پشاور کا وہ تھانہ جس کا پورا عملہ معطل ، ایس ایچ او کو گرفتار

پشاور
تلخ کلامی کے بعد دکان داروں پر اسلحہ تاننے والے لڑکے کو دکان داروں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا بعدازاں حوالات سے لڑکے کی پھندا لگی لاش ملی، گورنر اور وزیراعلیٰ کے نوٹس پر پورا تھانہ معطل کردیا گیا جبکہ ایس ایچ او کو حراست میں لے لیا گیا، وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری اور متعلقہ تھانے کے ذمہ دار اہل کاروں کو فوری معطل کرنے کا حکم دے دیا۔وزیراعلی کے نوٹس لینے کے بعد آئی جی پی فوری طور پر متعلقہ تھانے پہنچ گئے اور متعلقہ محرر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ لڑکے کی ہلاکت پر تھانہ غربی کا پورا عملہ معطل ہوگیا جب کہ ایس ایچ او دوست محمد کو حراست میں لے لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق تھانہ غربی کی حدود لیاقت بازار میں دکان داروں کے ساتھ تلخ کلامی پر ورسک روڈ کے رہائشی 18 سالہ شاہ زیب ولد خیال اکبر نے دکان داروں پر اسلحہ تان لیا جس پر انہوں نے موقع پر شاہ زیب کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔مقامی پولیس نے شاہ زیب کے خلاف 15AA کے تحت ایف آئی آر درج رجسٹرڈ کی بعدازاں شاہ زیب کی حوالات میں پھندا لگی ہوئی لاش ملی جس کے بارے میں پولیس نے کہا ہے کہ ملزم نے اپنی جیکٹ سے خود کو لٹکا کر اپنی جان لے لی۔

اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ شاہ زیب کو پولیس رویے کا دکھ تھا ؟ یا گرفتاری ؟ یاکوئی اور وجہ؟ جس کی اعلی حکام کی جانب سے تفتیش کی جارہی ہے۔

گورنر کا نوٹساس حوالے سے واقعے کا گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رابطہ کیا اور واقعے کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ گورنر نے استفسار کیا کہ بتایا جائے طالب علم کو حراست میں رکھنے کی کیا وجوہات تھیں؟ ایسی کیا وجوہات پیش آئیں کہ طالب علم کو مبینہ طور پر خودکشی کرنی پڑگئی۔

دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی واقعے کا سخت نوٹس لے لیا اور آئی جی پی کو واقعے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ پولیس تشدد سے طالب علم کی ہلاکت واقع ہونے کی صورت میں ملوث اہل کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور انہیں عبرت ناک سزا دی جائے گی، متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

وزیراعلی محمود خان نے کہا کہ معاملے کی ہر لحاظ سے شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کروائی جائیں گی، ملوث اہل کاروں کو نشان عبرت بنائیں گے۔

Leave a Reply