ثابت دھنیا سے بلڈ پریشر

ثابت دھنیا سے بلڈ پریشر کنٹرول کریں

ہائی بلڈ پریشر ایک انتہائی خطرناک بیماری ہے جو خاموشی کے ساتھ آپ کے دل اور دماغ پر اثر کرتی ہے ۔ اگر بلڈ پریشر جیسے خطرناک مرض کا مستقل طور پر علاج نہ کیا جائے تو یہ مزید خطرناک صورت حال بھی اختیار کر جاتی ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ ہائی بلڈ پریشر جیسی خطرناک بیماری کا علاج گھر میں موجود مختلف اجزاء سے بھی کر سکتے ہیں ۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح ہم ثابت دھنیا کا استعمال کر کے ہائی بلڈ پریشر جیسی خطرناک بیماری کو کنٹرول کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ثابت دھنیے کا استعمال متعدد بیماریوں کے علاج کے طور پر کیا جاتا ہے ۔

جن میں امراض قلبِ ، نظام ہاضمہ ، آنتوں کے امراض ، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر وغیرہ جیسے خطرناک امراض شامل ہیں ۔ ثابت دھنیا کے استعمال سے جسم کو انفیکشن کے خلاف لڑنے میں بہترین مدد مل جاتی ہے ۔ دھنیے کے بیج میں موجود اینٹی مائکروبیل مرکبات اور خشک ثابت دھنیا کی اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات انسان کی جلد کی صحت کے لیے بھی بہترین ہوتی ہیں ۔

ثابت دھنیے سے تیار شدہ پانی استعمال کرنے سے ہائی بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ طبی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ ثابت خشک دھنیے کے پانی کا استعمال دل کے لئے بے حد مفید ہوتا ہے اور یہ مختلف امراض قلب سے محفوظ رکھتا ہے ۔ ایک مطالعے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ خشک ثابت دھنیا ہمارے خون کی نالیوں میں موجود ہر قسم کے تناؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر صبح سویرے نہار منہ خشک ثابت دھنیے کا پانی پی لیا جائے تو ہائی بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن خشک دھنیے کا پانی کس طرح تیار کیا جائے اور اس پانی کو کس طرح سے استعمال میں لایا جائے یہ جاننا سب سے پہلے اور انتہائی ضروری ہوتا ہے ۔

ثابت خشک دھنیے کا پانی بنانے کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہے ۔
ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چمچ ثابت خشک دھنیا بِھگو کر رکھ دیجیے اور پھر رات بھر اُس پانی کو ایسے ہی چھوڑ دیں ۔ اگلی صبح اٹھ کر اس پانی کو چھان کر نہار منہ پی لیجیے ۔ بس اس معمولی سے عمل سے آپ کا بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر بھی مکمل طور پر کنڑول رہے گا اور آپ مختلف امراض قلب سے بھی محفوظ رہیں گے ۔ یہ پانی آپ کی مجموعی صحت کے لیے بھی بہترین ہے ۔

یہ بھی پڑھیں
املی کے پتے شوگر اور بلڈ پریشر کے علاج میں کس طرح مفید ہیں ؟

Leave a Reply