا بھی کر دیتے ہیں جو مزید تقسیم تو نہیں ہوسکتے لیکن یہ خلیات مرتے بھی نہیں ہیں ۔ ان خلیات کو زومبی سیلز بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ خلیات متعدد اقسام کے پروٹینز کو بھی خارج کرتے ہیں ۔ جو ہمارے ٹشوز کو متاثر کرتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں دائمی ورم کا امکان بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔ دائمی ورم مختلف امراض جیسا کہ امراض قلب، بلڈ شوگر ، بلڈ پریشر، کینسر اور دیگر خطرناک امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ اسی طرح ذہنی تناؤ انسان کو ہڈیوں کے بھربھرے پن کے مرض میں مبتلا کر دیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ انزائمز اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بھی بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرچہ تناؤ کی کچھ وجوہات پر قابو پانا عام طور پر ممکن نہیں ہوتا لیکن پھر بھی ان پر قابو پانے کی کوشش تو کی جا سکتی ہے تاکہ اس ذہنی تناؤ کو کم سے کم کیا جا سکے ۔

محققین کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ تناؤ کا سامنا کرنے والے افراد کی غذائی عادات بھی صحت مند افراد کی طرح صحت مند نہیں رہتیں ۔ جب کہ ذہنی تناؤ کے شکار افراد ورزش سے بھی دور رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ جس سے مدافعتی نظام پر اثر پڑتا ہے ۔ محققین کا مزید کہنا تھا کہ اگر درمیانی عمر میں ہم غذا اور ورزش کی عادات کو بہتر بنا لیں تو اس سے ذہنی تناؤ کی وجہ سے مدافعتی نظام پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں
منقہ کا پانی پینے کے طبی فوائد

Leave a Reply