Ring Road

راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی انکوائری شروع

اسلام آباد ( ھم دوست نیوز) محکمہ اینٹی کرپشن کے ترجمان نے کہا کہ راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی انکوائری شروع کر دی ہے ، انکوائری ٹیم میں قانونی ، تکنیکی اور معاشی ماہرین شامل ہیں ، تحقیقات کےبعد سکینڈل کے حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں گے ۔

اس سے قبل راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات کے لئے پنجاب حکومت نے 3 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جو کمشنر راولپنڈی سید گلزار حسین شاہ، یڈیشنل کمشنر راولپنڈی جہانگیر احمد اور ڈپٹی کمشنر انوار الحق پر مشتمل تھی۔ سید گلزار حسین شاہ کمیٹی کا کنوینئر مقرر کیا گیا تھا۔

کمیٹی کو 3 ٹی او آر کے تحت تحقیقات کرنا اور اس سلسلے میں 3 الگ الگ رپورٹس پیش کرنا تھی۔ پہلی رپورٹ میں کمیٹی کو منصوبے میں کمیشن اور رشوت خوری کے الزامات کو ثابت کرنا تھا۔ دوسری رپورٹ میں اس منصوبے میں کی گئی کرپشن کی وجہ بننے والی پالیسی سقم کی نشاندہی کرنا تھی جب کہ تیسری رپورٹ میں راولپنڈی کے لئے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی تجاویز دینا تھی۔

کمیٹی نے اپنی پہلی رپورٹ تیار کی لیکن اس رپورٹ پر کمیٹی ہی کے ایک رکن سابق ڈپٹی کمشنر انوار الحق نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دستخط سے انکار کردیا۔ جس پر حکومت نے انہیں ناصرف کمیٹی سے نکال دیا بلکہ ان کا تبادلہ بھی کردیا۔ انوار الحق کے تبادلے کے بعد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی عملی چور پر ٹوٹ گئی تھی۔

واضح رہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹ وزیرمملکت شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کے درمیان کشمکش کے باعث متنازعہ ہوچکا ہے اور وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا تھا کہ کچھ وزراءنے ذاتی اثرورسوخ کے ذریعے پرانے ڈیزائن میں مزید تین نئے انٹرچینج شامل کروا کر اپنی زمینوں کو قیمتی بنایا۔یہ بھی یاد رہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ سیکنڈل میں نام آنے پر وزیراعظم کے قریبی دوست اور معاون خصوصی ذلفی بخاری نے معاملے کی مکمل تحقیقات تک اپنے عہدے سے استعفیٰ دےدیا تھا جبکہ اس سیکنڈل میں وفاقی وزیر غلام سرور خان کا نام بھی سامنا آیا تھا تاہم انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی ثابت کردے کہ انہوں نے اس پراجیکٹ سے کوئی فائدہ اٹھایا ہے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے ۔

Leave a Reply