سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟ جانئیے

لاہور (ہم دوست نیوز)سردیوں میں یوں تو صحت کےحوالے سےمتعدد پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں جیسے عمومی طور پر نزلہ زکام،گلے کی تکلیف،فلو اور دیگر موسمی بیماریاں وغیرہ لیکن اس میں سب سےاہم اورخطرناک معاملہ امراض قلب ہے۔

دراصل درجہ حرارت کےگرتے ہی خون کی شریانیں تنگ ہوجاتی ہیں جس سےاسٹروک یا ہارٹ اٹیک کےخطرات بڑھ جاتےہیں۔

ماہرین کےمطابق سردیوں میں شریانوں کی اسی تنگی کی وجہ سےدل کےپٹھوں کو خون پہنچانے والی نالیاں بھی سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے سینے میں شدید قسم کی تکلیف ہوتی ہےجو کہ دل کا دورہ یا امراض قلب کا محرک ہوتی ہیں۔

ایک نئی تحقیق کےمطابق موسم سرما میں بالخصوص صبح سویرے جس وقت سردی زیادہ محسوس کی جاتی ہے اس وقت ہارٹ اٹیک اور امراض قلب سےمتعلق مسائل زیادہ سامنے آتے ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہےکہ سردیوں میں ہی امراض قلب کےمسائل کیوں کر زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ اس حوالے سےماہرین کا کہنا ہےکہ سردیوں میں دل کو خون کی اتنی ہی مقدار پمپ کرنا ہوتی ہے جتنا عمومی طور پر کیا جاتا ہے،لیکن اس کےلیے زیادہ اور سخت محنت درکار ہوتی ہےجس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھنے اور شریانوں کی تنگی کی وجہ سے ہارٹ اٹیک جیسےمسائل سامنےآتےہیں۔

ماہرین کےمطابق جسم کےباہر کا درجہ حرارت کا بلڈ پریشر کےساتھ متضاد تعلق ہے،جس کی وجہ سے سردیوں میں شریانوں کےسکڑنے کی وجہ سےدل کو خون پمپ کرنے کےلیے زیادہ سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلڈ پریشر اور امراض قلب سے محفوظ رہنے کیلئے ساگودانہ استعمال کریں
خون کو دور دور تک جسمانی اعضا جیسےکہ جلد،ٹانگوں اور دیگر اعضا تک پہنچانا ہوتا ہے۔اس کےعلاوہ سرد موسم میں ایک اور مسئلہ بلڈ کلوٹنگ کا بھی ہوتا ہے اور یہ سب ملکر خطرے کا باعث بنتے ہیں۔

Leave a Reply